Jadid Khabar

رام نام کی لُوٹ ہے، لُوٹ سکے تو لُوٹ

Thumb

 اترپردیش کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے جس وقت یہ انکشاف کیا تھا کہ رام مندر کے چڑھاوے کی بڑے پیمانے پر لوٹ مار ہوئی ہے تو موجودہ نائب وزیراعلیٰ برجیش پاٹھک نے یہ کہہ کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی تھی کہ ”اکھلیش یادو کی سوچ’بابر وادی‘ہے۔ وہ جھوٹ بول کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور صرف افواہ پھیلارہے ہیں۔“لیکن اب جبکہ رام مندر کے چڑھاوے میں اربوں روپوں کے گول مال کے ثبوت مل رہے ہیں تو برجیش پاٹھک کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ البتہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اجودھیا پہنچ کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کے لیے  عقیدت مندو ں سے صرف پند دوہفتے مانگے ہیں۔یہ دراصل موجودہ حکومت کا اصل چہرہ ہے جہاں میں وہ ہر معاملے کی لیپا پوتی کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ حقائق کو پوری بے شرمی کے ساتھ جھٹلایا جاتا ہے اور سانپ کو رسّی بتاکر لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔المیہ یہ ہے کہ رام مندر کو حاصل ہونے والے عطیات اور نہایت قیمتی زیورات کی چوری کرنے والے کوئی پیشہ ور چور یا ڈکیت نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو مندر کو حاصل ہونے والے چڑھاوے کی چوکیداری پر مامور تھے۔ ڈکیتی کا یہ کام کوئی دوچار دن میں نہیں ہوا بلکہ عقیدت مندوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کام مہینوں سے جاری تھا۔یہی وجہ ہے کہ چندے کی گنتی کی نگرانی کرنے والے کیمروں سے آٹھ مہینوں کے فوٹیج غائب کردئیے گئے ہیں۔ سب سے بڑا الزام رام مندر نرمان سمیتی کے صدر اور وزیراعظم کے معتمد خاص نرپندر مشرا اور ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے پر ہے کہ وہ عوام کی گاڑھی کمائی لے کر چمپت ہوگئے ہیں۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ عطیات کے غبن کا یہ معاملہ صرف رام مندر تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ڈکیتوں نے متھرا کے کرشن جنم بھومی مندر میں بھی نقب زنی کی ہے۔شری کرشن جنم بھومی مکتی آندولن کے سربراہ پنڈت دنیش پھلاہاری نے مندر کے توشہ خانے سے اربوں روپے مالیت کے عطیات،سونے چاندی کے زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء کے غائب ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے سی بی آئی سے غیرجانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
رام مندرمیں ہوئی چندے کی لُوٹ مار کی پرتیں آہستہ آہستہ کھل رہی ہیں۔ یہ گھپلا دوچارلاکھ کا نہیں بلکہ دوسو کروڑ کا بتایا جاتا ہے اور سونے چاندی کے ان زیورات کا تو کوئی حساب ہی نہیں جو وہاں سے غائب کردئیے گئے ہیں۔ اس’عظیم الشان‘ چوری میں نوٹوں کی گنتی کرنے والے پچاس لوگ ملوث بتائے جاتے ہیں۔رام مندر کی ’دان پیٹیوں‘ میں جو کچھ ڈالا جاتا ہے اس کی گنتی باقاعدہ اسٹیٹ بینک کے افسران اور سی سی ڈی وی کیمروں کی نگرانی میں ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود اتنا بڑا غبن ہوجانا حیرت انگیز ہی نہیں تشویش ناک بھی ہے۔اس معاملے میں حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی نے جانچ شروع کردی ہے، لیکن اب تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔پولیس اورجانچ ایجنسیوں نے گنتی میں شامل پانچ لوگوں کو گرفتار کرکے ان سے  تقریباً تین  کروڑ روپے برآمد کرلیے ہیں۔کہا جارہا ہے کہ رام مندر ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے کے قریبی کئی لوگ جوپہلے روٹیوں کے محتاج تھے چند سال میں کروڑ پتی بن چکے ہیں۔ مندر نرمان سمیتی کے صدر نرپندر مشرا اور ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے دونوں ہی فی الحال ’بیمار‘پڑگئے ہیں۔ یہ بیماری اصلی ہے یا مصنوعی کچھ کہا نہیں جاسکتا، مگر اتنا تو کہا ہی جاسکتا ہے کہ لوگوں کی اندھی عقیدت کا فائدہ اٹھاکر ان کی خون پیسنے کی کمائی کو چوروں نے مال غنیمت سمجھ کراڑالیا ہے۔ کبیر نے شاید ان ہی حالات کے لیے اپنا یہ مشہور دوہا کہا تھا 
رام نام کی لوٹ ہے، لوٹ سکے تولوٹ 
انت کال پچھتائے گا، جب پران چھائیں گے چھوٹ 
دولت کے پجاریوں نے موقع غنیمت جان کر مرنے سے پہلے ہی اپنی کئی پیڑھیوں کا انتظام کرلیا ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنے بڑے غبن کے باوجود سب کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔غبن اور چوری کے سنگین الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائرکرکے  اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے اور سی بی آئی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ 
اگر آپ رام مندر کی پوری تحریک پر نظرڈالیں تو اس میں دوخاص باتیں آپ کو شروع سے پریشان کن نظر آئیں گی۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس میں بھولے بھالے عوام کے مذہبی جذبات کا استحصال کیا گیا اور دوسرے عقیدت اور آستھا کے نام پر ان کی جیب ڈھیلی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ یہ معاملہ شروع دن ہی سے آشکارا ہوگیا تھا۔ سب سے پہلے رام مندر کی تعمیر کے لیے سونے اور چاندی کی اینٹیں طلب کی گئیں، جنھیں پوجا کرکے بھیجا گیا تھا، لیکن آج ان قیمتی اینٹوں کا بھی کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے۔ ایودھیا کے باشندے اوردھرم سینا کے بانی سنتوش دوبے کا دعویٰ ہے کہ1989 میں ملک وبیرون ملک سے پوجا ہوکر ایودھیا آئی سونے چاندی، ہیرے اور قیمتی جواہرات کی 1250/اینٹیں غائب ہیں۔ یہ بیش قیمت اینٹیں 2002 تک کارسیوک پورم میں رہیں، لیکن اب ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ مٹی کی اینٹیں آج بھی کارسیوک پورم میں موجود ہیں، لیکن سونے چاندی اور ہیرے جواہرات کی اینٹوں کا کوئی پتہ نہیں۔ ان اینٹوں کی دیکھبھال کی ذمہ داری  بھی چمپت رائے کے پاس تھی۔جہاں یہ اینٹیں رکھی تھیں وہاں تین تالے لگے ہوئے تھے، پھر یہ کیسے غائب ہوگئیں کسی کو نہیں معلوم۔واضح رہے کہ سنتوش دوبے نے ایودھیا تھانے میں جو شکایت درج کرائی ہے اس میں ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے، انل کمار مشرا، گوپال رائے اور چمپت رائے کے ڈرائیور رام شنکر عرف ٹنو یادو کو چندہ چوری کا اصل ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ اس شکایت میں مندر میں عطیہ کی گئی دوکلو سونے کے گدا، بڑی مقدار میں زیورات کے غائب ہونے کا بھی ذکر ہے۔
اترپردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے اس معاملے میں بی جے پی اور آرایس ایس پر ملک کے کروڑوں رام بھکتوں کے عقیدے کے ساتھ سنگین غداری اور مذہب کے نام پر لوٹ مار کرنے کا الزام لگایا ہے۔انھوں نے اس معاملے کی جانچ کے لیے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی پریہ کہتے ہوئے  سوالیہ نشان لگایا کہ ”جن اجے وشواس پنت کو اس معاملے کی جانچ سونپی گئی ہے وہ مہا کمبھ میلے میں ہوئی بھگدڑ کے وقت وہاں کے وقت کمشنر تھے اور وہ خود اس کی جانچ میں الجھے ہوئے ہیں، ایسے میں انھیں جانچ کی ذمہ داری سونپنا پورے واقعہ کی پردہ پوشی کی کوشش ہے۔“ اجے رائے نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ’اس گھپلے کے لیے وزیراعظم براہ راست ذمہ دار ہیں، کیونکہ انھوں نے اپنے پرنسپل سیکریٹری کے طورپر خدمات انجام دینے والے نرپندر مشرا کو رام مندر کی تعمیراتی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا۔ مزید یہ کہ ٹرسٹ کے رکن گوپال راؤ پہلے ہی متنازعہ رہے ہیں۔‘‘اجے رائے نے یہ بھی کہا کہ’’آرایس ایس کا پس منظر رکھنے والے افراد کو ٹرسٹ میں عہدے دئیے گئے جن میں چمپت رائے اور انل مشرا بھی شامل ہیں۔ انھوں  نے کہا کہ’اس سے قبل بی جے پی اور آرایس ایس کے لوگوں نے رام جنم بھومی شیلا پوجن کے نام پر بڑی رقم جمع کی تھی جس کا کوئی حساب کتاب موجود نہیں ہے۔ انھوں نے اس کو 1400 /کروڑ روپے کی چوری بتایا۔
دراصل رام کے نام پر چندہ خوری کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ رام جنم بھومی مکتی آندولن۔ یہ تحریک 90/کی دہائی کے آخر میں شروع ہوئی تھی اور اسی وقت رام سے آستھا رکھنے والے عقیدت مندوں کا جذباتی اور مالی استحصال شروع ہوگیا تھا۔ شروع میں یہ تحریک وشوہندو پریشد کے ہاتھوں میں تھی اوراس نے ملک وبیرون ملک سے رام مندر کے لیے جو چندہ اکٹھا کیا اس کا کبھی کوئی حساب نہیں دیا اور کبھی ایسا ہوا بھی تواسے دبادیا گیا۔ وی پی سنگھ کے دور کا ایک ایک واقعہ یاد آرہا ہے جو مارچ 1990ہے۔محکمہ انکم ٹیکس نے وشو ہندوپریشد کو ایک نوٹس اور سمن جاری کرکے چندے کا حساب کتاب طلب کیا، جس پر وشوہندو پریشد نے آسمان سرپر اٹھالیا۔ محکمہ انکم ٹیکس کے ڈپٹی ڈائریکٹر وشوبندھو گپتا نے وشو ہندو پریشد سے پچھلے دوبرسوں کی اکاؤنٹ تفصیلات طلب کی تھیں۔ اس کارروائی کے خلاف وشوہندوپریشد نے وزیراعظم وی پی سنگھ کی رہائش گاہ پر دھرنا دیا اور نوٹس واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا۔یہ وہ دور تھا جب مرکز میں نیشنل فرنٹ کی حکومت تھی اور  بی جے پی باہر سے اس کی حمایت کررہی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ محضچوبیس گھنٹے میں نوٹس اور سمن دونوں خارج کردئیے گئے۔ اگلے روز پارلیمنٹ میں اس وقت کے وزیرخزانہ مدھو ڈنڈوتے نے نوٹس اور سمن کی واپسی کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ نوٹس جاری کرنے والے افسر کا تمل ناڈو تبادلہ کردیا گیا ہے۔ وزیرخزانہ نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا کہ وشوہندو پریشد کے عہدیداران اشوک سنگھل،وشنو ہری ڈالمیا، مہنت پرم ہنس اور مہنت نرتیہ گوپال داس کے خلاف نوٹس کیوں رد کئے گئے۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جب مرکز میں بی جے پی کی حمایت یافتہ سرکار تھی، اب تو ہر جگہ ڈبل انجن کی سرکار ہے۔ یعنی ایک انجن آگے اور دوسرا پیچھے۔ گاڑی جتنی رفتار سے آگے بڑھتی ہے، اتنی ہی تیزی سے واپس آجاتی ہے۔