Jadid Khabar

لکش دیپ کی مسلم شناخت پر زعفرانی حملہ

Thumb

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ بی جے پی راج میں صوبوں کے گورنر اور ایڈمنسٹریٹرپوری بے شرمی کے ساتھ سیاسی ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہیں۔اس کی تازہ ترین مثال لکش دیپ کے ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل ہیں ، جنھوں نے 97 فیصد مسلم آبادی والے اس جزیرے میں ہندو ایجنڈا نافذ کرنا شروع کردیا ہے۔انھوں نے اس خوبصورت جزیرے کی شکل وصورت بگاڑنے کے لیے ایسے انوکھے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی وجہ سے اس علاقہ کی مسلم شناخت ہی ختم ہوجائے ۔حکمراں بی جے پی کی تنگ نظری اور مسلم دشمنی کا اس سے بڑھ کر ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ وہ ملک کی واحد مسلم یونین ٹیرٹری کے باشندوں کو بھی ان کی مذہبی شناخت اور ثقافت کے ساتھ زندہ رہنے کا موقع نہیں دینا چاہتی۔وہ بی جے پی جو ’ سب کا ساتھ اور سب کا وکاس‘ کی بات کرتی ہے ، اس ملک میں صرف اور صرف ہندتو کے فروغ اور تسلط کو ہی پسند کرتی ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ لکش دیپ کے ایڈمنسٹریٹر اپنی آئینی ذمہ داریوں کو بھول کر وہاں زعفرانی ایجنڈا نافذ کرنے پر بضد ہیں اور انھوں نے مقامی باشندوں کے جمہوری اور انسانی حقوق کو روندنا شروع کردیا ہے۔
دنیا دیکھ رہی ہے کہ پہلے جو گورنر اور ایڈمنسٹریٹر خاموشی سے اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرتے تھے ، اب وہ اپنی ان ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کرحکمراں جماعت کے کارکنوں کی طرح کام کررہے ہیں۔مغربی بنگال ،آسام اور تری پورہ کے گورنروں کے بیانات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں اپنے آئینی عہدے کی مریادا کا کوئی پاس نہیں ہے اور انھوں نے ساری شرم وحیا کہیں گروی رکھ دی ہے۔ان ہی کی صف میں ایک نیا نام لکش دیپ کے ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل کا بھی شامل ہوا ہے، جو ہندتو کی لیباریٹری گجرات سے لکش دیپ پہنچے ہیں ۔گجرات کے سابق وزیرداخلہ پرفل کھوڑاپٹیل کو یہاں کس صلاحیت کی بنیاد پر ایڈمنسٹریٹر بناکر بھیجا گیا ہے، ہمیں نہیں معلوم ، لیکن وہ جس انداز میں تغلقی فرمان جاری کررہے ہیں ، اس سے یہ ضرور اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس 97فیصد مسلم آبادی والے جزیرے میں بھی ’ ہندوراشٹر‘ قایم کرکے ہی دم لیں گے۔ انھوں نے مقامی مسلم آبادی کو دیوار سے لگانے اور اس کی مسلم شناخت کو مٹانے کے لیے ہر وہ کام شروع کردیا ہے جو فسطائی ایجنڈے کی پہچان ہے۔انھوں نے لکش دیپ کی ترقی اور وہاں سیاحت کے فروغ کے عنوان سے جو نیا منصوبہ تیار کیا ہے ، اس کے تحت یہاں بیف کے استعمال پر پابندی، شراب کی فروخت کی حوصلہ افزائی، پنچایت چناؤ میں دوسے زیادہ بچے پیدا کرنے والوں کی شرکت پر روک، غنڈہ ایکٹ کا نفاذ اور زمین مالکان کے مفادات کو نظرانداز کرکے اتھارٹی کو زمین حاصل کرنے کا حق دیا جارہا ہے۔یہ وہ تمام احکامات ہیں جن کی وجہ سے لکش دیپ کے امن پسند باشندوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ اپنے یہاں ا س قسم کے ظالمانہ اور قطعی غیر جمہوری اقدامات کے خلاف صف آراء ہورہے ہیں۔
 ان اقدامات کی وجہ سے پڑوسی ریاست کیرل میں بھی سخت تشویش پائی جاتی ہے اور وہاں کی اسمبلی میں ان اقدامات کے خلاف قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لکش دیپ میںایڈمنسٹریٹر کے غیرجمہوری اقدامات کے خلاف کیرل میں بھی احتجاج ہورہے ہیں۔ کیرل میں بایاں محاذ کے وزیراعلیٰ پنارائی وجن نے اخبار نویسوں کے روبرو کہا کہ ’’لکش دیپ کے تعلق سے ان کے صوبے میں بھی شدید جذبات پائے جاتے ہیں۔اس لیے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر کے اقدامات کے خلاف اسمبلی میں ریزولیوشن پاس کیا جائے۔‘‘ادھرکیرل اسمبلی کے اسپیکر کا کہنا ہے کہ ’’لکش دیپ میں غیرمعمولی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔لہٰذا مرکزی حکومت کو عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مداخلت کرنا چاہئے۔‘‘
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایڈمنسٹریٹر کے غیرجمہوری اور عوام مخالف اقدامات کے خلاف خود بی جے پی کی لکش دیپ یونٹ میں بغاوت ہوگئی ہے اور اس کے کئی عہدے دار پارٹی سے مستعفی ہوگئے ہیں۔صدرجمہوریہ اور وزیرداخلہ کوتحریری شکایات بھیجنے کے بعدبی جے پی یووا مورچہ کے آٹھ عہدیداران نے گزشتہ ہفتہ مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ پرفل پٹیل پر آمرانہ طریقہ کار کا الزام عائد کرتے ہوئے مزید کارکنان مستعفی ہوسکتے ہیں۔یووا مورچہ کے سابق جنرل سیکریٹری پی پی محمدہاشم کا کہنا ہے کہ ’’ ہم اس جزیرے میں ترقی کے مقصد سے بی جے پی میں شامل ہوئے تھے، لیکن انتظامیہ کسی کی نہیں سن رہی ہے اور وہ زبردستی اپنے فیصلوں کو مسلط کررہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قوانین لکش دیپ کے لوگوں کی زندگی میں پریشانی کا سبب بنیں گے، اس لیے ہم نے بطور احتجاج مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
کیرل کے ساحل سے تقریباً ڈھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس خوبصورت جزیرے کی آبادی 65 ہزار کے قریب ہے اور یہاں ایک لوک سبھا سیٹ ہے، جہاں سے ہمیشہ مسلم امیدوار منتخب ہوتا چلا آرہا ہے۔ کانگریسی لیڈرمرحوم پی ایم سعید نے برسوں اس حلقے کی نمائندگی کی اور وہ مرکزی کابینہ میں بھی شامل رہے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے فرزند اس سیٹ سے منتخب ہوئے اور اب یہاں این سی پی کے محمدفیصل رکن پارلیمان ہیں۔ یہ علاقہ اپنی امن پسندی اور ترقی کے لیے جانا جاتا ہے۔لیکن بی جے پی کو یہ بات گوارا نہیں ہے کہ اس ملک میں کوئی ایسا بھی حلقہ ہو جہاں کے تمام رائے دہندگان مسلمان ہوں اور انھیں اپنی تہذیب وثقافت پر ناز ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حکمراں جماعت نے مسلم اکثریتی ریا ست جموں وکشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت کو ختم کرکے اسے یونین ٹیرٹری میں تبدیل کردیا ہے۔اب ملک کے واحد مسلم اکثریتی حلقے لکش دیپ میں انتشار پھیلانے کی تیاری ہے۔
لکش دیپ مرکز کے زیرانتظام علاقہ (UT)ہے، جس کا سربراہ ایڈمنسٹریٹر ہوتا ہے۔ یہاں ہمیشہ کسی آئی اے ایس افسر کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جاتا رہا ہے، لیکن گزشتہ دسمبر 2020میں یہاں گجرات بی جے پی کے ایک لیڈر پرفل کھوڑا پٹیل کو یہاں کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیاہے۔ انھوں نے اپنے مخصوص ایجنڈے کو یہاں نافذ کرنے کے لیے ترقی کے نام پر ایک نیا پلان بنایا ہے۔ اس ڈرافٹ کو لکش دیپ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ریگولیشن(LDAR)کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں بیف کے ذبیحہ، اس کی خریدوفروخت اور استعمال پر پابندی کی تجویز پیش کی گئی ہے، جبکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ یہاں سبھی مسلمان آباد ہیں، جو برسہا برس سے بیف کھا رہے ہیں اور یہی ان کی مرغوب غذا ہے۔دوسری تجویز یہاں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے شراب خانے کھولنے کی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس مسلم جزیرے میں جہاں کی بیشتر آبادی مذہب کی پابند ہے، کبھی شراب خانوں کی اجازت نہیں دی گئی اور سبھی باشندے شراب نوشی کے مخالف ہیں۔پرفل پٹیل نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ ترقیاتی مقاصد کے تحت کسی کی بھی اراضی لی جاسکتی ہے۔ مقامی باشندوں کو خدشہ ہے کہ اس قانون کے تحت ان کی اراضی چھین لی جائے گی۔ ایک اور تجویزان لوگوں کو پنچایتی چناؤ میں حصہ لینے سے روکنے کی ہے جن کے دوسے زیادہ بچے ہیں۔یہ تجویز اس حقیقت کے باوجود پیش کی گئی ہے لکش دیپ میں پیدائش کی شرح سب سے کم ہے۔ اس کے علاوہ ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل نے یہاں غنڈہ ایکٹ نافذ کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔یہ تجویزایک ایسی علاقہ کے لیے پیش کی گئی ہے، جہاں نیشنل کرائم بیورو کی رپورٹ کے مطابق جرائم کی شرح پورے ہندوستان میں سب سے کم ہے۔
ان تمام تجاویز سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ سب کچھ اس ریاست میں بے چینی پیدا کرنے اور یہاں کے مسلم باشندوں کو دیوار سے لگانے کے لیے کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی مسلم آبادی  میںیہ خوف سرایت کرگیا ہے اور انھیں اندیشہ ہے کہ ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل کی تجاویز ایک وسیع منصوبے کا حصہ ہیں جس کے ذریعہ ان کی سماجی ، تہذیبی ، ثقافتی اور معاشی شناخت کو زک پہنچانا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پرفل پٹیل کے تیارکردہ زعفرانی ڈرافٹ کی چو طرفہ مذمت کی جارہی ہے اور اسے فوری طورپر واپس لینے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ پلان تیار کرنے سے قبل پٹیل نے مقامی آبادی تو کجا یہاں کے عوامی نمائندوں سے بھی کوئی صلاح مشورہ نہیں کیا ہے اور قطعی غیر جمہوری طریقے سے وہ یہاں اپنا زعفرانی ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جس کی ہرسطح پر مخالفت ہونی چاہئے۔

 

Ads