Jadid Khabar

راجدھانی دہلی کا محاصرہ

Thumb

10/اکتوبر کی دوپہر جب میں یہ سطریں قلم بند کررہا ہوں تو دہلی میں غیراعلانیہ ایمرجنسی کی صورتحال ہے۔ میں اس شہر میں گزشتہ نصف صدی سے مقیم ہوں اور میں نے کبھی پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے شہر کا ایسا محاصرہ نہیں دیکھا۔ جنتر منتر پر جہاں آج سے کاکروچ جنتا پارٹی نے گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا، پرندے کو بھی پرمارنے کی اجازت نہیں ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے احتجاجی دھرنے کی جو اجازت طلب کی تھی وہ پہلے ہی ردکی جاچکی تھی اور10/اکتوبر کی صبح جب اس کے نوجوان لیڈر ابھجیت دپکے اور ان کے ساتھی ممبئی سے دہلی پہنچے تو انھیں ہوائی جہاز ہی میں  گرفتار کرلیا گیا۔دہلی میں ان کے دیگر ساتھیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو پہلے ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ نئی دہلی کی کسی بھی سڑک پر پولیس کو جو کوئی نوجوان نظر آیا اسے ’کاکروچ‘سمجھ کر گرفتار کرلیا  گیا۔ نئی دہلی آنے والی 250 ٹرینیں کل ہی منسوخ کردی گئی تھیں اور دہلی کی سرحدیں پوری طرح سیل تھیں۔ابھیجت دپکے نے درست ہی کہا ہے کہ ”مرکزی حکومت جین زی سے ڈر رہی ہے۔ اسے نوجوانوں سے اتنا ڈر لگتا ہے تو پورا ملک ہی بند کردے۔“ وہیں ان کے ساتھی سوربھ داس نے  الزام عائد کیا ہے کہ ”بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکن نظر بند ہیں۔ ملک میں ایمرجنسی لگادی گئی ہے اور دہلی کو قلعہ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ ایمرجنسی میں بھی ٹرینیں بند نہیں کی گئی تھیں۔“ انھوں نے کہا کہ”ہماری گرفتاری کے باوجود احتجاج جاری رہے گا۔“
 حکومت کی مشنری نے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کو ناکام کرنے کے لیے جو جابرانہ طریقے اختیارکئے، ان کی کوئی نظیر حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ دہلی میٹرو کے 57/اسٹیشنوں پر آمد ورفت بند کردی گئی تھی اور لاکھوں مسافروں کو گھروں میں قید رہنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ گزشتہ روز جب سپریم کورٹ پہنچا تو اس نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ”حکومت مکھی مارنے کے لیے ہتھوڑے کا استعمال نہ کرے۔‘نوجوانوں کے لیے ’کاکروچ‘کے بعد ’مکھی‘ دوسرا لفظ ہے جو آنریبل سپریم کورٹ نے ناراض نوجوانوں کے لیے استعمال کیا ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ مودی سرکار نے نوجوانوں کے حوصلوں کو توڑنے کے لیے طاقت کا جو بے تحا شا استعمال کیا ہے، اس کے نتائج اچھے برآمد نہیں ہوں گے۔ قدرتی اصول یہ ہے کہ جس چیز کو دبانے کی جتنی کوشش کی جاتی ہے وہ اتنی ہی  طاقت سے ابھرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ نظام کی خرابیوں سے نوجوان دل برداشتہ ہیں اور وہ نظام کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں، لیکن حکومت انھیں باغی سمجھ کر ٹھکانے لگانے کی ناکام کوشش کررہی ہے۔ اس بار حکومت ایسا کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھی جو 20/ جولائی کو جنتر منتر پر شروع ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بے مثال دھرنے سے پیدا ہوا تھا اور جس کے نتیجے میں حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے۔ وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اسی احتجاج کا نتیجہ تھا۔ 10/اکتوبرکا  احتجاج چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے لیے تھا، جنھوں نے الیکشن کمیشن کو بی جے پی کے ذیلی دفتر میں تبدیل کرکے عوام کے جمہوری حقوق پر ڈاکہ زنی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف پورے ملک میں ایک موثر تحریک چھڑگئی ہے۔ حکومت اس تحریک کو کچلنے پر آمادہ ہے جس کا اظہار گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران انڈیا اتحاد کے لیڈروں کے ساتھ پولیس کے رویہ سے بھی ہواہے۔’انڈیا اتحاد‘ کے قائدین نے ووٹ چوری کے مسئلہ پر صدر جمہوریہ سے بھی ملاقا ت کی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دوران راجدھانی دہلی کی سڑکوں پر عوامی احتجاج کی جو تاریخ لکھی جارہی ہے، اس کی نظیر آزاد ہندوستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ بعض مناظر تو غلامی کے اس دور کی یاد دلاتے ہیں جب مجاہدین آزادی انگریزوں سے لوہا لیتے تھے۔ کوئی بھگت سنگھ، کوئی اشفاق اللہ خاں اور کوئی رانی کی جھانسی کے رنگ میں نظر آرہا ہے۔یہ اس دورکے کردار ہیں  جب ملک انگریز سامراج کے آ ہنی پنجوں میں تھا اوربولنے کی آزادی حاصل نہیں تھی، لیکن آج جب ہم آزاد ہیں تو سب سے بڑا خطرہ اس ووٹ کی طاقت پر منڈلارہا ہے جو جمہوریت کا سب سے بڑا منتر ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب  ووٹ کا حق ہی چھین لیا جائے گا تو ملک کے عوام کے پاس باقی کیا بچے گا۔ 
الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے ظالمانہ نظام کے تحت اب تک 13/کروڑ لوگوں سے ووٹ دینے کا حق چھین لیا ہے اور ان کے سروں پر اپنی شہریت ثابت کرنے کی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ ملک کے غریب عوام جو نان شبینہ کے محتاج ہیں قطاروں میں لگے ہوئے خود کو ہندوستانی ثابت کرنے کے تکلیف دہ عمل سے گزرر ہے ہیں۔ الیکشن کمیشن ان کے سروں پر ایسے ہتھوڑے برسا رہا ہے کہ عوام کے سوچنے اور سمجھنے کی طاقت ہی کمزور ہوگئی ہے۔ حالانکہ الیکشن کمیشن کی دھاندلیوں کے خلاف آوازیں مسلسل اٹھتی  رہی ہیں، لیکن ان آوازوں میں اچانک ’انڈین ایکسپریس‘ کی اس رپورٹ سے جان پڑگئی ہے جس میں یہ بتایا گیا کہ سہ رکنی الیکشن کمیشن میں تمام فیصلے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ہی لے رہے ہیں اور باقی دوالیکشن کمشنروں کو برف میں لگا دیا گیا ہے۔
 ظاہرہے الیکشن کمیشن تین ارکان پر مشتمل ایک آئینی ادارہ ہے جس میں ہر فیصلہ مشترکہ طورپر لینا لازمی ہے، لیکن سب کچھ گیانیشن کمار کی چشم ابرو کے اشارے پر  ہونے کی وجہ سے اس ادارے کی آئینی حیثیت ہی ختم ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ  نے بھی مداخلت کی ہے اور الیکشن کمیشن سے تیکھے سوال پوچھے ہیں۔ سپریم کورٹ میں سماعت سے ایک روز پہلے سپریم کورٹ کے ایک معزز جج جسٹس اچل بھوئیاں نے حیدرآباد میں کہا تھا کہ’’کروڑوں ہندوستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے والا کوئی بھی عمل من مانا اور آئینی نظام کے خلاف ہے۔‘‘جسٹس بھوئیاں نے حیدرآباد کی نلسار یونیورسٹی میں منعقدہ ایک یادگاری خطبہ میں کہا کہ ”کسی بھی قسم کی جوابی دلیل شہریوں کے حق رائے دہی کو چھیننے کے عمل کو جائز قرار نہیں دے سکتی۔‘‘جسٹس بھوئیاں نے یہ بھی کہا کہ”اگر کسی عمل کے نتیجے میں لاکھوں ہندوستانی شہری حق رائے دہی سے محروم ہوجا تے ہیں اور اپنے ہی ملک میں دوسرے درجے کے شہری بن جاتے ہیں تو ایسا عمل بنیادی طورپر من مانی پر مبنی ہوتا ہے۔یہ آئین کی روح پر کاری ضرب ہے اور میں یہ کہنے کی حد تک جاؤں گا کہ یہ اس آئینی نظام کی نفی ہے جسے ہم نے ہندوستان کے آئین کے تحت اختیار کیا ہے۔“
جسٹس بھوئیاں کی ان خدالگتی باتوں پر سپریم کورٹ کے بعض موجودہ اور سابق ججوں نے یہ کہہ کر اعتراض درج کرایا ہے کہ جب معاملہ خود سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے تو ایک فاضل جج کو ایسا بیان دینے سے گریز کرنا چاہئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ گیانیش کمار کے خلاف اتنے ثبوتوں کے باوجود سپریم کورٹ کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے گریزاں ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بنگال میں جب ایس آئی آر کے دوران لاکھوں لوگوں  کو حق رائے دہی سے محروم کرکے الیکشن کرایا گیا اور یہ معاملہ  سپریم کورٹ پہنچا تو اس نے کوئی فیصلہ صادر کرنے کی بجائے اسے الیکشن ختم ہونے تک ٹال دیا جس کے نتیجے میں سرکار ہی بدل گئی۔ 
یہی وجہ ہے کہ اس معاملے میں الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔ ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹوں سے بڑے پیمانے پر نام حذف کئے جانے اور اپیلوں پر فیصلے میں ہورہی تاخیر سے شفافیت کے حوالے سے کئی سنگین سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ بنگال میں اب تک 22/لاکھ شہری اپیل کرچکے ہیں۔ جن اپیلوں کی سماعت ہوئی ان میں 93/فیصد ووٹر جائز قرار پائے۔ اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ بہار میں ووٹنگ کے دوران رائے دہندگان کے کھاتوں میں حکومت کو نقد رقم منتقل کرنے کی اجازت دی گئی۔آسام میں وزیراعلیٰ بسوا سرما کی کھلے عام نفرت انگیز تقریروں پر الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ منظورشدہ سیاسی جماعتوں کے انتخابی نشان چھین کردل بدلی کو جائز ٹھہرانے کی کوشش ہوئی اور انتخابی پروگرام کو برسراقتدار جماعت کے حق میں تبدیل کیا گیا۔ اس لیے الیکشن کمیشن اپنے کام کاج کے تعلق سے اٹھ رہے سنگین سوالات کو محض سیاسی الزام تراشی کہہ کر خارج نہیں کرسکتا۔ اس کے خلاف جو عوامی مقدمہ قائم ہوا ہے وہ ٹھوس بنیادوں پر مبنی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک گیر سطح پر ووٹ چوری اور ایس آئی آر کے خلاف زبردست مظاہرے ہورہے ہیں اور ایک عوامی طوفان کروٹیں لے رہا ہے۔ تبدیلی کی آہٹ صاف محسوس ہورہی ہے۔
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے گزشتہ منگل کو  300 ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ نکالا۔ وہ الیکشن کمشنر سے ملنا چاہتے تھے لیکن پولیس نے انھیں وہاں تک پہنچنے سے پہلے ہی روک لیا۔ انھوں نے درمیان میں آکا شوانی کے دفتر کے احاطہ میں دھرنا شروع کردیا ہے۔ رات گئے پولیس نے زورزبردستی کرکے راہل گاندھی اور ان کی بہن پرینکا گاندھی کو دھکا مکی اور زورزبردستی کرکے حراست میں لیا۔ انھیں گھسیٹا بھی گیا۔ تب رات گئے راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا ’جمہوریت کے غداروں کو بچانے کے لیے بچی کھچی جمہوریت کو گھسیٹا گیا ہے۔ سب کا حساب ہوگا اور ایک بھی غدار بخشا نہیں جائے گا۔‘کاکروچ جنتا پارٹی 10/ اکتوبر سے جنتر منتر پر گیانیش کمار کے خلاف مورچہ سنبھالنے کا جو اعلان کیا تھا، اسے طاقت کے بل پر کچلنے کی کوشش کی گئی ہے۔لیکن حکومت کو یاد رکھنا چاہئے کہ احتجاج کی ان آوازوں کو خاموش کرنا اس کے بس کا روگ نہیں ہے۔یہ احتجاج اسی وقت ختم ہوگا جب گیانیش کمار کو ان کی کرسی سے ہٹایا جائے گا۔ المیہ یہ ہے کہ جیسے جیسے گیانیش کمار کے خلاف عوامی ناراضگی کا طوفان کروٹیں لے رہا ہے، ویسے ویسے وزیرداخلہ امت شاہ ان کی سیکورٹی بڑھا رہے ہیں۔ فی الوقت گیانیش کمار کی حفاظت پر پچاس سیکورٹی جوان تعینات ہیں۔