حکومت طلبہ کے آگے جھکنے پر مجبور
آخرکار مودی سرکار طلبہ تحریک کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کے کئی مطالبات منظور کرلیے گئے ہیں لیکن ابھی تک وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے پر تعطل برقرار ہے۔پرچہ لیک معاملے میں جان گنوانے والے طلبہ کے پسماندگان کو فی کس ایک کروڑ روپے ادا کرنے پر رضامندی کے اشارے ملے ہیں۔ ادھر سونم وانگ چک نے اپنی 26روزہ بھوک ہڑتال ختم کردی ہے تاہم کاکروچ جنتا پارٹی نے دھرمیندر پردھان کے استعفے تک جنتر منتر پر اپنا احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ 20جولائی کو طلبہ کے پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس مظالم سے اس احتجاج کو نئی دھار ملی ہے اور اس کا دائرہ ملک گیر سطح پر وسیع ہوگیا ہے۔ اس وقت ملک کے کئی شہروں میں پولیس مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔احتجاج کے مسلسل بڑھتے ہوئے دائرے سے حکومت فکر مندہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ کاکروچ جنتا پارٹی کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوئی ہے۔ اتنا ہی نہیں خود وزیراعظم نے اپنی طویل خاموشی توڑی ہے اور آدھی رات کو پیغام جاری کرکے کہا ہے کہ وہ پرچہ لیک معاملے میں فاسٹ ٹریک عدالت اور مستقبل میں اس قسم کے واقعات کوروکنے کے لیے سخت قانون بنانے کے پابند ہیں۔ ادھر پارلیمنٹ میں بھی ایک ہفتہ کی ہنگامہ آرائی کے بعد امید ہے کہ پیر کو پرچہ لیک معاملے پر بحث ہوگی۔
پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر اس تحریک کی سیاسی کمان اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے سنبھال رکھی ہے اور ان کی کوششوں سے اپوزیشن میں نئی جان نظر آرہی ہے۔ سب سے پہلے راہل گاندھی نے وزیراعظم کی بے حسی توڑنے کے لیے ان کی سرکاری رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا۔ ان کے ساتھ اپوزیشن کے دیگر لیڈران بھی تھے۔ وہ احتجاجی طلبہ کے ساتھ پولیس کی بدسلوکی اورلاٹھی چارج کے خلاف احتجاج اور وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کررہے تھے۔ یہ سرکاری ایجنسیوں اور پولیس کے لیے ایک عجیب وغریب صورتحال تھی اور انھوں نے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی عجیب وغریب راستہ اختیار کیا۔پولیس نے راہل گاندھی کو گھسیٹ کر حراست میں لیا۔ ان کی جو تصویریں میڈیا میں آئی ہیں وہ بڑی حیرت انگیز ہیں۔ راہل گاندھی کو اس سے پہلے کبھی اس حالت میں نہیں دیکھا گیا۔ وہ بالکل عام لوگوں کی طرح سڑک پر لیٹ گئے۔ پولیس نے ان کے ساتھ دھکا مکی بھی کی۔ ان کے چہرے پر چوٹ کا نشان بھی ہے اور جب انھیں تھانے لے جایا گیا تو ان کے ایک پاؤں میں جوتا بھی نہیں تھا۔ ان کی ٹی شرٹ خستہ ہوچکی تھی۔ راہل گاندھی اس حکومت کی بے حسی کے خلاف مسلسل لڑرہے ہیں اور اسے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انھوں نے گزشتہ جمعہ کوپیلٹ گن سے بری طرح زخمی ایک نوجوان کو میڈیا کے سامنے پیش کرکے حکومت کے اس دعوے کی قلعی کھول دی کہ پولیس نے جنتر منتر پر طلبہ کے خلاف پیلٹ گنوں کا استعمال نہیں کیا۔ اس سے ایک روز قبل انھوں نے گاندھی اسمرتی پر کینڈل مارچ نکالا تھا جس میں متعدد لیڈران موجود تھے۔
گزشتہ منگل کو کانگریس صدر ملکا ارجن کھڑگے کی84ویں سالگرہ پر پارٹی کے سرکردہ لیڈران ان کی سرکاری رہائش گاہ پر موجود تھے جو پی ایم ہاؤس محض500میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ فاصلہ پیدل عبور کرتے ہوئے سبھی لوگ اچانک وزیراعظم کی رہائش گاہ کی طرف بڑھنے لگے۔ خفیہ ایجنسیوں کو بھی اس کی بھنک نہیں لگ پائی۔ یوں تو وزیراعظم کی رہائش گاہ ہمیشہ سے اعلیٰ سیکورٹی زون مانا جاتا ہے،لیکن نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد تو یہاں پرندہ بھی پر نہیں مارسکتا۔ مگر اچانک جمہوریت کے اتنے پرندوں کو وہاں دیکھ کر سیکورٹی ایجنسیوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ کوئی اور ہوتاتو پولیس اور ایس پی جی کے جوان اسے منٹوں میں کھدیڑ دیتے مگر یہاں معاملہ اپوزیشن لیڈر کا تھا، جو خود ایس پی جی کے گھیرے میں رہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی ناز ک صورتحال تھی کہ اس کا مقابلہ اس سے پہلے وہاں کسی نے نہیں کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے وزیرمملکت جتیندر سنگھ کو وہاں بھیجا گیا اور انھوں نے راہل گاندھی کا یہ مطالبہ منظور کرلیا کہ حکومت پارلیمنٹ میں پیپر لیک معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔حالانکہ اس سے پہلے جب راہل گاندھی نے لوک سبھااسپیکر سے ملاقات کرکے یہ مطالبہ کیا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں حکومت سے اجازت لیں گے۔ جبکہ اسپیکر خود اس قسم کے فیصلے لینے کے مجاز ہیں اور وہ حکومت کے پابند نہیں ہیں۔مجبور ہوکر راہل گاندھی نے وزیراعظم کا گھیراؤ کرنے کا فیصلہ کیااور وہ اپنا احتجاج درج کرانے میں کامیاب رہے۔
یہ آزاد ہندوستا ن کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ اپوزیشن لیڈران وزیراعظم کے گھر پر دھرنا دے رہے تھے۔ اس سے پہلے صرف دوبار وزیراعظم کے دفتر پر احتجاج کیا گیا ہے۔ پہلی بار2012 میں اناآندولن کے موقع پر اوردوسری بار 1999میں قندھار میں ہندوستانی مسافر طیارے کے اغواء کے موقع پرایسا ہوا تھا۔ لیکن راہل گاندھی کا احتجاج دراصل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست لڑائی کی علامت تھا۔اپوزیشن اس وقت اتنا مجبور ہوچکی ہے کہ اس کے سامنے ’کرویا مرو‘ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس حکومت میں سب کچھ لیک ہورہاہے۔ نیٹ کا وہ پرچہ جس پر22/ لاکھ سے زیادہ طلبہ کے مستقبل کا دارومدار تھا لیک نہیں ہوا بلکہ رام مندر سے کروڑوں کا چندہ چوری ہوگیا اور رام مندر ٹرسٹ کے کسی عہدیدار کو سزا نہیں ملی۔ یہ وہی ٹرسٹ تھا جسے وزیراعظم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا اور اس کے ارکان کے ناموں کا اعلان باقاعدہ پارلیمنٹ میں کیا تھا، لیکن اتنی بڑی چوری کے باو جود وزیراعظم نے ایک لفظ نہیں کہا۔ کاکروچ جنتا پارٹی سے وابستہ نوجوان طلبہ نے پیپر لیک معاملے پر وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور تقریباً ایک مہینے سے وہ جنتر منترپر احتجاج اور بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔ ماحولیاتی کارکن سونم وانگ چک پچھلے بیس دن سے بھوک ہڑتال پر تھے اور ان کی صحت مسلسل گررہی تھی، لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی تھی۔ ایک دن اچانک صبح صبح سادی وردی میں ملبوس پولیس نے وہاں دھاوا بول کر سونم وانگ چک کو اغواء کرکے اسپتال پہنچادیا۔
گزشتہ پیر کو جب پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے والا تھا اور اس روز صبح کو کاکروچ جنتا پارٹی کو پارلیمنٹ کی طرف کوچ کرنا تھا تو پولیس اور فساد شکن فورس نے ان پر بے رحمی سے لاٹھیاں برسائیں۔ آنسو گیس چھوڑی اور انھیں منتشر کرنے کے لیے ہروہ راستہ اختیار کیا جو ان کے بس میں تھا،لیکن پھر بھی طلبہ اور نوجوان پارلیمنٹ کے بہت قریب پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ اب حکومت اس دھرنے اور احتجاجی مارچ کے پیچھے کسی بڑی سازش کا سراغ لگارہی ہے اور اس سلسلہ میں طلبہ کے خلاف چھ ایف آئی آر در ج کی گئی ہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ حکومت پہلی بار ایک بڑے احتجاج کے نرغے میں پھنستی ہوئی نظر آرہی ہے، جس کا دائرہ ملک گیر سطح پر دراز ہوچکا ہے۔ اس کا دائرہ 2014کے کسانوں کے احتجاج اور2020کے سی اے اے مخالف احتجاج سے زیادہ بڑھا ہوا ہے چونکہ نیٹ پیپر لیک معاملے سے ملک گیر سطح پر طلباء متاثر ہوئے ہیں اور انھیں اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔
اس حکومت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں جوابدہی کا زبردست فقدان ہے۔ ملک میں بڑے سے بڑا حادثہ یا اسکینڈل ہوجائے یہ ٹس سے مس نہیں ہوتی اور ہر بری چیز کی تاویلیں پیش کرتی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ کرپشن کا ہے جو ملک میں کینسر کی طرح پھیل چکا ہے۔اس صورتحال سے عدلیہ بھی فکر مندہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس اتل مرلی دھرن نے بلڈوزر کارروائی سے متعلق ایک معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے ملک میں پھیلے ہوئے کرپشن پر تیکھا تبصرہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ”رام مندر میں چڑھاوا چوری سے متعلق حالیہ تنازعہ ایمانداری کے زوال کا نقطہ عروج ہے۔“ انھوں نے کہا کہ’’یہ واقعہ صبر کا باندھ ٹوٹنے جیسا ہے، جو سماج رام مندر جیسی مقدس جگہ چوری سے پریشان نہ ہو اسے بھلا کوئی کیا شرم دلاسکتا ہے۔‘‘انھوں نے کہا کہ’’ملک میں کرپشن اتنا عام ہوچکا ہے کہ جب تک کوئی پکڑا نہ جائے تب تک لوگ اسے غلط نہیں مانتے۔اگر سرکار بدعنوانی دور کرنے کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو اسے قصورواروں کو سزائے موت دینے پر غور کرنا چاہئے۔‘‘