Jadid Khabar

بابری مسجد پرعدالتی فیصلے سے پہلے

Thumb

بابری مسجد تنازعہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے قبل طرح طرح کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔وہ لوگ بھی عدالتی فیصلے کو ’کھلے ذہن ‘کے ساتھ قبول کرنے کی اپیل کررہے ہیں‘ جنہوں نے اس معاملے کو بگاڑنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ عدالتی فیصلے کا احترام کرنے کی باتیں بھی کہی جارہی ہیں اور ماضی کے حوالے دے کر لوگوں کو صبروتحمل سے کام لینے کے لئے بھی کہا جارہا ہے۔ملک کے عوام سانسیں روک کر عدالتی فیصلے کا انتظار کررہے ہیں اور سبھی کو اس بات کی فکر لاحق ہے کہ اگر فیصلہ ایک فریق کے حق میں برآمد ہوا تو دوسرے فریق کا رد عمل کیا ہوگا اور ملک میں کس قسم کے حالات جنم لیں گے ۔لوگوں کے ذہنوں میں ہزار قسم کے اندیشے اور خطرات کروٹیں لے رہے ہیں ۔اس دوران ایودھیا میں غیر معمولی حفاظتی بندوبست کئے گئے ہیں ۔پوری ایودھیا کو حفاظتی دستوں اور خفیہ ایجنسیوں نے اپنے گھیرے میں لے لیا ہے ۔لوگوں کی فکر کا محور یہ ہے کہ’ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہیں ویسا نہ ہوجائے‘۔اس دوران شیعہ عالم دین مولانا کلب صادق نے یہ بیان دے کر مزید اندیشوں کو جنم دے دیا ہے کہ’’ اگر فیصلہ مسلمانوں کے حق میں بھی آجائے تو وہ خندہ پیشانی کے ساتھ بابری مسجد کی اراضی ہندوئوں کو سونپ دیں تاکہ وہ وہاں مندر تعمیر کرسکیں ۔‘‘
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آئندہ چند روز میں ملک کی سب سے بڑی عدالت ایودھیا کے پیچیدہ اور سنگین تنازعہ پر جو فیصلہ سنائے گی اس کی بنیاد کیا ہوگی اور حق کے ملکیت کا یہ مقدمہ جس میں ہزار پیچ ڈال دئیے گئے ہیں ‘کس طرح فیصل کیاجائے گا۔حالانکہ پانچ رکنی دستوری بینچ کے سربراہ  چیف جسٹس رنجن گگوئی پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ عدالت اس تنازعہ کا فیصلہ کسی کی آستھا اور عقیدے کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق ملکیت کی بنیاد پر کرے گی ۔لیکن عدالت میں چالیس روز تک چلنے والی بحث اور دلائل کو دیکھ کر یہ کہنا مشکل ہے کہ فیصلہ محض حق ملکیت کے تنازعہ کے طور پر ہوگا یا اس میں اور پہلو بھی شامل ہوں گے۔درحقیقت اس تنازعہ میں آستھا اور عقیدے کی اتنی گتھیاں پیدا کردی گئی ہیں کہ عدالت کو کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لئے پل صراط سے گذرنا ہوگا ۔مسلمانوں کو صبروتحمل سے کام لینے اور حالات کو پُرامن بنائے رکھنے کی اپیلیں کی جارہی ہیں اور یوپی کے مختلف شہروںمیں پولیس اور انتظامیہ نے مقامی مسلمانوں کی میٹنگیں طلب کرکے یہ وعدے لئے جارہے ہیں کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ آئے گا وہ پورے عزت و احترام کے ساتھ اس کو قبول کرتے ہوئے ہر قیمت پر امن وامان کی فضا قائم رکھیں گے اور انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے۔سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے تعلق سے آخر اتنی پیش بندیاں کیوں کی جارہی ہیں اوران کے ذہنوں میں نت نئے خدشات کیوں پیدا کئے جارہے ہیں ۔حالانکہ مسلمانوں کی طرف سے پہلے ہی یہ اعلان کیا جا چکا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کو ہی مانیں گے چونکہ ملک کے عدالتی نظام پر انہیں پورا یقین ہے۔ جبکہ اس کے برعکس مخالف فریق نے ایک سے زیادہ بار ایسی باتیں کہی ہیں جو قانون اور دستور سے ٹکراتی ہیں بلکہ بعض شرپسندوں نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ سپریم کورٹ ہمارا ہے اور فیصلہ ہمارے حق میں ہی آئے گا ۔ظاہر ہے یہ عدالت کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش ہے اور اس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایودھیا پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے پیش نظر آرایس ایس نے اپنے تمام پروگرام منسوخ کردئے ہیں ۔آرایس ایس کے سینئر لیڈر ارون کمار نے کہا ہے کہ’’ ایودھیا تنازعہ پر عدالت جو بھی فیصلہ دے اسے تمام لوگوں کو کھلے دل سے قبول کرنا چاہئے۔ملک بھر میں ہم آہنگی کا ماحول قائم رکھنا سب کی ذمہ داری ہے ۔‘‘ظاہر ہے کہ آرایس ایس کا یہ موقف اس کے پرانے موقف سے قطعی مختلف ہے چونکہ سنگھ پریوار کی تنظیمیں ہی اس معاملے میں اپنے خلاف عدالتی فیصلے کو تسلیم نہ کرنے اور ماحول کو بگاڑنے کا کام کرتی رہی ہیں ۔یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر فیصلہ ان کے خلاف آئے گا تو وہ پارلیمنٹ سے قانون سازی کرکے رام مندر بنانے کی راہ ہموار کریں گے ۔یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ سنگھ پریوار نے ہی ایودھیا تنازعہ کو ہندو احیاء پرستی کے لئے ایک ہتھیار کے طو ر پراستعمال کیا ہے اور اس مسئلے کا ہر قدم پر سیاسی مقاصد کے لئے استعمال بھی کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔یہ تنازعہ دراصل ملک میں ہندو لہر پیدا کرنے اور مسلمانوں کو سیاسی طور پر حاشیہ پر پہنچانے کے لئے کھڑا کیا گیا تھا جس میں سنگھ پریوار کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔
وزیر اعظم نریندرمودی نے بھی گذشتہ ہفتے اپنے پروگرام ’من کی بات ‘کا محور ایودھیا تنازعہ پر عدالت فیصلے کو بنایا ۔انہوں نے اس معاملے میں 2010میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’’ اس وقت تمام ہم وطنوں نے زبردست صبروتحمل کا مظاہرہ کیا تھا جس سے ملک کی فضا میں ایک شاندار تبدیلی محسوس کی گئی تھی۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’مجھے یاد ہے کہ ستمبر 2010میں جب رام جنم بھومی پر الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا تھا تو بھانت بھانت کے لوگ میدان میں آگئے تھے ۔کیسے کیسے گروپ ان حالات کا اپنے اپنے طریقے سے فائدہ اٹھانے کے لئے کھیل کھیل رہے تھے ۔ ماحول میں اشتعال پیدا کرنے کی بھی کوششیں ہوئی تھیں۔کچھ بیان بازوں نے اور کچھ بڑ بولوں نے صرف اور صرف خود کو چمکانے کے ارادے سے نہ جانے کیا کیا بول دیا تھا ۔کیسی کیسی غیر ذمہ دارانہ باتیں کی تھیں‘مجھے سب یاد ہے لیکن یہ سب کچھ زیادہ دن نہیں چلا اور جیسے ہی فیصلہ آیا ایک خوشگوار اور حیرت انگیز تبدیلی پیدا ہوئی ۔‘‘عدالتی فیصلہ آنے سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی کی یہ ’من کی بات ‘دراصل ان کی انتہائی ’سادہ لوحی ‘کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس تنازعہ کی حقیقت اور اس کے کرداروں سے قطعی نا بلد ہیں ۔اگر وہ چاہتے تو ان لوگوں کا نام ضرور لیتے جنہوں نے ماحول کو بگاڑنے اور خود کو چمکانے کی کوششیں کی تھیں ۔یہ تمام لوگ ان کے ارد گرد آج بھی موجود ہیں لیکن نہ جانے کیوں وہ ان سے اپنی لا تعلقی ظاہر کررہے ہیں ۔وہی لوگ آج بھی اپنے پورے لا ئو لشکر کے ساتھ میدان میں ہیں ۔وزیر اعظم نے اپنے بیان میں صرف رام جنم بھومی کا تذکرہ کیا ہے ۔اگر وہ اپنے عہدے کا پاس رکھتے تو عدالتی تقاضوں کو تحت اسے بابری مسجد ؍رام جنم بھومی بھی کہہ سکتے تھے یا پھر ایودھیا تنازعہ کہہ کر مخاطب کرسکتے تھے لیکن ان کا روئے سخن رام جنم بھومی ہے اور وہی ان کی پارٹی کا اوڑھنا بچھونا بھی ہے۔اسی تنازعہ نے انہیں تمام سیاسی طاقت اور اقتدار عطا کیا ہے ۔شاید اسی لئے وہ وزیر اعظم کے عہدے پر پہنچ کر بھی اپنی جانب داری کو چھپانے کی کوشش نہیں کرتے۔ وزیر اعظم اگر غیر جانب دار ہوتے تو وہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے 2010میں بابری مسجد کی اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا جو عجیب و غریب فیصلہ دیا تھا‘ اس سے مسلمانوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی تھی اور اسی لئے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کیا گیا تھا ۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ خود ہمارے درمیان ایسے لوگ موجودہیں جو اس معاملے میں مکمل خود سپردگی کی باتیں کرتے ہیں ۔ان میں ایک نام مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر اور معروف شیعہ رہنما مولانا کلب صادق کا ہے جنہوں نے ایک بار پھر بابری مسجد سے دستبردار ہونے کی پُر زور وکالت کی ہے ۔انہوں نے لکھنؤمیں کہا ہے کہ ’’ایودھیا تنازعہ میں اگرمسلمان جیت بھی جائیں تو وہ متنازعہ اراضی ہندو بھائیوں کو تحفے میں دے دیں ۔ جیتنے کے لئے ہمیشہ کچھ حاصل کرنا ضروری نہیں۔کبھی کبھی کچھ دے کر بھی جیتا جا سکتا ہے ۔ زمین جیتنے سے زیادہ لوگوں کے دل جیتنا ضروری ہے ۔‘‘یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر مسلمان بابری مسجد کا مقدمہ جیتنے کے بعد بھی خیر سگالی کے جذبے کے تحت مسجد کی اراضی ہندوئوں کے حوالے کر دیتے ہیں تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ مسجدوں کو مندروں میں بدلنے کی فرقہ پرست اور مسلم دشمن تنظیموں کی تحریک ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گی ۔جولوگ بابری مسجد کے مقام پر عالی شان رام مندر بنا نا چاہتے ہیں‘ وہ دراصل اس ملک کے مسلمانوں کا حوصلوںکو  پست کرنا چاہتے ہیں تاکہ مسلمان سر اٹھا کر نہ چل سکیں۔بابری مسجد کی لڑائی محض ایک قطعۂ اراضی کی لڑائی نہیں ہے اور نہ ہی یہ محض ایک تاریخی عبات گاہ کی باز یابی کی لڑائی ہے بلکہ یہ لڑائی ملک میں دستور اور قانون کی بر تری کی لڑائی ہے ۔مسلمان صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف کا معاملہ کیا جائے۔وہ عدالت یا حکومت سے کسی قسم کی بھیک یا رحم کے طلب گار ہر گز نہیں ہیں بلکہ وہ ایک ایسے مقدمے میں انصاف کے طلب گار ہیں جس کی خاطر ان کا بے حساب خون بہایا گیا ہے ۔بابری مسجد کے مقدمے کا فیصلہ یہ طے کرے گا کہ اس ملک میں دستور اور قانون کی حکمرانی ہوگی یا پھر سب کچھ فرقہ پرستوں اور فسطائی طاقتوں کی خواہش کے مطابق ہوگا ۔