ہریانہ اور مہاراشٹر کے انتخابی نتائج نے ثابت کردیا ہے کہ اب عوام اپنے اصل موضوعات کی طرف واپس آرہے ہیں۔جارحانہ قوم پرستی کا جنون اب اترنے لگا ہے اور مصنوعی حب الوطنی کی کشتی ہچکولے کھارہی ہے۔دفعہ 370کو ختم کرنے کا کریڈٹ اور ’سرجیکل اسٹرائیک‘ بھی لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے کام نہیں آرہے ہیں ۔ایکزٹ پول کے ذریعے نتائج سے پہلے جیت حاصل کرنے کی جھوٹی کوشش بھی مسلسل ناکامی سے دو چار ہورہی ہے۔بی جے پی کے لیڈروں نے ہریانہ اور مہاراشٹر میں اپنی شاندار کامیابی کے جو بلند بانگ دعوے کئے تھے‘ ان کی پول انتخابی نتائج نے کھول کر رکھ دی ہے۔ہریانہ میں بی جے پی نے اکثریت کھودی ہے اور وہاں ایک معلق اسمبلی وجود میں آئی ہے ۔لوک سبھا انتخابات کے پانچ ماہ بعد ہونے والے ان اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا ووٹ شیئر ہریانہ میں 23فیصد سے زیادہ گھٹ گیا ہے اور مہاراشٹر میں 220سیٹیں جیتنے کا دعویٰ بھی کھوکھلا ثابت ہوا ہے ۔اتنا ہی نہیں ہریانہ میں بی جے پی سرکار کے دس میں سے آٹھ وزیروں کو عوام نے دھول چٹا دی ہے اور مہاراشٹر میں بھی سات وزیر اپنی سیٹیں بچانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں ۔یہاں تک کہ مہاراشٹر اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر بھی چنائو ہار گئے ہیں ۔مجموعی طور پر ہریانہ اور مہاراشٹر کے انتخابی نتائج نے یہ ثابت کیا ہے کہ بی جے پی ناقابل تسخیر ہر گز نہیں ہے ۔اگر اپوزیشن پارٹیاں اپنے ہوش و حواس درست کرکے ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ بی جے پی کو ہرایا نہ جاسکے ۔
سبھی جانتے ہیں کہ مہاراشٹر اور ہریانہ کے اسمبلی انتخابات کے دوران حکمراں بی جے پی نے وہ تمام انتخابی حربے اختیارکئے جو وہ پچھلے کئی انتخابات سے کررہی ہے۔زر خرید میڈیا نے بھی ہر صورت سے بی جے پی کی پروپیگنڈہ مشینری کے طور پر کام کیا اور سوشل میڈیا پر بھی تمام افواہیں پھیلا ئی گئیں ۔یہاں تک کہ پولنگ سے ایک روز پہلے’ سرجیکل اسٹرائیک ‘بھی کی گئی ۔میڈیا نے شہ سرخیوں کے ساتھ عوام کو بتایا کہ ہماری افواج نے ایک بار پھر پاکستان میں اندر تک گھس کر کارروائی انجام دی ہے اور پاکستان کے دانت کھٹے کردئیے ہیں ۔اتنا ہی نہیں الیکشن کے دوران دفعہ 370کو ختم کرنے کے ’جرأت مندانہ اور تاریخی فیصلے ‘پر بھی ووٹ مانگے گئے ۔اس دوران لکھنؤمیں ہندو سماج پارٹی کے صدر کملیش تیوار ی کے قتل کی آڑ میں فرقہ وارانہ جنون بھڑکانے کی پوری کوشش کی گئی تاکہ مذہبی بنیادوں پر ووٹوں کی صف بندی ہوسکے ۔سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف انتہائی خطرناک اور دھمکی آمیز ویڈیو جاری کئے گئے ۔اگر کملیش تیواری کی ماں حقیقت بیان نہ کرتی اور فرقہ وارانہ کارڈ کھیلنے والوں کو منہ توڑ جواب نہ دیتی تو حالات بگڑ سکتے تھے ۔یہ سب کچھ الیکشن کے ماحول میں زہر گھولنے کے لئے کیا جارہا تھا ۔
حکمراں بی جے پی کا ایک ہی فارمولہ ہے کہ عوام کے دلوں میں جارحانہ قوم پرستی کا جنون پیدا کرو ۔پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر پھیلائو ۔متنازعہ فیصلوں کو تاریخی قرار دے کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکواور الیکشن جیت لو ۔حکومت کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ ملک میں معاشی بحران بدترین شکل اختیار کرچکا ہے ۔بینکوں کی حالت اتنی خراب ہے کہ کھاتہ دار اپنی قیمتی زندگیاں ختم کررہے ہیں ۔بے روز گاری دن بہ دن بڑھتی چلی جارہی ہے۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے اور ملک کی معیشت کا بیڑا غرق ہورہا ہے ۔کاروبار ڈوب رہے ہیں اور لاکھوں لوگ ملازمتوں سے ہاتھ دھورہے ہیں لیکن حکومت عوام کو قوم پرستی کے جنون میں مبتلا کرکے آرام کی نیند سو رہی ہے۔
اگر آپ ہریانہ اور مہاراشٹر کے اسمبلی انتخابات کا جائزہ لیں تو بی جے پی کو سیٹوں اور ووٹ شیئر دونوں کا نقصان ہوا ہے ۔ایگزٹ پول کے دعوئوں کے بر خلاف ووٹوں کا ایسا ٹوٹا ہے کہ پانچ مہینے پہلے ہوئے لوک سبھا چنائو کے مقابلے میں ہریانہ میں بی جے پی کا ووٹ شیئر 23فیصد سے زیادہ اور مہاراشٹر میں 2فیصد گھٹ گیا ہے۔2014کے اسمبلی انتخابات کے مقابلے میں ہریانہ میں بی جے پی کی سات اور مہاراشٹر میں 17سیٹیں گھٹ گئی ہیں ۔کانگریس کو ہریانہ میں 16سیٹوں کا فائدہ ہوا ہے ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہریانہ میں بی جے پی کے دس میں سے آٹھ وزیر چنائو ہار گئے ہیں جبکہ مہاراشٹر میں سات وزیر اور ڈپٹی اسپیکر بھی چنائو ہار گئے ہیں ۔ہریانہ میں صرف دس ماہ پرانی جے جے پی نے دس اسمبلی حلقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور اب وہ ’کنگ میکر ‘کے کردار میں ہے ۔ہریانہ میں منوہر لال کھٹر کی قیادت والی بی جے پی حکومت کو عوام نے مسترد کردیا ہے ۔
مہاراشٹر میں اس مرتبہ بی جے پی نے شیو سینا سے اتحاد کرکے چنائو لڑا تھا لیکن وہ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی ۔بی جے پی اور شیو سینا نے 288رکنی اسمبلی میں 220سیٹیں جیتنے کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن یہ دونوں پارٹیاں 161سیٹیں ہی جیت سکیں ۔بی جے پی کو یہاں 17سیٹوں کا اور شیو سینا کو 7سیٹوں کا نقصان ہوا جب کہ این سی پی اور کانگریس کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔کانگریس کی سیٹیں 42سے بڑھ کر 44ہو گئی ہیں اور این سی پی کی سیٹیں41سے بڑھ کر 56ہوگئی ہیں۔مہاراشٹر میں پچھلے لوک سبھا چنائو میں بی جے پی اور شیوسینا نے 220اسمبلی حلقوں میں سبقت حاصل کی تھی لیکن اب وہ اسمبلی چنائو میں ان میں سے ایک چوتھائی سیٹیں گنوا چکی ہیں ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ خشک سالی سے متاثرہ مراٹھواڑہ کے پر لی حلقے سے بی جے پی صدر امت شاہ نے انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے یہاں کے مقامی مسائل کی بجائے جموںو کشمیر میں دفعہ 370کو بے اثر بنانے کے بی جے پی کے فیصلے کو ایک ایسی قوم پرست اور محب وطن حکومت ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا تھا جو آہنی فیصلے لینے سے نہیں ڈرتی ۔صوبائی وزیر پنکجا منڈا کے اس حلقہ انتخاب میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی گئے تھے اور انہوں نے بھی قومی فخر کی وہی زبان استعمال کی تھی لیکن اس حلقے کے ووٹروں نے بی جے پی اور پنکجا منڈا دونوں کو مسترد کردیا ۔یہ وہ علاقہ ہے جہاں کے گائووں میں ہفتوں پینے کا پانی دستیاب نہیں ہوتا ۔بالکل ایسا ہی ہریانہ کے کئی دیہی علاقوں میں ہوا جہاں بی جے پی نے دفعہ 370 کو دوبارہ کامیابی کی کنجی سمجھ لیا تھا ۔ملک میں سب سے زیادہ بے روز گاری کی شرح والے علاقے میں قوم پرستی کے جذبات کو مشتعل کرنے کی کوششوں کا کوئی اثر نہیں ہوا ۔
حالیہ اسمبلی اور ضمنی چنائو کے نتائج مجلس اتحاد المسلمین کے لئے ایک اچھی خبر لے کر آئے ہیں ۔اول یہ کہ مہاراشٹر سے دوسری بار مجلس کے دو امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے ۔وہی مہاراشٹر جہاں سے مجلس نے گذشتہ عام انتخابات کے دوران اورنگ آباد پارلیمانی حلقے میں کامیابی کا پرچم لہرایا تھا ۔مجلس کے لئے دوسری اچھی خبر یہ ہے کہ اس نے بہار میں اپنا کھاتہ کھول لیا ہے ۔یہاں کی کشن گنج اسمبلی سیٹ پر ضمنی چنائو میں مجلس کے امیدوار قمرالہدیٰ کامیا ب ہوئے ہیں جب کہ اترپردیش کے پڑتاپ گڑھ ضلع میں مجلس کے امیدوار نے کانگریس اور بی ایس پی دونوں پر برتری حاصل کی ہے ۔اگر مجلس کی کامیابیوں کا سلسلہ برقرار رہا تو یہ پارٹی جلد ہی قومی پارٹی کی حیثیت حاصل کر لے گی ۔مجموعی طور پر مہاراشٹر اور ہریانہ کے انتخابی نتائج کا یہی پیغام ہے کہ اگر سیکولر پارٹیاں اپنے حوصلوں کو مجتمع کرکے آگے بڑھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ بی جے پی کو دھول نہ چٹا سکیں ۔جھوٹے پروپیگنڈے اور ’فرضی کل اسٹرائیک ‘کا سحر زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہتا یہ حالیہ الیکشن نے ثابت کردیا ہے ۔