Jadid Khabar

بنگال میں الیکشن ہورہا تھا یا جنگ؟

Thumb

پانچ اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد اب سب کی نظریں نتائج پر مرکوز ہیں۔یوں تو یہ انتخابات مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو، کیرل اور پانڈیچری کی اسمبلیوں کے لیے برپا ہوئے، لیکن ان میں سب سے زیادہ توجہ مغربی بنگال نے حاصل کی، جہاں بی جے پی نے کامیابی حاصل کرنے کے لیے سارے گھوڑے کھول دئیے اور مرکزی فورسز کا بے جا استعمال کیا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ مغربی بنگال میں الیکشن نہیں بلکہ جنگ ہورہی تھی۔ انتخابی عمل پورا ہونے کے بعد ممتا بنرجی نے بی جے پی  پر الزام لگایا کہ وہ اپنی ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کے لیے ای وی ایم مشینوں میں ہیرا پھیری اور گڑبڑکا اندیشہ ہے۔ ممتا بنرجی نے رائے شماری مراکز پر صرف مرکزی حکومت کے ملازمین کو نگراں اور معاون بنائے جانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔مودی سرکار کا آخری حربہ اکزٹ پول تھے جن میں یہ دکھایا گیا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کو اکثریت حاصل ہورہی ہے، لیکن اکزٹ پول پر اعتبار اس لیے نہیں کیا جاسکتاکہ2021کے چناؤ میں بھی اکزٹ پول بی جے پی کی کامیابی کا اعلان کررہے تھے لیکن جب کاؤنٹنگ ہوئی  تو ترنمول کانگریس نے کامیابی کا پرچم لہرایا۔ اگر رائے شماری میں گڑبڑنہیں ہوئی تو اس بار کے نتائج بھی پچھلے اسمبلی انتخابات کے نتائج سے مختلف نہیں ہوں گے۔ اطمینان بخش بات یہ ہے کہ مغربی بنگال کے عوام نے خودکو ڈرانے اور دھمکانے کی تمام کوششوں کا منہ توڑ جواب دیا۔
29/اپریل کی شام کو چھ بجے پولنگ ختم ہونے کے بعد جب اکزٹ پول کے نتائج آنے شروع ہوئے تو سب کی نظریں مغربی بنگال کی طرف لگی ہوئی تھیں کیونکہ اصل گھمسان وہیں ہورہا ہے اور بی جے پی نے ممتا بنرجی کو ہرانے کے لیے تمام غیراخلاقی راستے اختیار کئے ہیں۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ملک میں پہلی بار کسی الیکشن کو جیتنے کے لیے مرکزی فورسز کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ سب سے زیادہ تعینا تی سی آر پی ایف کی تھی، جس کے تقریباً ڈھائی لاکھ جوان مغربی بنگال میں موجود تھے۔ ترنمول کانگریس کا الزام ہے کہ چناؤ کے دوران سی آر پی ایف بھارتیہ جنتا پارٹی کی پرائیویٹ آرمی کے طورپر کام کررہی تھی۔ خود ممتا بنرجی نے کہا کہ”میں نے اپنی زندگی میں ایساچناؤ کبھی نہیں دیکھا، وہ ہمیں ٹارچر کررہے ہیں۔“
قابل ذکر بات یہ ہے کہ مغربی بنگال میں پیرا ملٹری فورسز کے علاوہ قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے بھی سرگرم تھی، جس کا بنیادی کام ملک میں دہشت گردی سے متعلق معاملات کی چھان بین کرنا ہے۔ ترنمول کانگریس کے لیڈر ابھیشیک بنرجینے کہا کہ’’بنگال میں صرف آئی این ایس اور رافیل طیاروں کو اتارنا باقی تھا۔“ بنگال کی سڑکوں پر بکتر بندگاڑیوں کی نقل وحمل کو دیکھ کر کوئی بھی اندازہ لگاسکتا تھا کہ یہ چناؤ نہیں بلکہ جنگ کا میدان ہے۔عام طورپر مرکزی فورسز کا کام چناؤ کے دوران صوبائی پولیس کی مدد کرنا ہوتا ہے، لیکن یہاں مرکزی فورسز نے صوبائی پولیس کو عضو معطل بناکر چھوڑدیا۔ یہاں تک کہ  الیکشن کمیشن کی طرف سے جن پولیس افسران کو آبزرور بناکر بھیجا گیا تھا وہ باقاعدہ بی جے پی کارکن کے طورپر سرگرم عمل تھے۔
مغربی بنگال میں پہلے مرحلے کی طرح دوسرے اور آخری مرحلے میں بھی رائے دہندگان نے ڈٹ کر ووٹ ڈالے اور پچھلے تمام پولنگ ریکارڈ پیچھے چھوڑ دئیے ۔ انتخابی مبصرین بھاری پولنگ کی الگ الگ توجیحات پیش کررہے ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ اس بار کی پولنگ پر سب سے زیادہ اثر’ایس آئی آر‘کا ہے جس میں یوں تو پورے ملک کے باشندوں کو سخت مراحل سے گزرنا پڑا ہے، لیکن بنگال میں جس طرح رائے دہندگان کو ہراساں کیا  گیا ہے، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔مغربی بنگال میں ایس آئی آر کا  اصل نشانہ مسلمان تھے جن کا ریاست کی آبادی میں تنا سب تقریباً 30/فیصد ہے۔ ایس آئی آر کے سخت ترین مراحل کے دوران یہاں 90/لاکھ سے زائد ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کردیا گیا ہے، جن میں غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ آسام کی طرح یہاں کے مسلمانوں پر بھی بنگلہ دیشی ہونے کی تلوار لٹکی ہوئی ہے اور یہی بی جے پی کا سب سے بڑا یجنڈا بھی ہے۔
 سبھی جانتے ہیں کہ بی جے پی رائے دہندگان کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے ہمیشہ مسلمانوں پر’گھس پیٹھیا‘ہونے کا فرسودہ الزام لگاتی ہے، مگر وہ اس بات کا کوئی جواب نہیں دیتی کہ جب ملک کی سرحدیں مرکزی فورس’بی ایس ایف‘ کی نگرانی میں ہیں  تو پھر ’گھس پیٹھ‘ کے لیے صوبائی حکومت کیسے اور کیوں کر ذمہ دار ہے؟بی جے پی اپنی تمام تر اچھل کود کے باوجود مغربی بنگال میں کہیں بنگلہ دیشی دراندازی کو ثابت نہیں کرپائی ہے، لیکن جھوٹ، نفرت،افواہوں اور مسلم دشمنی کا یہ کاروبار اس لیے پھل پھول رہا ہے کہ اس میں گودی میڈیا مودی سرکار کا معاون ومدد گار ہے۔ یعنی  ’جھوٹ کو اتنی بار بولو کہ وہ سچ سمجھا جانے لگے۔‘
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس بار مغربی بنگال کا اسمبلی الیکشن ہمیشہ کے لیے یادگار بن گیا ہے، کیونکہ بی جے پی نے اس الیکشن کو جیتنے اور ممتا بنرجی کوہرانے  کے لیے سارے گھوڑے کھول دیئے اور ہر جائزو ناجائز راستہ اختیار کیا۔ الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کو بے دست وپا کرکے نظم ونسق کی صوبائی مشنری مرکزی فورسز کے کنٹرول میں دے دی۔ یہاں تک کہ بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں سے بدنام زمانہ پولیس افسروں کو یہاں الیکشن کمیشن کی طرف سے’آبزرور‘ بناکر بھیجا گیا اور وہ عوام سے یوں پیش آئے گویا یہاں قانون کی نہیں بلکہ ڈنڈے کی حکمرانی ہے۔ ان افسروں میں اترپردیش کے ایک انکاونٹر اسپشلسٹ اجے پال شرما بھی تھے جنھوں نے رائے رہندگان کو ڈرانے دھمکانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ یہ افسر یوپی کے وزیراعلیٰ کا چہیتا ہے اور جہاں جہاں اس کی ڈیوٹی رہی ہے اس نے فرض شنا سی کی بجائے بی جے پی کے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کام کیا ہے۔اجے پال شرما کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی ہے، جس میں ان پر کسی وارنٹ کے بغیر رات کی تاریکی میں چوبیس پرگنہ علاقہ میں گھروں میں داخل ہونے، خواتین پر حملہ کرنے اور دھمکیاں دینے کا الزام ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں وہ ٹی ایم سی امیدوار جہانگیر خاں کا نام لے کر دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ایف آئی آردرج کرانے والی خاتون نے الزام لگایا ہے کہ ملزم نے اسے مخصوص سیاسی جماعت کو ووٹ دینے کے لیے دباؤڈالا اور دھمکیاں دیں۔
ہر ریاست میں الیکشن کے دوران کمیشن کی طرف سے کچھ آبزرور تعینات کئے جاتے ہیں جن کا مقصد مقامی مشنری پر نظررکھنا اور اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن کو دینا ہوتا ہے۔ یہ آبزرور مقامی پولیس کی نگرانی میں کام کرتے ہیں لیکن اجے پال شرما کی جس قسم کی ویڈیو منظر عام پرآئی ہیں ان سے صاف ظاہر ہے کہ وہ وہاں ترنمول کانگریس کے امیدواروں اور ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے کے مقصد سے بھیجے گئے تھے۔یوں بھی ان کی شبیہ ایک متنازعہ پولیس آفیسر کی ہے اور کئی معاملات میں انکوائری کا سامنا کرچکے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ شرما کے خلاف سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی دائر کرکے انھیں الیکشن ڈیوٹی سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔اس عرضی میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ آئی پی ایس افسر کا رویہ نہایت جانبدارانہ ہے اور وہ امیدواروں کو دھمکا رہے تھے۔
ممتا بنرجی پچھلے پندرہ سال سے مغربی بنگال میں بلا شرکت غیرے اقتدار میں ہیں اور یہاں کے رائے دہندگان پر ان کی گرفت خاصی مضبوط ہے۔ انھوں نے مغربی بنگال میں اقتدار سی پی ایم سے چھینا تھا جو ریاست میں تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے برسراقتدار تھی۔آج وہاں سی پی ایم کا کوئی نام لیوا نہیں ہے۔حالیہ انتخابات کے دوران بی جے پی کی اچھل کود اور مرکزی فورسز کے بے دریغ استعمال کے بعد سوال یہ ہے کہ کیا واقعی بنگال کا اقتدار ممتا بنرجی کے ہاتھوں سے چھن رہا ہے۔ اس سوال کا صحیح جواب4/مئی کی صبح کو ملے گا، جب پانچ اسمبلیوں کے اصل نتائج سامنے آئیں گے۔