Jadid Khabar

کہیں آپ ”دماغی نکسل‘‘تو نہیں

Thumb

 یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے وزیراعظم نریندر مودی نے   ’دماغی نکسل‘ کی جو اصطلاح استعمال کی ہے، اس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل  مچادی ہے۔’نکسل ازم‘ تاریخی طورپر ایک ایسی مسلح جدوجہد سے عبارت ہے جو تشدد کے راستے سے حکومت کو چیلنج کرتی ہے۔ نکسلائٹ روایتی طورپر جنگلوں میں رہتے ہیں، بندوق استعمال کرتے ہیں اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کرگزرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، لیکن وزیراعظم نے ’نکسل ازم‘کے نظریے کو جنگل سے نکال کر جمہوری زندگی میں داخل کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اس بیان کو نئے نئے معنی پہنائے جارہے ہیں۔ اگر وہ ’دماغی نکسل‘ کی تشریح کردیتے تو لوگوں کو مغز ماری نہیں کرنی پڑتی۔ اب ہر شخص اپنادماغ ٹٹول ٹٹول کر دیکھ رہا ہے کہ کہیں اس میں کوئی’نکسلی‘ تو چھپا ہوا نہیں بیٹھا ہے۔اپنے سیاسی مخالفین کو زیر کرنے کے لیے موجودہ حکومت میں ایسی اصطلاحوں کا چلن کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے ’اربن نکسل‘، ’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘، ’ایوارڈ واپسی گینگ‘اور ’خان مارکیٹ گینگ‘ کی اصطلاحیں آپ نے سنی ہوں گی۔ ’اربن نکسل‘ کی اصطلاح خاص طورپر انسانی حقوق کے ان کارکنوں کے لیے ایجاد کی گئی تھی جو لنچنگ کے خلاف آواز اٹھارہے  تھے۔ یہ زیادہ تر سول سوسائٹی کے لوگ تھے، جو آج بھی انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف صف آراء ہیں اور حکومت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتے ہیں۔لیکن جب ایک بار پارلیمنٹ میں یہ پوچھا گیا کہ اس ملک میں ’اربن نکسل‘ کون ہیں تو حکومت نے اس سے ہاتھ کھینچ لیے اور کہا کہ کسی سرکاری ایجنسی کے پاس اس قسم کے لوگوں کی کوئی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔
درحقیقت اس حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ مخالفت کی آوازوں کو قطعی برداشت نہیں  کرتی۔ اس حکومت میں مخالفت کی آوازوں کو دبانے اور درکنار کرنے کی روش کا اندازہ ’انڈین ایکسپریں‘ کی ایک تازہ رپورٹ سے بھی ہوتا ہے جس میں بتا یا گیا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے حکومت اوسطاً ہر منٹ میں کسی نہ کسی پوسٹ کو ڈیلیٹ کرنے کا حکم سوشل میڈیا پلیٹ فارم دیتی رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق رواں سال کے دوران مارچ سے جولائی کے درمیان ایک لاکھ95 /ہزار سوشل میڈیا پوسٹ بلاک کی گئی ہیں۔یعنی حکومت نے ہر اس آواز کو دبادیا جو اس کے حق میں نہیں تھی۔سوال یہ ہے کہ جمہوری طورپر منتخب ایک حکومت اتنی خوفزدہ کیوں ہے؟
 حکومت کا طرز عمل یہ ہے کہ جو لوگ اس سے سوال پوچھتے ہیں وہ ان کا جواب دینے کی بجائے الٹے انھیں ہی کٹہرے میں کھڑا کرتی ہے۔ حالیہ دنوں میں اس حکومت کو جب اپنی سب سے بڑی آزمائش سے گزرنا پڑاتو اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ یہ آزمائش ان طلبہ کی طرف سے پیش کی گئی جنھیں بدعنوان سرکاری مشنری کے سبب اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔اسی کے نتیجے میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے طلبہ کی ایک پارٹی وجود میں آگئی۔ حالانکہ اس پارٹی کا قیام سی جی آئی کے اس بیان کے ردعمل میں ہوا تھا جس میں انھوں نے ملک کے بے روزگار نوجوانوں کو’کاکرچوں‘ سے تشبیہ دی تھی لیکن اس پارٹی نے نیٹ کا پرچہ لیک ہونے کیبعد نوجوانوں میں پھیلی ہوئی مایوسی اور شدید ناراضگی کو ایک زبان دی۔ یہ سب جنتر منتر پر جمع ہوگئے اور انھوں نے وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کو مستعفی ہونے پر مجبورکردیا۔ اس طرح حکومت کو پہلی بار شرمندگی سے دوچار ہونا  پڑا۔ اس شرمندگی کا انتقام لینے کے لیے احتجاجی طلبہ پر پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس نے طاقت کا بے رحمانہ استعمال کیا، جس کی چوطرفہ مذمت ہوئی اور اب اس کی جانچ کیلیے  سپریم کورٹ نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ 
 جہاں تک نکسلیوں کا تعلق ہے تو ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ اس ملک میں نکسل وادی یا نکسلائٹ ماؤ وادی سیاسی فکر کی پیروی کرنے والوں کو کہا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سرکار سے لڑنے اور سماجی ومعاشی نظام میں تبدیلی لانے کے لیے مسلح جدوجہد کا سہارا لیتے رہے ہیں۔ اس تحریک کا آغاز 1967میں مغربی بنگال کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’نکسل باڑی‘ سے ہوا تھا اوراسی مناسبت سے اسے نکسلی تحریک کہا جاتا ہے۔  غریب کسانوں اور آدی واسیوں نے دولت مند مقامی زمینداروں کے خلاف پرتشدد احتجاج کے طورپریہ تحریک شروع کی تھی۔
وزیراعظم نے اسی پس منظر میں اپنی لال قلعہ کی تقریر میں کہا ہے کہ’’نکسل واد اور ماؤ واد نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل برباد کیا۔ متعدد ماؤں سے ان کے بیٹے چھین لیے اور خاندانوں کے خوابوں کو چکنا چور کردیا۔ نکسل واد نے چاردہائیوں تک ملک کے بڑے حصے کو دبوچ کررکھا اور آئین کی دھجیاں اڑائیں۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اس سنگھرش میں 3500سے زیادہ سیکورٹی اہل کار شہید ہوئے جبکہ جنگ میں بھی اتنے فوجیوں کی موت نہیں ہوتی۔‘ مودی نے کہا کہ ’2014 میں جب ہمیں موقع ملا تو ہم نے ملک کو نکسل واد سے آزاد کرانے کا عہد کیا۔آج خوشی ہے کہ نکسل واد کے پاس آخری سانس لینے کی بھی طاقت نہیں رہی۔‘‘ وزیراعظم نے کہا کہ’’جن علاقوں میں کبھی نکسل وادیوں کی گولیاں چلتی تھیں، آج وہاں نکسل واد سے آزادی کے بعد ترقی اور اعتماد کا ترنگا لہرارہا ہے۔‘‘مودی نے کہاکہ ”ماؤ وادی سوچ والے لوگ کبھی اقتدار کے گلیاروں میں بیٹھے تھے اور سرکاری کمیٹیوں میں مشیر کے طور پر رہ کر انھوں نے سرکاری پالیسیوں کو متاثر کیا۔‘وزیراعظم کے اس بیان کے جس حصے پر سب سے زیادہ اعتراض درج کرایا جارہا ہے،اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’جہاں جنگل میں ہتھیار اٹھانے والے نکسلیوں کو ختم کردیا گیا ہے، وہیں دماغی نکسل اب بھی موجود ہیں، ان کی شناخت کرکے انھیں الگ تھلگ کرنے کی  ضرورت ہے تاکہ ملک کے نوجوانوں کو ایک ترقی یافتہ ہندستان کے لیے متحد کیا جاسکے۔‘‘
وزیراعظم نے اپنی تقریر میں حالانکہ کسی کا نام نہیں لیا ہے، لیکن ان کے اس بیان کو طلبہ کی اس تحریک کے پس منظر میں دیکھا جارہا ہے جس نے حکومت کے ہاتھ پاؤں پھلادئیے ہیں۔ سبھی جانتے ہیں کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک کو عروج پر لے جانے میں سب سے زیادہ بائیں باز و کی تنظیموں کے طلبہ کا ہاتھ رہا اور انھوں نے بڑے منظم طریقے سے طلبہ کے جذبات کو ایک زبان دی، اسی لیے سمجھا جارہا ہے کہ وزیراعظم کا روئے سخن ان ہی طرف ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ دانشور طبقے کو نکسلائٹ تحریک سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ2014سے جب بھی حکومت کے خلاف کوئی احتجاج ہوا ہے تو اسے ماؤ دادیوں سے جوڑ کر اس کی اہمیت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ا ور ان کے خلاف نت نئی اصطلاحیں ایجاد کی گئی ہیں۔یہ بات سبھی معلوم ہے کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد جمہوریت،سیکولرازم، اور بولنے کی آزادی خطرے میں ہے اور سماج کے کمزور طبقوں کی زندگی اجیرن کردی  گئی ہے۔ خاص طورپر مسلمان اس حکومت کا سب سے بڑا نشانہ ہیں۔ ان کا مذہب، عبادت گاہیں اور جان ومال پر مسلسل خطرات منڈلارہے ہیں۔ گاؤ کشی کے الزام میں ان کی لنچنگ ملک میں عام بات ہے۔ مسلسل ایسے قانون بنائے جارہے ہیں جن کی ضرب مسلمانوں پر پڑرہی ہے۔ ان پریشان کن حالات کے خلاف جب شہری حقوق کے کارکن آواز بلند کرتے ہیں تو انھیں ’اربن نکسل‘ اور ’دماغی نکسل‘کہہ کر ڈرانے اور خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔لیکن اب اس قسم کوششوں کا الٹا ہی اثر ہورہا ہے۔ ملک کے نوجوان بیدار ہوچکا ہے اور وہ اپنے حقوق کے لیے پوری طاقت کے ساتھ میدان میں ہے۔