Jadid Khabar

مانسون اجلاس میں ہنگاموں کی بارش

Thumb

 یوم آزادی پر وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کی فصیل سے اپنی تقریر میں تمام سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون ساز اداروں میں خواتین کو33/فیصد ریزرویشن دلانے کے لیے آگے آئیں۔ ان کا اشارہ اس حدبندی بل کو پاس کرانے کی طرف تھا جو گزشتہ اپریل میں اپوزیشن کی زبردست مخالفت کی وجہ سے قانون نہیں بن سکا تھا۔ حکومت نے اس بل کو پاس کرانے کے لیے اپوزیشن پارٹیوں میں توڑپھوڑ کا سہارا لیا۔ ترنمول کانگریس اور این سی پی میں دراڑ ڈال کر اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اسے پوری امید تھے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی، لیکن حکومت کو اس وقت ناکامی ہاتھ آئی جب اپوزیشن پارٹیوں نے اس اجلاس کو چلنے ہی نہیں دیا اور یہ کسی قابل ذکر کارروائی کے بغیر گزشتہ جمعرات کو ختم ہوگیا۔ گزشتہ 20جولائی کو شروع ہوئے اس اجلاس میں 19نشستیں ہونی تھیں، لیکن اپوزیشن کی زبردست ہنگامہ آرائی کے سبب چار نشستوں میں ہی جزوی طورپر کام ہوسکا۔ 
حکمراں بی جے پی نے اس تعطل کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ چلنے ہی نہیں دیناچاہتیں۔ جبکہ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ حکومت جوابدہی سے بچ رہی ہے اوروزیرداخلہ امت شاہ’’لاپتہ‘‘ہیں۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تکرار اس حدتک بڑھ گئی کہ ٹکراؤ کی صورتحال پارلیمنٹ کے باہر بھی نظر آئی۔یوں تو پارلیمنٹ میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی عام بات ہے، لیکن یہ اجلاس کچھ ایسی باتوں کے لیے ضروریاد رکھا جائے گا، جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئیں۔ ان میں سب سے تشویش ناک منظر وہ تھا جب پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اپوزیشن اور حکمراں بی جے پی کے ارکان ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوگئے اور انھیں الگ کرنے کے لیے سیکورٹی جوانوں کو انسانی زنجیر بنانی پڑی۔
این ڈی اے کے ارکان اپوزیشن پر بحث سے فرار ہونے کا الزام لگاتے رہے  جبکہ انڈیا اتحاد کے ارکان کا مطالبہ تھا  کہ طلبہ کے خلاف پولیس کی جارحانہ کارروائی کی ذمہ داری طے ہونی چاہئے۔ حکومت نے اپوزیشن کو یہ پیشکش کی تھی کہ وزیرداخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں بیان دینے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ جب وہ بیان دیں تو اس دوران خلل نہ ڈالا جائے۔ اپوزیشن نے اس شرط کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسے امت شاہ کی تقریر میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ انھیں پارلیمنٹ میں آکر صاف طورپر یہ بتانا چاہئے کہ طلبہ پر تشدد اور ان کے خلاف پیلٹ گن کے استعمال کا حکم کس نے دیا تھا۔ اپوزیشن نے پارلیمنٹ کی کارروائی چلانے کے لیے تین شرائط رکھی تھیں۔ اوّل وزیراعظم کی معافی، دویم وزیرداخلہ کا بیان، سویم رام مندر چندہ چوری پر بحث، لیکن حکومت نے ان میں سے کوئی بھی شرط قبول نہیں کی۔بدھ کے دن وزیرداخلہ امت شاہ کچھ مخصوص نامہ نگاروں کے درمیان آئے اور کہا کہ’’لاپتہ“ اور”بھاگ گئے“جیسے الفاظ کا استعمال آج کل ملک کی عوامی اور پارلیمانی سیاست میں زیادہ سننے کو مل رہا ہے جوکہ غلط ہے۔ وہ پارلیمنٹ شروع ہونے کے بعد سے مسلسل پارلیمنٹ  میں اپنے چیمبر میں بیٹھتے ہیں لیکن اپوزیشن دونوں ایوانوں میں کارروائی نہیں چلنے نہیں دے رہا ہے تو ایسے میں ہاؤس میں جانے کا کیا فائدہ۔
 سبھی جانتے ہیں کہ پارلیمنٹ بحث ومباحثے کی جگہ ہے جس کے نتیجے میں قانون سازی کا عمل انجام پاتا ہے، لیکن بدلے ہوئے سیاسی ماحول میں پارلیمنٹ اب تصادم اور ٹکراؤ کا مرکزبن گئی ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت اپوزیشن کی کوئی بات سننے کو ہی تیار نہیں ہے اور وہ اپنی من مانی کرنا چاہتی ہے۔ پارلیمنٹ کا حالیہ تعطل بھی اپوزیشن کے کچھ اہم مطالبات سے حکومت کی پہلو تہی کی وجہ سے پیدا ہوا۔راہل گاندھی نے 20/جولائی کو جنتر منتر پر احتجاجی طلبہ کے ساتھ ہوئی بربریت کو ایک بڑا موضوع بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ وہ وزیرداخلہ امت شاہ سے بار بار یہ مطالبہ کر رہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آکر یہ بتائیں کہ احتجاجی طلبہ پر گولیاں کس کے حکم سے چلیں۔ طلبہ کے خلاف مہلک ہتھیاروں کا استعمال کیسے ہوا اور پولیس نے طلبہ پر مظالم کیوں ڈھائے۔مگر حکومت کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے بلکہ وہ جنتر منتر کے واقعات کا رانچی کے واقعات سے موازنہ کرکے معاملے کو رفع دفع کرنا چاہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حکمراں جماعت کے ارکان نے پارلیمنٹ کے احاطہ میں رانچی کے واقعات پر احتجاج بھی کیا۔ حالانکہ دونوں  واقعات کا کوئی موازنہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ رانچی میں پولیس نے تحمل اور بردباری کا ثبوت دیتے ہوئے احتجاجی طلبہ کو تتر بتر کرنے میں کامیابی حاصل کی جبکہ جنتر منتر پر احتجاجی طلبہ کومنتشر کرنے کے لیے پولیس نے طاقت کا بے جا استعمال کیا۔
اب سے کوئی چالیس برس پہلے جب میں نے پارلیمنٹ کی کاررائی کی رپورٹنگ شروع کی تھی تو اس وقت راجیہ سبھا اور لوک سبھا دونوں ہی جگہ بڑے تجربہ کار اور باشعور ممبران موجود تھے۔ ان کی تقریریں سن کر یوں محسوس ہوتاتھا کہ ہمارے ملک میں جمہوریت بہت مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ اختلاف رائے کا احترام کیا جاتا تھا اور ممبران ایک دوسرے کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال نہیں کرتے تھے۔نئے ممبران بزرگ ممبران کی تقریریں بڑے چاؤ سے سنتے تھے ا ور ان سے بہت کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس میں پارٹی کا کوئی بھید نہیں تھا۔ اصل مقصد سیکھنا اور سکھانا ہواکرتا تھا جبکہ موجودہ دور میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ممبران ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور ذاتیات پر حملے کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی دیکھنے میں دل نہیں لگتا اور ایک اچاٹ پن محسو س ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت اور جمہوری قدریں دم توڑ گئی ہیں۔سب سے خراب رویہ حکمراں جماعت کے ممبران کا ہے جبکہ ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے کی زیادہ ذمہ داری حکمراں جماعت کے ارکان پر عائد ہوتی ہے مگر وہ اپوزیشن کو نیچا دکھانے کے لیے کسی بھی حدتک چلے جاتے ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حکومت پہلی بار دفاعی پوزیشن میں نظر آئی اور اس کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ اس کے پاس اپوزیشن کی تنقیدوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔نہ تو احتجاجی طلبہ پرپولیس کی زیادتیوں کا کوئی جواز تھا اور نہ ہی رام مندر چندہ چوری کے معاملے کا۔ یہی وہ موضوعات تھے جو پورے مانسون اجلاس پر حاوی رہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے نئی پارلیمنٹ کے داخلی دروازے کے باہر احتجاج کے نت نئے طریقے اختیار کئے۔ سب سے زیادہ وزیرداخلہ امت شاہ کو گھیرنے کی کوشش کی گئی۔ اپوزیشن بار بار یہی مطالبہ کرتا رہا کہ وزیرداخلہ ایوان میں آکر جواب دیں۔ جبکہ وزیرداخلہ نے عافیت اسی میں سمجھی کہ وہ ایوان کا سامنا ہی نہ کریں۔نہ ہی وزیراعظم نریندر مودی ایوان میں نظر آئے۔ وزیرداخلہ کا پارلیمنٹ سے فرار ہی سب سے بڑا مسئلہ تھا۔
اپوزیشن جہاں ایک طرف طلبہ کے پارلیمنٹ مارچ کے دوران کی گئی زیادتیوں سے شدید ناراض تھا تو وہیں دوسری طرف رام مندر میں چندہ چوری کا معاملہ اتنا سنگین رخ اختیار کرگیا تھا کہ حکومت ان دونوں ہی موضوعات پر لب کشائی سے بچ رہی تھی۔ ان دونوں ہی معاملوں کا عوامی ذہنوں پر خاص اثر ہے۔ جب حکومت اپوزیشن کے نرغہ میں بری طرح پھنس گئی تو اس نے جوابی حکمت عملی کے طورپر جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں طلباء پر لاٹھی چارج کے مسئلہ کا سہارا لیا اور اپوزیشن کو گھیرنے کی کوشش کی، لیکن اسے اس میں کامیابی نہیں ملی۔ حالیہ عوامی سروے میں یہ انکشاف کیاگیا ہے کہ مودی سرکار کی مقبولیت میں اس حد تک کمی واقع ہوئی ہے کہ اگر آج انتخابات کرائے جائیں تو انڈیا اتحاد کو اکثریت حاصل ہوگی۔ اسی طرح وزیراعظم نریندرمودی کے مقابلے میں راہل گاندھی کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
زبان خلق کو نقارہ خد اسمجھو