اسلام آباد سے چالیس کلو میٹر دورواقع خوبصورت سیاحتی مقام ’مری‘اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے۔ یوں تو یہاں شدید گرمی سے پریشان سیاح ٹھنڈک حاصل کرنے پہنچتے ہیں، لیکن اس بار یہاں لوگ ایک خطرناک جنگ کی حدت کم کرنے پہنچے ہیں۔ پاکستان کی ثالثی میں یہاں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات شروع ہوچکے ہیں۔ یہ سب کچھ دوہفتہ کی عارضی جنگ بندی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے ہورہا ہے۔ گزشتہ بدھ کو جب ایک سیاہ ترین رات گزرجانے کے بعدیہ معلوم ہوا کہ اب مکمل تباہی نہیں بلکہ جنگ بندی ہوگی اور گفتگو کی میز پر مسائل حل کئے جائیں گے تو پوری دنیا نے چین کی سانس لی، ورنہ امریکی صدر ٹرمپ نے جس طرح ایک رات میں ایک مکمل تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی دی تھی تو سب کی سانسیں رک گئیں تھیں۔ خاص طور پر یہ رات ایران پر بہت بھاری گزری، مگر تمام تر خطرات کے باوجود انھوں نے ہتھیار نہیں ڈالے اور وہ”اللہ اکبر“ کی صدائیں بلند کرتے رہے۔بے شک اللہ بہت بڑا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی گیدڑ بھپکیوں کے بعدجب صدر ٹرمپ نے دوہفتہ کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تو گز شتہ کئی دن سے جاری ان اندیشوں کا خاتمہ ہوگیا جو ایران اور اس کی تہذیب کو مٹانے سے ذہنوں میں گردش کررہے تھے۔ صدرٹرمپ نے ایران میں اپنی مسلسل ناکامیوں کا انتقام لینے کے لیے پوری ایرانی تہذیب کو ملیا میٹ کردینے کی جو دھمکی دی تھی،وہ محض گیدڑ بھپکی ثابت ہوئی۔ بدترین جنگی جنون میں مبتلا صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ”بدھ کی رات ایران پر بہت بھاری پڑے گی۔ ایک پوری تہذیب اس انداز میں ختم ہوجائے گی کہ اسے پھر کبھی واپس نہیں لایا جاسکے گا۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو، لیکن شاید ایسا ہی ہوگا۔‘‘ٹرمپ کے جواب میں ایرانی صدر نے کہا تھا کہ”ایرانی عوام شہادت اور قربانی کے جذبہ سے سر شار ہیں۔ ہم مٹ جائیں گے، لیکن جھکیں گے نہیں۔‘‘انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ’’سکندر نے جلایا، منگولوں نے تباہی مچائی،تاریخ نے کئی بار امتحان لیا، لیکن پھر بھی ایران موجود ہے،ہم کسی لیڈر کی دھمکی سے مٹیں گے نہیں۔‘‘ آخری دھمکی کے طورپر صدر ٹرمپ نے ایران کے تمام پاورپلانٹ، پل اور بنیادی ڈھانچوں پر حملہ کرکے ایران کو بے دست وپا کرنے کی بات کہی تھی اور جاتے جاتے ایران کے 90/فیصد تیل ذخائر پر بم ہی نہیں برسائے بلکہ امریکی فائٹر جیٹ ایران میں 12/برج اور تین شہروں کے ریلوئے نظام کو تباہ کردیا۔
ٹرمپ کی خوفناک دھمکیوں کے بعد پوری دنیا یہ سوچ رہی تھی کہ شاید ایران پر ایسا ہی ایٹمی حملہ ہونے والا ہے جیسا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ہوا تھا۔ ایران نے ممکنہ ایٹمی حملے سے بچنے کے لیے مغربی ایران میں واقع واحد ایٹمی پلانٹ والے ’بوشہر‘کے باشندوں کو دولاکھ آیوڈین گولیاں بانٹ کر انھیں یہ ہدایت دی تھی کہ ایٹمی حملہ ہونے کی صورت میں انھیں کھالیں۔ دوسری طرف زمینی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران کے ایک کروڑ چالیس لاکھ شہریوں کو جنگی رضاکار بننے کی تربیت دی جارہی تھی، جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
بدھ کی صبح جب پوری دنیا امریکہ کی طرف سے دی گئی ڈیڈلائن کے ختم ہونے کا سانسیں روک کر انتظار کررہی تھی اور ایران کے دشمن ا س کی تباہی وبربادی کی ’خوشخبری‘کے منتظر تھے کہ اچانک صدر ٹرمپ کا ایک بیان ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ’ٹروتھ‘پر نمودار ہوا جس میں انھوں نے دوہفتہ کے لیے جنگ روکنے کی بات کہی۔اسرائیل نے بھی اس پر ہاں کہی۔ جب یہ خبر ایران پہنچی تو وہاں کے باشندے اپنی جیت کا جشن منانے سڑکوں پر نکل آئے۔ ان کے ہاتھوں میں ایرانی پرچم اور زبان پر’اللہ اکبر‘کے نعرے تھے۔ وہ زبان حال سے یہ کہہ رہے تھے کہ’’یہ دنیا اللہ کی بنائی ہوئی ہے اور وہی اس کا مالک ومددگار ہے۔سپرپاور ہونے کے غرور میں کوئی کچھ بھی کہے آخر جیت اللہ کی بڑائی بیان کرنے والوں کی ہی ہوتی ہے۔“ایران کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی اس کی شرطوں پر ہوئی ہے، جن میں آبنائے ہرمز کو کھولنے کی مشروط پیشکش بھی شامل ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ادھر جنگ بندی کا اعلان ہوا اور ادھر اسرائیل نے لبنان پر بم برسانے شروع کردئیے جس کے نتیجے میں 250 شہریوں کی ظالمانہ ہلاکت ہوئی۔ اتنا ہی نہیں اگلے روز اس نے کئی لبنانی کمانڈروں کو گھات لگاکر موت کے گھاٹ اتاردیا۔ ایران نے کہا کہ لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں جنگ بندی پر خطرات کے بادل منڈلارہے ہیں۔ اگر حملے جاری رہے تو مذاکرات ممکن نہیں ہوں گے۔ تب اسرائیل نے حملے روک کر حزب اللہ کو امریکہ میں مذاکرت کی دعوت دی۔ اس طرح عارضی جنگ بندی پر منڈلا رہے خطرات رفع ہوئے۔اب امریکہ اورایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کا عمل شروع ہوچکا ہے۔مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس کررہے ہیں جبکہ ایران کی نمائندگی وزیرخارجہ عباس عراقچی کررہے ہیں۔ درمیان میں پاکستان کے فوجی سربراہ عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف ہیں۔
کہا جارہا ہے کہ جنگ بندی اور مذاکرات پاکستان کی پہل قدمی کا نتیجہ ہیں۔ صدر ٹرمپ نے جنگ بندی سے متعلق جو بیان جاری کیا ہے اس میں واضح طور پر یہ لکھا ہے کہ’’پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فوجی سربراہ عاصم منیر کی درخواست پر وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دوہفتوں کے لیے موخر کرنے پر آمادہ ہیں بشرطیکہ آبنائے ہرمز فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دے۔“ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ ہندوستانی سفارت کاری کی بڑی ناکامی ہے۔کیونکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ رکوانے اور دونوں متحارب ملکوں کواپنے یہاں گفتگو کی میز پر لانے کا کام ایک ایسے ملک نے انجام دیا ہے جو ہندوستان کا روایتی حریف ہے اور جس کے ساتھ ہمارے تعلقات تاریخ کے سب سے بدترین دور میں ہیں۔ پاکستان کو اس معاملے میں اچانک اتنی اہمیت کیوں حاصل ہوئی اور اس کی ثالثی کو کیوں قبول عام حاصل ہوا، یہ ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ خارجہ پالیسی کے معاملے میں صبروتحمل ہی سب سے بڑی ڈپلومیسی ہے۔ واضح رہے کہ گز شتہ مارچ میں جب وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کے دورے پر گئے تو خطہ میں کشیدگی اپنی انتہاؤں پر پہنچ چکی تھی۔ یہاں تک کہ امریکی وزیرخارجہ نے بھی اپنا اسرائیل کا دورہ ملتوی کردیا تھا، لیکن وزیراعظم مودی زبردست جوش وخروش کے ساتھ اسرائیل گئے اور وہاں کی پارلیمنٹ کو خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اسرائیل کو ’مدرلینڈ‘تک کہہ ڈالا۔
وزیراعظم کی وطن واپسی کے تیسرے ہی دن اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کردیا۔ یہ حملہ اتنا شدیدتھا کہ پہلے ہی مرحلہ میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت ہوگئی جس نے پوری دنیا کے مسلمانوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑادی۔ المیہ یہ ہے کہ ہندوستان نے نہ تو اس جارحیت کی مذمت کی اور نہ ہی خامنہ ای کی موت پر اظہار تعزیت کیا۔ جبکہ ہندوستان اور ایران کے درمیان صدیوں پرانے تاریخی اور تہذیبی رشتوں کی بنیاد پر ایسا کرنا بہت ضروری تھا۔ بعد کو جب لعنت وملامت ہوئی تو وزارت خارجہ کے سیکریٹری وکرم مصری کو ایرانی سفارتخانے میں تعزیت نامہ پر دستخط کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ حالانکہ یہ کام وزیرخارجہ کو انجام دینا چاہئے تھا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہندوستان کی اس سردمہری کا جواب ایران نے گرمجوشی کے ساتھ دیا اور ہندوستان آنے والے کروڈ آئل کے جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کے دروازے کھول دئیے۔
۶/اپریل کو آبنائے ہرمز کھولنے کی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کی حالت ناگفتہ بہ ہوگئی تھی۔ انھوں نے شدید ہیجان کے عالم میں یہ اعلان کردیا تھا کہ’’بدھ کی رات قیامت کی رات ہوگی اور اس رات کو دنیا کی ایک قدیم تہذیب ہمیشہ کے لیے ملیا میٹ ہوجائے گی۔‘کوئی اور ملک ہوتا تو صدرٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد گھٹنوں پر آجاتا،لیکن ایران نے اسے گیدڑ بھپکی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور پوری قوت کے ساتھ اپنے قدموں پر کھڑا رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صدرٹرمپ کو ایک بار پھر گفتگو کی میز پر آنا پڑا اور انھوں نے جنگ بندی کا اعلان کرنے ہی میں عافیت سمجھی۔ صدر ٹرمپ کے خلجان کی اصل وجہ آبنائے ہرمز کا بند کیا جانا تھا جس کی وجہ سے پوری دنیا میں تیل اور قدرتی گیس کا بحران شدید تر ہوگیا ہے۔آبنائے ہرمز ہی وہ ترپ کا پتہ تھا جس کی وجہ سے ایران نے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا سرنگوں کیا۔ صدرٹرمپ کی طرف سے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی تمام کوششیں رائیگاں چلی گئیں اور وہ اس معاملے میں بالکل تنہا رہ گئے تو انھوں نے مایوسی کے عالم میں زہر اگلنا شروع کردیا۔ان کو آخری چوٹ اس وقت لگی جب اقوام متحدہ میں آبنائے ہرمز کو کھولنے کی تجویز مسترد ہوگئی۔روس اور چین نے ایران کی حمایت میں اس تجویز کو ویٹو کردیا۔ اب ٹرمپ کے سامنے اپنی باقی ماندہ عزت بچانے کا واحد راستہ جنگ بندی ہی تھا۔ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا سب سے اہم موضوع آبنائے ہرمز ہی ہے۔ دوسرا موضوع ایران کا یورونیم افزودگی پروگرام ہے جس کے پرامن مقاصد پر بحث ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ ایران پر یہ بھی زور دیا جارہا ہے کہ وہ اپنے میزائل پروگرام کو محدود کرے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔