Jadid Khabar

گیان واپی مسجد کے خلاف شرانگیزی

Thumb

بنارس کی گیان واپی مسجد کے خلاف شر پسندوں نے سازشوں کا ایسا ہی جال بچھا نا شروع کر دیا ہے جیسا کہ بابری مسجد کے خلاف بچھایا گیا تھا اور جس کا انجام اس کی ظالمانہ شہا دت پر ہوا۔حالانکہ ملک میں ایک ایسا قانون موجود ہے جو ملک کی تمام عبادت گاہوں کی جوں کی توں صورت حال کو قائم رکھنے کے بارے میں تحفظ فراہم کرتا ہے‘ لیکن المیہ یہ ہے کہ اب اس قانون کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور فرقہ پرست طاقتیں اپنے مــذموم مقاصد کو پورا کرنے کے لئے کمر بستہ ہیں۔سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ملک کے عدالتی نظام کا ایک حصہ ان شرپسند طاقتوں کو شہ دے رہا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گیان واپی مسجدکی کھدائی کا حکم دینے والے سول جج اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات سے تجا وز کرتے ہوئے محکمہ آ ثار قدیمہ کو یہ حکم دے دیا ہے کہ وہ گیان واپی مسجدکے زیر زمین علاقے کا سروے کرائے۔اس سروے کا مطلب یہ پتہ لگانا ہے کہ کہیں یہ مسجد کسی مندر کو توڑ کرتو نہیں بنائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ اس سلسلے میں داخل کی گئی عرضی میں کہا گیا تھا کہ یہ مسجد ہندووں کی زمین پر بنی ہے اور عدالت وہاں انہیں پوجا کرنے اورمندر کی تعمیر نو کرنے کی اجازت دے۔عرضی گزار نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مسجد کاشی وشوناتھ مندر کے ایک حصہ کو توڑ کر بنائی گئی ہے۔واضح رہے کہ عدالت نے محکمہ آــثار قدیمہ کے ڈائرکٹر جنرل کو اس سلسلے میں پانچ رکنی کمیٹی بنانے کا حکم دیا ہے جس میں آثار قدیمہ کے ماہرین کو شامل کیا جائے گا۔
اس بحث سے قطع نظر کہ کوئی عدالت حق ملکیت کے کسی مقدمے میں کسی عمارت کو کھودنے اور اس کے زیر زمین حقائق کا پتہ لگانے کی مجاز ہے یا نہیں‘یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ مذکورہ سول جج نے ایک ایسیمقدمے میں اپنے اختیا رات سے تجاوز کرکے فیصلہ سنایا ہے جو کہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اورالہ آباد ہائی کورٹ اس پر سنوائی مکمل کرنے کے بعد اپنا فیصلہ بھی محفوظ کر چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سول جج کے حکم کے خلاف عدالت عالیہ میں پٹیشن داخل کر دی گئی ہے۔سنی سینٹرل وقف بورڈ کے وکیل پو نیت کمارگپتا نے ذیلی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے یہ دلیل دی ہے کہ اس معاملے میں ضلعی کورٹ نے غیر قانونی طریقے سے حکم جاری کیا۔واضح رہے کہ گزشتہ15 مارچ کو ہائی کورٹ کے جسٹس پرکاش پانڈیا اس پر اپنا فیصلہ محفوظ کر چکے ہیں اور یہ معاملہ ذیلی عدالت کے دائرہ اختیار میں تھا ہی نہیں۔ گیان واپی مسجد کی منتظمہ کمیٹی بھی بنارس کی ذیلی عدالت کے فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر چکی ہے۔
ظاہر ہے جب بنارس کے سول جج کا فیصلہ طے شدہ عدالتی ضابطوں کے خلاف ہے اور یہ عدالت عالیہ کے اختیارات کو بھی چیلنج کرتا ہے تو اس پر روک لگنا لازمی ہے۔لیکن یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک کے اندر چاروں طرف ہا ہا کار مچی ہوئی ہے اور کورونا وائرس کی تبا ہ کاریوں نے پورے ملک کو تہہ و بالا کر رکھا ہے تو اس انتہائی سنگین بحرانی دور میں بنارس کے سول جج کافرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے والا یہ فیصلہ کیا معنی رکھتا ہے۔ظاہر ہے یہ اپنا نجی یا سیاسی ایجنڈا پورا کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس دوران ہی اتر پردیش سے یہ خبر بھی آئی ہے کہ یوگی سرکار نے بابری مسجد انہدام سازش کیس کے ملزمان کو با عزت بری کرنے والے جج ایس کے یادو کو اتر پردیش کا ڈپٹی لوک آیکت مقرر کر دیا ہے۔یہ’انعام‘ سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے اس جج کو دیا گیا ہے جس نے بابری مسجد انہدام سازش کیس کے ملزمان کے خلاف پیش کئے گئے تمام ثبوتوں کو ’ناکافی‘قرار دے دیا تھا۔گزشتہ سال30 ستمبر کو اپنے رٹائر منٹ کے دن جسٹس یادو نے ان تمام 32ملزمان کو بری کردیا تھا جن کے خلاف ٹھوس ثبوتوں کی بنیا د پر فرد جرم داخل کی گئی تھی۔ان ملزمان میں بی جے پی لیڈر لال کرشن اڈوانی‘مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی بھی شامل تھے۔یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس سے قبل حکومت بابری مسجد کی ملکیت کا فیصلہ رام مندر کے حق میں سنانے والے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو راجیہ سبھا کا ممبر نامزد کرکے انعام سے نواز چکی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے حلف اٹھانے کے بعد ابھی تک نہ تو راجیہ سبھا کی کسی کارروائی میں حصہ لیا ہے اور نہ ہی کوئی سوال پوچھا ہے کیوں کہ ان کے ایوان میں داخل ہوتے ہی اپوزیشن کی طرف سے شیم شیم کے نعرے بلند ہونے لگتے ہیں۔ 
قابل ذکر بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی ملکیت کا فیصلہ رام مندر کے حق میںصادر کرتے ہوئے بعض ایسی باتیں کہی تھیں جنہیں مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچنے کی نظیر کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں 1991 کے اس خصوصی قانون کا حوالہ دیا تھا جس میں کہاگیا ہے کہ 15 اگست 1947کو یعنی ملک کی آزادی کے وقت جو عبادت گاہیں جس حالت میں تھیں ان کو تحفظ فراہم کیا جائے گا اور ان کی جو ں کی توں پوزیشن بر قرار رہے گی۔اس قانون سے بابری مسجد تنا زعہ کواس لئے الگ رکھا گیا تھا کیوں کہ اس معاملہ پر پہلے ہی سے تنازعہ چل رہا تھا اور معاملہ عدالت میںزیر سماعت تھا۔ سپریم کورٹ کے فاضل ججوں نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے  کہ کسی اور معاملے کومستثنیٰ قرارپانے کا حق نہیں ہے اور نہ ہی یہ قانونی اور دستوری طور پر ممکن ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے ججوں نے لکھا ہے کہ ’’پیچھے کی طرف نہ لوٹنا دستور کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے اور سیکولرزم بھی ایسا ہی ایک اصول ہے۔‘‘
ملک میں سرگرم فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں نے مسلمانوں سے انتقام لینے کے لئے ان کی عبادت گاہوں کو تہس نہس کرنے کی جو سازش تیار کی ہے‘اس کا مقصد مسلمانوں کے اندر دویم درجے کے شہری ہونے کا احساس پیدا کرنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یکے بعد دیگرے مغلیہ دور میں تعمیر کی گئی تاریخی مسجدوں کے نیچے مندر تلاش کرنے کی خطر ناک مہم شروع کی گئی ہے۔جس وقت یہ سطریں لکھی جا رہی ہیں تو متھرا کی شاہی عیدگاہ اور آگرہ کی جامع مسجد کے خلاف بھی گیان واپی مسجدجیسی عرضیا ں عدالتوں میں داخل کی گئی ہیںاور ان معاملوں میں بھی گیان واپی مسجدکی طرح زیر زمین سروے کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔
 عرضی گزار نے عدالت میں اس زمین کی سائنسی تفتیش کے لئے درخواست دائر کی ہے جس پر متھر ا کی عظیم الشان شاہی عید گاہ تعمیر ہے۔اس کے ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ آگرہ میں واقع جہا ں آرا مسجد کے نیچے کھدائی کروائی جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وہاں کیا دفن ہے۔سول جج جیوتی سنگھ کے سامنے پیش کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ مورتیوں کو تلاش کرنے کے لئے تہہ تک پہنچنا ضروری ہے۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ فرقہ پرست مورخین نے آزادی کے بعد ملک میں ایک ایسی من گھڑت تاریخ تیا ر کی ہے جس کا مقصد مسلم دور حکومت کی ہر عمارت کے نیچے ایک ہندو مندر ثابت کرناہے۔بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے لکھی گئی اس فرضی تاریخ کی نہ تو کوئی بنیا د ہے اور نہ ہی کوئی حوالہ۔
اب آئیے ایک بار پھر ایودھیا تنا زعہ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے رجوع کرتے ہیں جس میںعبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق قانون کا حوالہ دیتے ہوئے اس حقیقت پر زور دیا گیا ہے کہ ’’حال یا مستقبل کو سزا دینے کے لئے کسی بھی حالت میں تاریخ یا اس کی غلطیوں کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔‘‘ مگر اسے کیا کہا جائے کہ ظلمت پسند عناصر مسلسل ایسی کوششوں میں مصروف ہیں کہ وہ ملک کے اندر ایک بار پھرایسی خطرناک فرقہ وارانہ فضا قایم کردیںجس کی زد میں لوگ اپنے اصل مسائل بھول جائیں۔یہ فضا خاص طور پر آئندہ سال کے شروع میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کو نظر میں رکھ کر پیدا کی جارہی ہے۔کیونکہ یوگی سرکار کی جھولی میںناکامیوں کے سوا کچھ نہیں ہے اوروہ ایک بار پھر عوام کو مندر مسجد کی سیاست میں الجھاکر ان کے ووٹوں پر ڈاکہ ڈالنا چاہتی ہے۔
masoom.moradabadi@gmail.com

 

Ads