مغربی بنگال کیڈر کی ایک مسلم پولیس آفیسر بشریٰ بانو آج کل اپنے تبادلے کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ان کا تبادلہ محض اس لیے کردیا گیا ہے کہ انھوں نے ایک نجی گفتگو میں ”السلام علیکم،ماشاء اللہ اور جزاک اللہ“ جیسے دعائیہ کلمات اداکئے تھے۔بس اسی سے فرقہ پرست اور مسلم دشمن عناصرکے پیٹ میں مروڑ ہونے لگی اور انھوں نے بشریٰ بیگم کے اس ’اسلامی طرزعمل‘ کی شکایت بنگال کے ہوم سیکریٹری سے کردی۔ نتیجہ یہ ہوکہ اگلے ہی دن ڈپٹی ایس پی کے عہدے سے ہٹاکرانھیں ایک غیر اہم عہدے پربھیج دیا گیا۔ بنگال میں مسلم افسران کے ساتھ امتیازی سلوک کا یہ کوئی اکلوتا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل یہ خبر منظر عام پر آئی تھی کہ گزشتہ دنوں جب وزیرداخلہ امت شاہ ایک سرکاری پروگرام میں شرکت کے لیے بنگال گئے تھے تو ان کے پروگرام سے مسلم افسران کو دور رکھا گیا تھا۔ مسلم افسران کے ساتھ اس امتیازی سلوک کی شکایت ترنمول کانگریس کی ایم پی مہوا موئترا نے اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق سے تحریری طورپر کی ہے۔اس پر ہم آگے چل کر روشنی ڈالیں گے، آئیے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ بشریٰ بانو کا معاملہ کیا ہے۔
بشریٰ بانو انڈین پولیس سروس کی ایک فرض شناس اور دیانتدار آفیسر ہیں اور وہ اس عہدے تک بڑی محنت اور مشقت کے بعد پہنچی ہیں۔2021میں ان کا تقرر مغربی بنگال کیڈر کے لیے ہوا اور وہ تب سے وہاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی ہے۔اس حوالے سے انھوں نے گزشتہ دنوں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ریزیڈنشل کوچنگ اکیڈمی کے طلباء کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک ویڈیو ریکارڈ کی اور اس کا آغاز’السلام علیکم‘ سے کیا۔درمیان میں ’ماشاء اللہ‘ کہا اور اپنی ویڈیوکا اختتام ’جزاک اللہ‘ پر کیا۔ یہ ویڈیو ہندو لیگل ایڈ نامی کسی انتہا پسند تنظیم کے ہاتھ لگی جس نے اسے خطرناک قرار دیتے ہوئے بنگال کے ہوم سیکریٹری کو بھیجا اور وہاں سے یہ سدرشن ٹی وی جیسے زہریلے چینل تک پہنچی جس نے اسے”سول سروس جہاد“سے جوڑ کر ہنگامہ شروع کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اگلے ہی دن بشریٰ بانو کو ایڈیشنل ایس پی کے عہدے سے ہٹاکرڈپٹی کمانڈنٹ بنا دیا گیا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ واقعہ نئی دہلی میں منعقد برکس اجلاس کے دوروز بعد منظرعام پر آیا ہے جس میں حکومت نے مسلم ملکوں کے سربراہوں کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا تھا اور اس اجلاس میں شریک مسلم نمائندوں اور ان کے عملہ کے لیے باقاعدہ عارضی مسجد قائم کی تھی۔ اس انتظام وانصرام کا مقصد مسلم ملکوں کو یہ باور کرانا تھا کہ ہندوستان مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا نقیب ہے، جبکہ زمینی حقیقت قطعی مختلف ہے کیونکہ ملک میں مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اورالمیہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ حاکمان وقت کی سرپرستی میں ہورہا ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے ایک نظر بشریٰ بانو کے کیریر پر ڈالتے ہیں جو خاصا متاثر کن ہے۔ بشریٰ بانو کی پیدائش اترپردیش کے ضلع قنوج کی ہے جو اپنی عطریات اور خوشبوؤں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ بشریٰ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مینجمنٹ اسٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔بعد کو وہ اسسٹنٹ پروفیسر کی ملازمت کرنے سعودی عرب چلی گئیں اور کچھ عرصہ بعد وطن واپس آکر انھوں نے یوپی ایس سی کا امتحان دوبار امتیازی نمبروں سے پاس کیا جس کے نتیجے میں وہ انڈین پولیس سروس کے لیے چنی گئیں۔وہ مغربی بنگال کیڈر کی 2021کی آئی پی ایس آفیسر ہیں اور نہایت فرض شناس بھی ہیں۔ انہی حصولیابیوں سے متاثر ہوکر انھیں علی گڑھ کے طلبہ کو خطاب کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ ان کے جس ویڈیوپر تنازعہ کھڑا کیا گیا، اس میں انھوں نے طلباء اور طالبات کے ایک گروپ کی حوصلہ افزائی کی تاکہ وہ ملک کی تعمیروترقی میں اپنا حصہ ادا کرسکیں۔ بشریٰ نے اس ویڈیو میں سعودی عرب سے ہندوستان کے انتہائی باوقار سرکاری عہدوں میں سے ایک تک پہنچنے کا اپناسفربیان کیا۔ بشریٰ بانو نے اس ویڈیو میں یہ بھی بتایا کہ شادی اور گھریلو ذمہ داریوں کے باوجود ان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ان کی اس گفتگو کا مقصد طلباء اور خاص طورپر طالبات کو یہ باور کرانا تھا کہ اگر ان کے اندر حوصلہ اور لگن ہوتو وہ بھی زندگی کی جدوجہد میں بہت کچھ حاصل کرسکتی ہیں۔ ان سے’غلطی‘ یہ ہوئی کہ انھوں نے علی گڑھ کی روایات کے مطابق طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے ”السلام علیکم، انشاء اللہ اور جزاک اللہ‘‘ جیسے دعائیہ کلمات استعمال کئے جو ہر مسلمان اپنی گفتگو میں عام طورپر استعمال کرتاہے۔ بس ان ہی کلمات کی ادائیگی کو ان کا سب سے بڑا جرم قرار دے دیا گیا اورایک شرپسند ٹی وی چینل نے اسے براہ راست ’یوپی ایس سی جہاد‘سے جوڑ دیا۔کہا گیا کہ انھوں نے’وندے ماترم‘ اور’جے ہند‘ جیسے الفاظ کیوں استعمال نہیں کئے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہندو مذہب کو ماننے والے پولیس افسران نجی گفتگو میں اپنی مذہبی اصطلاحات استعمال نہیں کرتے ہیں۔ اصطلا حات کو تو چھوڑ دیجئے وہ پولیس کا اعلیٰ عہدہ سنبھالتے وقت باقاعدہ پنڈتوں کو بلاکر پوجا تک کراتے ہیں۔ اس کا تازہ ثبوت تلنگانہ کے ڈی جی پی کا عہدہ سنبھالنے والے سینئر آئی پی ایس آفیسر مسٹر سی وی آنند ہیں جن کی ایک ویڈیو اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسٹر آنند عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے دفتر میں اپنے اہل خانہ کی موجودگی میں پنڈتوں سے باقاعدہ پوجا کرارہے ہیں۔ اس پر کسی قسم کا کوئی اعتراض درج نہیں کرایا گیا جبکہ اس طرح کا طرزعمل پولیس مینول اور سیکولر کردار کے منافی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اترپردیش کے ایک پولیس افسر انوج چودھری کی ایک ایسی تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں وردی پہنے ہوئے گدا لے کر مذہبی جلوس میں شامل ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ کانوڑ یاترا کے دوران جب پولیس افسران کانوڑیوں پر ہیلی کاپٹروں سے پھول برساتے ہیں یا ان کی سیوا کے نام پر ان کے پاؤں دباتے ہیں تو کسی کو اعتراض نہیں ہوتا مگر جب ایک مسلم خاتون پولیس آفیسر نجی گفتگو میں اپنے تہذیبی کلمات استعمال کرتی ہے تو اس پر طوفان برپا ہوجاتا ہے اور حکومت راتوں رات اس کا تبادلہ کردیتی ہے۔آپ کویاد ہوگا کہ پولیس پہلے ہی اپنے روز مرہ کے کام کاج میں اردو، عربی اور فارسی کے الفاظ کا استعمال ترک کرچکی ہے اور ان الفاظ کی جگہ سنسکرت اور ہندی کے مشکل الفاظ بروئے کار لائے جارہے ہیں اور اب’’السلام علیکم، انشاء اللہ اور جزاک اللہ‘‘ جیسے دعائیہ کلمات پر بھی گاج گررہی ہے۔ اس کا واحد مقصد سرکاری نظام سے وابستہ ہر شے کو اکثریتی تہذیب کا پابند بنانا اور مسلم تہذیب اور تمدن کو ملیا میٹ کرنا ہے۔
اب آئیے مغربی بنگال میں مسلم افسران کے ساتھ برتے جارہے امتیازی سلوک کی بات کرتے ہیں، جس کا انکشاف پچھلے دنوں ترنمول کانگریس کی ممبرپارلیمنٹ مہوا موئترا نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کیا تھا اور اب انھوں نے اس کی شکایت اقلیتی امور کے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نکولس لیورا سے کی ہے۔ اپنے خط میں انھوں نے الزام لگایا ہے کہ تین مواقع پر سینئر مسلم آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسروں کو جولائی اور اگست میں امت شاہ کے بنگال کے دروے کے دوران تقریبات میں شرکت سے دور رکھاگیا جبکہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے افسران کو پروگرا م میں شامل ہونے دیا گیا۔ انھوں نے اس سلسلے میں سلی گوڑی کے پولیس کمشنر وقاررضا،مغربی بنگال پولیس اسپیشل ٹاسک فورس کے سربراہ جاوید شمیم اور ایک سینئر آئی اے ایس افسر خلیل احمد کا ذکر کیا۔ انھوں نے ان واقعات کو ”جان بوجھ کر باہر رکھنے“ کی مثال قرار دیا۔ موئترا نے لکھا کہ اس طرح کے رویے سے اقلیتی برادریوں کے اعتماد اور سلامتی پر اثر پڑسکتا ہے۔ مہوا نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سے درخواست کی ہے کہ وہ حکومت ہند سے افسروں کو دور رکھنے کی وجہ بتانے اور اس کے لیے ذمہ دار اتھارٹی کی جانکاریطلب کریں۔مہوا نے امت شاہ کے دوروں سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج، ٹور ڈائری اور دیگر ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔اپنی شکایت میں موئترا نے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ اور شہری وسیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کی دفعات کا حوالہ دیا۔ واضح رہے کہ کچھ دن پہلے جب اس معاملے میں مہوا موئترا نے ٹوئٹ کیا تھا تو ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی گئی اور انھیں پوچھ تاچھ کے لیے ڈائمنڈ ہاربر پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا تھا۔ اس واقعہ سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ہندتو کی نئی لیبارٹری مغربی بنگال میں عام مسلمان ہی نہیں بلکہ اعلیٰ افسران بھی نشانے پر ہیں۔