Jadid Khabar

گائے کی سیاست اور مسلمان

Thumb

 راجستھان کے شہر جیسلمیر میں ایک بڑے کوڑا گھر سے 500سے زیادہ مردہ گایوں کی گلی سڑی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔یہ لاشیں اس قدر بوسیدہ اور خراب حالت میں تھیں کہ ان کے پاس جانا بھی ممکن نہیں تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو نے اس سنسنی خیز واقعہ کو بحث کا موضوع بنادیا ہے اور اس معاملے میں انتظامیہ اور حکومت سے جواب طلب کئے جارہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں گایوں کی سڑی ہوئی لاشیں ملنے پر میڈیا میں کوئی ہلچل نہیں ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ راجستھان میں بی جے پی سرکار ہے اور گایوں کو اس انجام تک پہنچانے والے وہی لوگ ہیں جو اسے ’ماں‘ کا درجہ دیتے ہیں اور اس کی بے حرمتی کے نام پر  مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہروقت تیار رہتے ہیں۔ اگر یہی واقعہ کسی ایسی ریاست میں پیش آیا ہوتا جہاں غیر بی جے پی حکومت ہوتی یا پھر اس قسم کی واردات کسی مسلم علاقہ میں ہوئی ہوتی تو اب تک ہندوانتہا پسند تنظیموں نے آسمان سرپر اٹھالیا ہوتا، مگر المیہ یہ ہے کہ جیسلمیر میں گایوں کی اس درگت کے بارے میں بیشتر اخبارات نے خبریں چھاپنے سے بھی گریز کیا ہے۔ 
بلاشبہ گائے کو ہندو ’ماں‘ کا درجہ دیتے  ہیں۔ ہم اس حوالے سے اپنے برادران وطن کے جذبات کا احترام کرتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس بات کی تلقین کرتے چلے آئے ہیں کہ گائے کے ساتھ احترام کا سلوک کیا جانا چاہئے، مگر جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس ملک میں گائے کا استعمال عقیدت سے زیادہ مسلم مخالف  سیاست کے لیے ہورہا ہے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ یوں تو ہندو مذہب میں گائے کو ہمیشہ سے احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے لیکن2014 کے بعد  گائے عقیدت کی بجائے سیاست کا ہتھیار بن گئی ہے۔یعنی   مرکز میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد  اس کی سیاسی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔گائے کا تحفظ اب عقیدے سے زیادہ سیاسی مقاصد کا حصول ہوگیا ہے اور اس کا سب سے بڑا نشانہ مسلمان ہیں۔ ملک میں جگہ جگہ’گؤرکشا دل‘ بن گئے ہیں، جنھیں پولیس اور انتظامی مشنری سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں۔ انھیں یہ اختیار  دیا گیا  ہے کہ وہ گایوں کی نقل وحمل پر گہری نظررکھیں اور جہاں کہیں انھیں شبہ ہو وہاں ازخود کارروائی بھی کریں۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزمیں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد اب تک گؤ رکشکوں کے ہاتھوں 100سے زیادہ مسلمانوں کو ہجومی تشدد میں ہلاک کیا جاچکا  ہے۔ ان سبھی پر یہ الزام عائد کیا گیا وہ گائے اور  گائے کے گوشت کی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔اس سلسلے کی سب سے بھیانک واردات 2015 میں عید الا ضحٰی کے موقع پر اترپردیش کے دادری ٹاؤن میں ہوئی تھی جہاں ایک ادھیڑ عمر شخص  محمداخلاق کو اپنے فریج میں گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں انتہائی بے دردی سے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ 
یہ گائے کے نام پر انجام دی گئی ہجومی تشدد کی بدترین واردات تھی، جس کی گونج پورے ملک میں سنائی دی تھی۔ بعد کو جب مقامی پولیس نے محمد اخلاق کے فریج میں موجود گوشت کی فورینسک جانچ کرائی تو یہ گوشت بھینس کا ثابت ہوا، لیکن ان لوگوں کو اب تک کوئی سزا نہیں ملی ہے جنھوں نے محمد اخلاق کے  قتلکی گھناؤنی واردات انجام دی تھی۔ امید یہی تھی کہ اس بہیمانہ قتل کے بعد حکومت حرکت میں آئے گا اور گائے کے خودساختہ محافظوں پر لگام لگائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ یہ پورے ملک میں ایک ٹرینڈ بن گیا اور  مسلمانوں کو گؤکشی یا گائے کا گوشت لے جانے یا زندہ مویشیوں کی نقل وحمل کرنے کی پاداش میں ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا جانے روز کا معمول بن گیا۔ آج بھی بی جے پی کے اقتداروالی ریاستوں میں ’گؤ رکشکوں‘ کے منظم گروہ سرگرم ہیں جو مویشیوں کی تجارت کرنے والوں سے ناجائز وصولی کا کاروبار کرتے  ہیں۔بصورت دیگر ان پر گؤ کشی میں ملوث ہونے کا الزام لگاکر بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ 
حال ہی میں جمعیۃ العلماء کے صدر مولانا ارشد مدنی نے گائے کو ’قومی جانور‘ کا درجہ دینے کامطالبہ کیا ہے۔ سابق نائب صدر محمدحامد انصاری نے بھی اس مطالبے کی تائید کی ہے۔ لیکن حکومت کی طرف سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بی جے پی کے اقتدار والی بعض ریاستیں ایسی ہیں جہاں گائے کھانے کی کھلی چھوٹ ہے۔ملک کے 28 صوبوں میں سے آٹھ صوبوں میں گائے کشی اور اس کا گوشت فروخت کرنے پر پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ان میں اروناچل پردیش، گوا، کیرل، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ، تریپورہ، اور مغربی بنگال کے علاوہ دادر اور نگرحویلی، دمن اور پانڈیچری جیسے مرکز کے ماتحت علاقے بھی شامل ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ گائے ان ریاستوں کے باشندوں کو بہت مرغوب ہے اور ان میں بیشتر غیر مسلم اور آدی واسی باشندے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان صوبوں میں گائے پالنے اور انھیں قصائیوں کے ہاتھوں فروخت کرنے کا کام بھی غیر مسلم ہی کرتے ہیں۔
 مغربی بنگال میں بھی صورتحال یہی ہے جہاں حال ہی میں بی جے پی ہزار جتن کرنے کے بعد اقتدار میں آئی ہے۔ مغربی بنگال میں نافذ قانون مجریہ1951کے مطابق چودہ سال سے کم عمر کی گائے  کا ذبیحہ غیرقانونی ہے، جسے بی جے پی کی نئی نویلی سرکار نے اس انداز میں نافذ کیا ہے کہ وہاں کے ہندو کسانوں کے سامنے روزی روٹی کا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ بقرعید کے موقع پر سیکڑوں کسان اپنی گائیں فروخت کرنے کے لیے منڈیوں میں آئے، لیکن مسلمانوں نے خریدنے سے انکار کردیا۔سوشل میڈیا پر وائرل کئی ویڈیوز میں مقامی کسان اور مویشی تاجر حکومت کے فرمان کی سخت مخالفت کرتے ہوئے نظرآئے کیونکہ سویندو ادھیکاری سرکار کے حکم کے بعد مغربی بنگال کے مسلمانوں نے گائے کی قربانی سے ہاتھ کھینچ لیا۔ کئی ہندو خواتین کہہ رہی تھیں کہ انھوں نے اپنے زیورات گروی رکھ کر مویشی خریدا تھا کہ بقر عید کے موقع پر انھیں اس کی اچھی قیمت ملے گی۔ انھوں نے ان مویشیوں کو خوب کھلا پلاکر فربہ اور صحت مند کیا، لیکن اب حکومت نے جس قانون کو نافذ کیا ہے، اس کی رو سے گائے اور بھینس کا ذبیحہ صرف سرکاری سر  ٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے جس میں اس کی تصدیق ضروری ہے کہ مویشی کی عمر 14/سال سے زائد ہو، مستقل طورپر معذور یا قانونی طورپر ذبح کے لیے موزوں ہو۔
 اس دوران عیدالاضحی سے ایک روز قبل سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کرکے ملک بھر میں گائے کی قربانی پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، لیکن سپریم کورٹ نے اس پر فوری سماعت سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا ہے کہ’’آپ عید سے ایک روز قبل محض تشہیر حاصل کرنے کے لیے عدالت آئے ہیں۔“ یہ عرضی ہندو مہاسبھا کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔ گائے پر ہی کیا موقوف فسطائی طاقتیں ملک میں عیدالاضحی کے موقع پر جائزمویشیوں کی قربانی پر بھی پابندی کے مطالبات کررہی ہیں۔ بمبئی کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں بکروں کی قربانی رکوانے کے لیے وشوہندوپریشد اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے اچھی خاصی اچھل کودکی۔بعض سرپھروں نے توجانوروں کے تحفظ کے لیے ’ورچول قربانی‘کا بھی شوشہ چھوڑا ہے تاکہ انھیں جیسلمیر جیسے  کوڑا گھروں میں گلا سڑا کر مارا جاسکے۔ہربار کی طرح اس بار بھی قربانی رکوانے کے لیے فسطائی طاقتوں نے طرح طرح کے حربے اختیار کئے اور مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوششیں کی، لیکن مسلمانوں نے کمال صبروتحمل سے کام لے کر شرپسندوں کی سازش کو ناکام بنادیا اور عیدالاضحی ساتھ خیریت کے گزرگئی۔