موہن بھاگوت اپنے تین ملکوں کے دورے کے اختتام پر لندن پہنچ گئے ہیں۔ اس سے قبل انھوں نے امریکہ اور کناڈا کا دورہ کیا جہاں کثیر تعداد میں ہندوستانی آباد ہیں۔بتایا گیا ہے کہ وہ برطانیہ میں پوری دنیا کے ایک خاندان ہونے کا پیغام دیں گے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ انھوں نے آج تک ہندوستان میں یہ پیغام نہیں دیا اور ہمیشہ مسلم مخالف منافرت ہی کو فروغ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے حالیہ غیر ملکی دورے کے درمیان ان کے اس دوہرے کردار پر سب سے زیادہ تنقید ہوئی۔ انھوں نے مسلمانوں کے تعلق سے جو کچھ کہا اس پر بھی سوال کھڑے کئے گئے۔ انھوں نے امریکہ کے سب سے رنگین شہر نیو یارک کی ایک تقریبمیں کہا کہ’’جو ہندو یہ سوچتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان نہیں ہونے چاہئیں، وہ ہندو ہی نہیں ہے۔“ اس کے علاوہ انھوں نے کثرت میں وحدت کے تصور کی بھی تائید کی۔
موہن بھاگوت کے اس بیان پر ہندوستان میں خاصی تنقید ہوئی اور اسے ان کے دوہرے کردار سے تعبیر کیا گیا کیونکہ وہ جس جماعت کے سربراہ ہیں اس کی ڈکشنری میں نہ تو مسلمانوں کا کوئی وجود ہے اور نہ ہی کثرت میں وحدت کا کوئی تصور۔ ایسا کیوں ہے، اس پر ہم آگے چل کر گفتگو کریں گے، پہلے آئیے اس تنازعہ کی طرف چلتے ہیں جو ان کے امریکہ میں دئیے گئے بیان کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ آرایس ایس کے دیگر سربراہوں کی طرح موہن بھاگوت بھی کبھی صاف اور واضح بات نہیں کرتے بلکہ ان کی گفتگو میں ایک قسم کا ابہام ہوتا ہے اور ہربات کے کئی پہلوہوتے ہیں۔
موہن بھاگوت ایک ایسی جماعت کے سربراہ ہیں جس کا مقصد ہندوستان کو ’ہندو راشٹر‘میں تبدیل کرنا ہے اور یہ جماعت گزشتہ سوسال سے اس ایجنڈے پر گامزن ہے۔ مسلمان چونکہ ہندوراشٹر کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، اس لیے آرایس ایس کا خاص نشانہ بھی وہی ہیں۔ اس عرصے میں آرایس ایس سب سے زیادہ مسلمانوں پر ہیحملہ آور رہی ہے۔ ان کی حب الوطنی پر مختلف عنوانات سے سوالیہ نشان کھڑے کرنا، ان کی آبادی اور کثرت ازدواج سے متعلق براداران وطن کے دلوں میں غلط فہمیاں پیدا کرنا اور انھیں ملک پر ایک بوجھ قرار دینا آرایس ایس کی افواہ ساز فیکٹری کے خاص عنوانات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موہن بھاگوت کے امریکی پہنچنے سے پہلے ہی ان کے افکار ونظریات پر چہ میگوئیاں شروع ہوگئی تھیں۔ان کا آغاز نیویارک کے میئر زہران ممدانی کے اس بیان سے ہوا تھا جو انھوں نے ایک اخبارنویس کے سوال کے جواب میں دیا تھا۔ سوال یہ تھا کہ ”کیا وہ بھاگوت کے نیویارک میں ہونے والے پروگرام پر پابندی لگانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟‘‘جواب میں ممدانی نے کہا تھا کہ”انھیں نہیں معلوم کہ کسی نجی پروگرام کو روکنے کا اختیارحکومت کے پاس ہے یا نہیں۔“
ممدانی نے اپنے بیان میں حالانکہ بھاگوت کے بارے میں کوئی منفی بات نہیں کہی تھی مگر اس کے باوجود ہندوستان میں موجود فسطائی عناصر نے ان کے خلاف خوب بیان بازی کی اورمسلمان ہونے کی وجہ سے انھیں ’جہادی‘ تک قرار دے ڈالا۔حالانکہ ممدانی کی ماں ایک ہندو ہیں مگر فسطائی اور سنگھی عناصر ممدانی کی حق گوئی کی وجہ سے انھیں پسند نہیں کرتے اور ان کے خلاف بے ہودہ زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ یہی دراصل وہ پیمانہ ہے جس کے ذریعہ ہم ہندوستان میں اظہاررائے کی آزادی کے بارے میں فیصلہ کرسکتے ہیں۔ جبکہ امریکہ کا معاملہ اس کے برعکس ہے اور وہاں اظہاررائے پر کوئی بندش نہیں ہے۔ اسی آزادی کا فائدہ اٹھاکر موہن بھاگوت نے امریکہ کا دورہ کیا، مگر انھوں نے وہاں مسلمانوں کے تعلق سے جو کچھ کہا وہ حقیقت سے کوسوں دورہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے بیان پر چوطرفہ تنقید ہورہی ہے۔ نہ صرف مسلمان اس پر تنقید کررہے ہیں بلکہ سیکولر حلقوں میں بھی اس کی مذمت ہورہی ہے۔مگر ہماری ذاتی رائے یہ ہے کہ انھوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کے وجود سے متعلق جوکچھ کہا ہے اسے صحیح تناظر میں سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ مسلمان آرایس ایس کے لیے کیوں ضروری ہیں اس حوالے سے بھاگوت کے بیان پر تبصرہ کرنے سے پہلے ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ انھوں نے دراصل نیویارک میں کہا کیا ہے۔
موہن بھاگوت نے نیویارک میں ’ون ورلڈ، ون ہیومنٹی‘(ایک دنیا، ایک انسانیت)پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’اگر کوئی ہندو سوچتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان نہیں ہونے چاہئیں تو وہ ہند و نہیں رہ سکتا۔ ہندو کہلانا ہے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا سبھی راستے ایک ہی ایشور تک لے جاتے ہیں۔ ہرانسان کا وقار ہے، انسانوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔“انھوں نے اپنی تقریر کے دوران 2018 کے اپنے ایک پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ’’اس وقت مسلم بھائیوں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ میں ہندوراشٹر کی بات کرتا ہوں تو اس کا مطلب مسلمانوں کو باہر نکالا جائے گا؟ تب میں نے کہا کہ ”نہیں یہ ہندتو نہیں ہے۔اگر کوئی ہندو سوچتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان نہیں ہونے چاہئیں تو وہ ہندو نہیں رہ سکتا۔“ بھاگوت نے کہا کہ پوری انسا نیت ایک ہے۔ کثرت میں وحدت ہمارے اندرونی اتحاد کا حسن ہے۔ اسے تسلیم کرنا چاہیے، اس کا احترام کرنا چاہئے اور اس کا تحفظ بھی ہونا چاہئے۔“
موہن بھاگوت کے اس بیان کی روشنی میں جب ہم زمینی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تو بڑی مایوس کن تصویر ابھرتی ہے۔ہم اس سلسلہ میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی اس رپورٹ کا حوالہ دینا چاہیں گے جو بھاگوت کے دورے سے قبل میڈیا کے لیے جاری کی گئیتھی۔کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ’’2016میں ہندوستان میں مذہبی آزادی کی صورتحال بدستور ’زوال کی جانب‘ گامزن ہے۔ کمیشن نے مذہبی اقلیتوں کے حقوق پر مبینہ پابندیوں، ہجومی تشدد، سینسر شپ اور غیر سرکاری تنظیموں کی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ کمیشن نے شہریت اور ووٹ دینے کے حقوق سے محرومی کے مبینہ معاملات کے علاوہ تبدیلی مذہب مخالف قوانین اور گائے کے ذبیحہ سے متعلق قوانین پر تشویش ظاہر کی ہے۔
اب ہم اپنے عنوان کی طرف آتے ہیں کہ کسی بھی ہندو کے لیے یہ تسلیم کرنا کیوں ضروری ہے کہ اس ملک میں مسلمان ہونے چاہئیں اور اگر وہ ایسا نہیں سوچتا ہے تو ہندو کیوں نہیں رہ سکتا۔دراصل مسلمان ہی اس ملک میں سنگھ پریوار کی سب سے بڑی پونجی ہیں۔ کیونکہ مسلمانوں کا خوف دکھاکر ہی آرایس ایس اور بی جے پی نے ہندوؤں کو متحد کیا ہے۔ آج بھی یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی اور اگر یہ رفتار قائم رہی تو وہ جلد ہی اکثریت میں آکر ملک کے اقتدار پر قبضہ کرلیں گے جبکہ تمام تحقیقات یہ ثابت کرچکی ہیں کہ مسلمان خواہ کتنی ہی تیزی سے اپنی آبادی کیوں نہ بڑھائیں وہ کبھی اس ملک میں اکثریت نہیں بن سکتے۔ آرایس ایس کے قیام سے لے کر اب تک اس کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہی نظر آئے گا کہ اس نے ہندوؤں کے دلوں میں مسلمانوں کا خوف پیدا کرکے اقتدار کی راہ ہموار کی ہے۔ بی جے پی کو مضبوط بنانے میں آرایس ایس کی طرف سے شروع کی گئی ایودھیا تحریک کا جو ہاتھ ہے وہ کسی اور تحریک کا نہیں۔ بابری مسجد کے خلاف تحریک آرایس ایس نے ہی منظم کی تھی اور اس میں سنگھ پریوار کی وشوہند و پریشد اور بجرنگ دل جیسی جنگجو تنظیمیں پیش پیش تھیں۔ بی جے پی کے لیڈر لال کرشن اڈوانی کی سومناتھ سے ایودھیا تک کی یاترا کسے یاد نہیں۔ اس یاترا نے ملک میں جو ہندو مسلم تفریق پیدا کی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔آج بی جے پی ملک کے جن جن صوبوں میں برسراقتدار ہے، وہاں مسلمانوں کی نمائندگی صفر ہے۔ خود مرکزی حکومت میں ایک بھی مسلم وزیرموجود نہیں ہے۔جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے وہاں وہاں مسلمانوں کا نام ونشان مٹانے کی کوششیں عروج پر ہیں اور اس کا تازہ ترین ثبوت اترپردیش کے سہارنپورشہرکلکٹریٹ میں سوسال سے زیادہ پرانی مسجد کا انہدام ہے۔یہی سنگھ پریوار کے اصل کردار یہی ہے جس کے سربراہ موہن بھاگوت ہیں۔