بنارس کی تاریحی مسجد گنج شہیداں پر انہدام کی تلوار
بنارس کی صدیوں پرانی مسجد گنج شہیداں بھی ان مسجدوں میں شامل ہوگئی ہے جن پر انہدام کی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔بنارس ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع تقریباً900 سال پرانی اس مسجد کی اراضی پر ریلوے نے اپنی ملکیت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ریلوے کا قیام اب سے 200 سال پہلے عمل میں آیا تھا اور یہ مسجد یہاں 9صدیوں سے کسی تنازعہ کے بغیر کھڑی ہوئی ہے۔ اس ملک میں مسجدوں، مدرسوں اور مزاروں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی جو شرمناک مہم چل رہی ہے اس سے مسلمانوں کی کوئی عبادت گاہ محفوظ نہیں ہے۔’مسلم مرر‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں دودرجن سے زائد مدارس اور مساجد کو منہدم کیا جاچکا ہے۔ صرف راجستھان کے سرحدی ضلع باڑمیر میں 300مسجدوں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسجدوں کے خلاف جاری اس جارحانہ مہم کی گونج عالمی سطح پر سنائی دی ہے۔
حکومت ہند نے پاکستانی صدر آصف علی زردادری کے اس بیان کو حقارت سے مسترد کردیا ہے جس میں انھوں نے بنارس کی صدیوں پرانی مسجد گنج شہیداں پر لٹکتی ہوئی انہدام کی تلوار پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ زرداری نے ایکس پر جاری ایک بیان میں ہندوستان میں مسلمانوں کے تاریخی مذہبی مقامات کی مسماری اور خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت ہند سے اپیل کی تھی کہ وہ ایسے اقدامات کو فوری طورپر روکے، کیونکہ اس سے ہندوستان میں مستقل انتشار پیدا ہوسکتا ہے۔ زرداری نے اپنے بیان میں اقلیتوں کے حقوق اور مشترکہ ثقافتی ورثہ کے تحفظ کا مطالبہ کیا تھا۔ زرداری کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ’’ہندوستان، پاکستانی صدر کے نامناسب اور مضحکہ خیز بیانات کو مکمل طورپر مسترد کرتا ہے، انھیں ہندوستان کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ تبصرے یوں بھی مضحکہ خیز ہیں کیونکہ پاکستان کا اپنا انسانی حقوق کا ریکارڈ بہت خراب ہے۔“ یہ الگ بات ہے کہ رندھیر جیسوال نے اس بیان کے دوروز بعدہی یہ کہتے ہوئے بنگلہ دیش کو آڑھے ہاتھوں لیا کہ وہاں ہندو دیوی دیوتاؤں اور ان کی تصویروں کی بے حرمتی ہورہی ہے ۔
ہمیں نہیں معلوم کہ زرداری کا بیان ہندوستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے یا پھر بنگلہ دیش میں ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتیوں کی توہین سے متعلق وزارت خارجہ کے ترجمان کا بیان۔ ہم اتنا ضرور جانتے ہیں جب کبھی بنگلہ دیش یا پاکستان میں وہاں کی ہندو اقلیت پر مظالم ہوتے ہیں تو ہندوستانی وزرات خارجہ اس پر ایسا ہی ردعمل ظاہر کرتی ہے جیسا کہ اس وقت بنگلہ دیش کے معاملے کیا گیا ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ جب کبھی ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ہورہے ناروا سلوک پر کوئی مسلم ملک آواز اٹھاتا ہے تو ہماری حکومت اسے اپنا اندرونی معاملہ قرار دے کر ایسے ہی مسترد کردیتی ہے جیسا کہ اس وقت بنارس کی مسجد گنج شہیداں سے متعلق زرداری کے بیان کومسترد کیا گیا ہے۔ حالانکہ ہم خود ان لوگوں میں شامل ہیں جو ہندوستانی مسلمانوں کے معاملات میں کسی غیر ملک کی مداخلت کو درست تصور نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ زرداری کے بیان کو بنارس کی انجمن انتظامیہ مساجد نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ ہمیں اپنے معاملات میں کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں ہے اور اپنے ملک کے عدالتی نظام پرہمیں مکمل بھروسہ ہے۔
یہ بات ان معنوں میں درست ہے کہ بنارس کی مسجد گنج شہیداں کا معاملے میں مسلم فریق کو الہ آباد ہائی کورٹ سے راحت مل گئی ہے۔ مگر اس معاملے میں ریلوے انتظامیہ کا رویہ ناقابل فہم ہے۔منگل کے روز مسجد کے انہدام پر عارضی روک سے متعلق ایک نوٹس مسجد کے باہر چسپاں کیا گیا تھا، لیکن مقامی ذرائع کے مطابق محض ایک گھنٹے بعد ریلوے ملازمین نے اسے وہاں سے ہٹادیا، جس کے بعد علاقہ میں کشیدگی اور تشویش کا ماحول پیدا ہوگیا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ریلوے انتظامیہ کی جانب سے 13/جون 2026کو جاری کیا گیا وہ نوٹس 23جون کو واپس لے لیا تھا جس کے تحت مسجد کو ریلوے کی اراضی قراردے کر انہدام کا نوٹس چسپاں کیا گیا تھا۔ نوٹس واپس لینے کی کارروائی اس وقت کی گئی جب مذکورہ حکم کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا گیا اور مسجد انتظامیہ کی جانب سے تاریخی، قانونی اور دستاویزی شواہد عدالت کے روبرو پیش کئے گئے۔ عدالت میں پیش کئے گئے اہم ترین شواہد میں وارانسی شہر کا1883 میں تیار کیا گیا آخری سیٹلمنٹ نقشہ بھی شامل تھا، جس کے مطابق گنج شہیداں مسجد کو واضح طورپر مسجد کے طورپر درج کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس نقشے میں مسجد کے آس پاس کسی ریلوے اسٹیشن کا کوئی وجود نہیں ہے۔ نقشے میں دریائے گنگا کو مسجد کے قریب بہتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ دریا پر ایک ریلوے پل زیرتعمیر دکھایا گیا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت اس امر کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ مسجد کا وجود اس علاقہ میں ریلوے ڈھانچے کی تعمیر سے پہلے کا ہے۔اس معاملے میں سب سے اہم قانونی پہلو وہ تحریری بیان ہے جو ریلوے انتظامیہ نے پہلے ایک سول مقدمہ(مسجد انتظامیہ بنام یونین آف انڈیا ودیگر) میں داخل کیا تھا۔ریلوے انتظامیہ نے اپنے جواب کے متعدد پیرا گراف میں مسجد کے وجود، اس کی مذہبی حیثیت اور انتظامی ڈھانچے کا واضح اعتراف کیا تھا۔خصوصاً پیراگراف 18/20اور 29میں ریلوے نے تسلیم کیا تھا کہ گنج شہیداں مسجد ایک وقف جائیداد ہے اور مسجد کا انتظام وانصرام مسجد انتظامیہ کے پاس ہے۔ مسلمان وہاں باقاعدگی سے نماز ادا کرتے ہیں اور ریلوے انتظامیہ مسجد کی مذہبی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کرتی۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کوئی سرکاری ادارہ کسی مجاز عدالت کے سامنے کسی حقیقت کا واضح اعتراف کرچکا ہو تو بعد میں اس کے برعکس موقف اختیارکرنا قانونی طورپر انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی بنیاد پر مسجد انتظامیہ نے موقف اختیار کیا کہ ریلوے اب انتظامی نوٹس کے ذریعہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ پوری جائیداد اس کی ملکیت ہے۔ تاریخی ریکارڈ واضح طورپر یہ ثابت کرتا ہے کہ گنج شہیداں مسجد صدیوں سے اپنے مقام پر موجود ہے جبکہ کاشی ریلوے اسٹیشن کا قیام 1887میں عمل میں آیا۔ ایسی صورت میں ریلوے کے لیے یہ ثابت کرنا انتہائی دشوار تھا کہ مسجد کا وجود ریلوے کے بعد کا ہے یا یہ اراضی ابتدا ء سے ریلوے کی ملکیت تھی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ بنارس کی مسجد گج شہیداں تقریباً 900 سال پرانی ہے اوریہ ان مسجدوں میں سب سے قدیم ہے جن پر مخالفین نے دعوے کئے ہیں۔ گزشتہ دنوں مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں جس کمال مولا مسجد پر ناجائز قبضہ کرکے مندر میں تبدیل کیا گیا ہے وہ 700 سال پرانی ہے۔ اس سے قبل ایودھیا میں جس بابری مسجد کو شہید کرکے رام مندر تعمیر کیا گیا ہے وہ 500سال قدیم تھی۔ اس اعتبار سے بنارس کی مسجد گنج شہیداں سب سے قدیم ہے جس کو ریلوے نے اپنی اراضی قرار دے کر انہدام کا نوٹس جاری کیا تھا۔
سبھی جانتے ہیں کہ اس وقت ہندوستان میں بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں مسلمانوں کو سبق سکھانے کے لیے جوزوردار مہم چل رہی ہے اس میں ان کی مسجدوں، مدرسوں اور مزاروں کا انہدام سب سے زیادہ تشویش ناک ہے۔ روزانہ ہی کسی نہ کسی صوبے سے کسی مسجد، مدرسے اور مزار پر بلڈوزر چلانے کی خبریں منظر عام پر آتی ہیں اور اس معاملے میں انتظامیہ اتنی عجلت میں ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو سانس لینے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ کسی بھی مسجد کو غیرقانونی تعمیر قراردے کر اس پر پہلے نوٹس چسپاں کیا جاتا ہے اور اس کے اگلے روز بلڈوزر وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو ردعمل سے روکنے کے لیے بھاری پولیس کا بندوبست ہوتا ہے تاکہ وہ چیں بھی نہ کرسکیں۔ مسلمان مکمل بے بسی اور لاچاری کے ساتھ اپنی ان عبادت گاہوں کو مسمار ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں جہاں انھوں نے برسوں سجدے کئے ہیں۔