وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک بار پھر این آر سی کو پورے ملک میں نا فذ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔سبھی جانتے ہیں کہ این آر سی وزیر داخلہ کا سب سے محبوب موضوع ہے ۔وہ اپنی ہر انتخابی تقریر میں خم ٹھونک کر یہ کہتے ہیں کہ این آر سی کو پورے ملک میں نافذ کریں گے اور گھس پیٹھیوں کو چن چن کر ملک سے نکالا جائے گا ۔عام خیال یہ ہے کہ وزیر داخلہ این آر سی کا مسئلہ مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے اور اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کے لئے اٹھاتے ہیں۔اگر غور سے دیکھا جائے تو این آرسی خود حکمراں جماعت کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے ۔نہ تو وہ اسے نگل سکتی ہے اور نہ ہی اگل سکتی ہے ۔آسام میں غیر ملکی با شندوں کی شناخت کے لئے این آر سی کا جو طویل اور تھکادینے والا عمل پورے چار سال تک چلا اور جس پر حکومت کے 1600کروڑ روپے خرچ ہوئے‘ اس کا حتمی نتیجہ خود بی جے پی کے خلاف ہی بر آمد ہواہے ۔یعنی آسام میں این آر سی کی حتمی فہرست میں جن 19لاکھ غیر قانونی با شندوں کی نشاندہی کی گئی ہے‘ ان میں مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلموں کی تعداد ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومت نے این آر سی کی حتمی فہرست کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے ۔لیکن سپریم کورٹ نے اس عرضی کو بھی خارج کردیا ہے چونکہ این آرسی کی پوری کارروائی بی جے پی کے شدید مطالبوں کے بعد ہی شروع ہوئی تھی اور یہ کام خود سپریم کورٹ کی نگرانی میں پوری احتیاط کے ساتھ انجام دیا گیا ہے ۔
گذشتہ بدھ کو راجیہ سبھا میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ غیر قانونی شہریوں کی شناخت کا دائرہ ملک گیر پیمانے پر وسیع کیا جائے گا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس معاملے میں کسی کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر تفریق نہیں برتی جائے گی ۔ایک دیگر سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ’’ لوگوں کے ذہنوں میں این آرسی اور شہریت ترمیمی بل کے تعلق سے غلط فہمیاں ہیں جبکہ یہ دونوں علیحدہ علیحدہ چیزیںہیں ۔این آر سی میں کسی بھی مذہب کے شخص کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘وزیر داخلہ کے اس بیان کی میڈیا میں کافی چرچا ہوئی ہے چونکہ اس میں انہوں نے مذہبی تعصب سے اوپر اٹھ کر بات کی ہے ۔ایسا شاید اس لئے ہوکہ وہ اپنا بیان پارلیمنٹ میں دے رہے تھے جہاں ہر بات ریکارڈ ہوتی ہے ۔لیکن وزیر داخلہ پارلیمنٹ کے باہر جب بھی این آرسی اور شہریت ترمیمی بل کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو ان کا لب ولہجہ خاصا تلخ و ترش ہوجاتا ہے ۔وہ این آر سی کے اگلے قدم کے طور پر جب بھی شہریت ترمیمی بل کا ذکر کرتے ہیں تو انہیں فرقہ وارانہ زبان بولتے ہوئے کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی ۔وہ خم ٹھونک کر کہتے ہیں کہ حکومت شہریت ترمیمی بل پاس کرنے جارہی ہے جس کی رو سے پڑوسی ملکوں سے آنے والے غیر مسلموں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی ۔وہ جن غیر ملکی شہریوں کا ذکر کرتے ہیں ان میں ہندو ‘سکھ ‘عیسائی ‘جین ‘پارسی اور بودھ مذہب کے لوگوں کا تو نام لیتے ہیں لیکن مسلمانوں کا نام لیتے ہوئے انہیں شرم آتی ہے۔کیونکہ ان کی ڈکشنری میں مسلمانوں کا نام شامل نہیں ہے ۔این آرسی کے معاملے میں منہ کی کھانے کے بعد بی جے پی سرکار شہریت ترمیمی بل پیش کرنے کا جو قدم اٹھانے جارہی ہے‘ وہ سراسر غیر آئینی اور غیر دستوری ہے ۔اس بل کی شکل میںملک کے اندر پہلی بار کوئی ایسا قانون بنے گا جس سے مسلمانوں کو علیحدہ رکھا جائے گا ۔یہ قانون اس اعتبارسے انتہائی خطرناک اور مضر ہے کہ ہندوستان کا آئین شہریت کے معاملے میں کسی بھی قسم کی مذہبی تفریق کی اجازت نہیں دیتا اور وہ ملک کے کسی بھی شہری کو مذہب کی عینک سے نہیں دیکھتا ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس روز وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں یہ اعلان کیا کہ این آرسی کو پورے ملک میں نافذ کیا جائے گا تو ٹھیک اسی روز آسام کی بی جے پی سرکار نے مرکزی حکومت سے این آرسی کو رد کرنے کی اپیل کی ۔بی جے پی کی صوبائی سرکار میں شامل وزیر خزانہ ہیمنت بسواشرما نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ این آر سی کی حتمی فہرست کو رد کردیا جائے ۔گوہاٹی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سینئر بی جے پی لیڈر شرما نے کہا کہ’’ 31اگست کو شائع شدہ اپ ڈیٹ این آرسی میں کئی خامیاں ہیں اور این آرسی کا یہ وسیع عمل اسٹیٹ کوآرڈ نیٹر پرتیک ہزیلا نے یکطرفہ طور پر انجام دیا ہے ۔چونکہ اس میں ترمیم کا کوئی متبادل نہیں ہے‘ لہٰذا صوبائی حکومت کے ساتھ ہی بی جے پی کی آسام اکائی بھی مرکزی حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ این آرسی کی موجودہ شکل کو خارج کردیا جائے ۔‘‘ہم آپ کو یاد دلا دیں کہ ہیمنت بسوا شرما وہی شخص ہیں جو آسام میں این آرسی کو نافذ کروانے والوں میں پیش پیش تھے اور پرتیک ہزیلا ان کے چہیتے افسر تھے لیکن جب این آر سی کی حتمی فہرست میں مسلمانوں سے زیادہ ہندو باشندوں کو غیر ملکی تارکین وطن کے طور پر نشان زد کیا گیا تو ان کا لب ولہجہ یکسر بدل گیا اور پرتیک ہزیلا کو بھی آسام سے تبادلہ کرکے کہیں اور بھیج دیا گیاہے۔یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ جب بی جے پی کے اقتدار والی ریاست آسام میں ہی این آرسی کو رد کرنے کی بات کی جارہی ہے تو پھر مرکزی وزیر داخلہ کس منہ سے این آر سی کو ملک گیر سطح پر نا فذ کرنے کی بات کررہے ہیں ؟
بی جے پی آسام کے بعد اب اپنا اگلا نشانہ مغربی بنگال کو بنا رہی ہے اور وہاں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر غیر ملکی دراندازوں کا معاملہ اٹھایا جارہا ہے ۔لیکن یہاں بی جے پی کو ترنمول کانگریس کی صوبائی حکومت کی طرف سے زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ’’ ان کی ریاست میں این آرسی اور شہریت ترمیمی بل کو نا فذ نہیں ہونے دیا جائے گا ۔‘‘انہوں نے مرشد آباد میں ایک میٹنگ کے دوران واضح الفاظ میں کہا کہ این آرسی اور شہری ترمیمی بل کا بنیادی مقصد ملک کے مخصوص طبقے کو پریشان کرنا ہے ۔لیکن یہاں مذہب کے نام پر تفریق کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور بنگال میں کسی بھی صورت میں این آرسی اور شہریت ترمیمی بل نافذ نہیں کیا جائے گا ۔‘‘وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ’’ بنگال میں این آرسی کے نفاذ سے لاکھوں ہندو شہری بھی اس فہرست میں جگہ پانے میں ناکام ہوجائیں گے ۔ہندوئوں میں شہری ترمیمی بل کے ذریعہ بھرم پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ہندو‘سکھ ‘عیسائی ‘پارسی ‘جین اور بودھ کو شہریت دی جائے گی۔‘‘انہوںنے کہا کہ’’ ہندوئوں کی ہمدردی کی بات کرنے والے جواب دیں کہ آخر لاکھوں ہندو شہریوں کے نام این آرسی کی فہرست میں شامل کیوں نہیں ہوئے ۔آسام میں این آرسی کی فہرست میں لاکھوں گورکھا شہریوں کے نام شامل نہیں ہیں ۔‘‘
سوال یہ ہے کہ آسام میں این آرسی کے معاملے پر اپنے ہاتھ جلانے کے باوجود وزیر داخلہ این آرسی کو پورے ملک میں نافذ کرنے کی بات کیوں کررہے ہیں تو اس کا ایک ہی جواب ہے کہ یہ کام فرقہ وارانہ ایجنڈے کے تحت محض مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔یہ بات ملک میں ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کی جارہی ہے کہ موجودہ حکومت شہریت کے معاملے میں مسلمانوں کے ساتھ کھلی تفریق برت رہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ گذشتہ ہفتہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف )نے الزام عائد کیا تھا کہ آسام میں این آرسی مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔مذکورہ ادارے کا کہنا ہے کہ آسام کے ہندوستانی شہریوں کو منظوری دینے والی این آرسی کی حتمی فہرست میں 19لاکھ باشندوں کا نام شامل نہیں کیا گیا ہے ۔ادارے کا کہنا ہے کہ کئی قومی اور بین الا قوامی اداروں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ آسام کی بنگالی مسلم آبادی کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے ۔کمیشن نے مزید کہا کہ اس پورے عمل کے ذریعہ شہریت کے لئے مذہب کوضروری کرنے کی کوشش ہورہی ہے اور اس سے بڑی تعداد میں مسلمانوں کے ملک بدر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔پالیسی تجزیہ نگار ہیریسن کی جانب سے تیار شدہ رپورٹ میں کمیشن نے کہا ہے کہ اگست 2019میں این آرسی کی فہرست جاری کئے جانے کے بعد بی جے پی حکومت نے ایسے اقدامات کئے ہیں جس سے مسلمانوں کے تئیں تعصب صاف ظاہر ہوتا ہے ۔کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ حکمراں بی جے پی نے ہندوستانی شہریت کے لئے مذہبی پیمانہ طے کیا ہے جس میں ہندوئوں اور چنندہ مذہبی اقلیتوں کی طرف داری کی گئی ہے اور مسلمانوں کو اس سے باہر کردیا گیا ہے ۔