اب جبکہ بابری مسجد مقدمے کی سماعت آخری مراحل میں ہے اور ملک کی سب سے بڑی عدالت اپنا فیصلہ سنانے کی تیاری کر رہی ہے توکچھ لوگوں نے انصاف کے عمل کو پٹری سے اتارنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں ۔مصالحت کا وہ عمل جو اپنی ناکامی کا پہلے ہی اعتراف کر چکا ہے‘ اسے دوبارہ شروع کیا جارہا ہے۔ حالانکہ ابھی یہ واضح نہیںہے کہ تازہ مصالحت کی بنیاد یں کیا ہوں گی اور اسے دوبارہ کیوں شروع کیا جارہا ہے تاہم اتنا ضرور ہے کہ جو لوگ اس فیصلہ کن گھڑی میں مصالحت کا راگ الاپ رہے ہیں‘ ان کے کچھ خفیہ مقاصد ضرور ہیں اور ان میں سب سے بڑا مقصد بابری مسجد کو انصاف سے محروم کرنا ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ مصالحت کا نیا شوشہ چھوڑنے والوں میں بابری مسجد کا سب سے پرانا فریق یو پی سنی سینٹرل وقف بورڈ بھی شامل ہے ۔وقف بورڈ نے نہ صرف یہ کہ مصالحت کی ناکام کوشش کر چکے پینل کو اپنا کام دوبارہ شروع کرنے کی درخواست دی ہے بلکہ اطلاعات کے مطابق اس نے سپریم کورٹ میں اپنا وکیل بدلنے کی بات بھی کہی ہے۔سپریم کورٹ میں ملک کے مایہ ناز وکیل ڈاکٹر راجیو دھون جن مسلم فریقو ں کی مفت پیروی کر رہے ہیں ‘ان میں یو پی سنی سینٹرل وقف بورڈ بھی شامل ہے ۔ہمیں نہیں معلوم کہ وقف بورڈ کے چیئر مین زیڈ فاروقی نے ناکام مصالحتی پینل کے سربراہ کو اپنا کام دوبارہ شروع کرنے کی جو درخواست دی ہے‘ اس کے پیچھے کیا مقاصد کا رفرما ہیں تاہم ایک ملی تنظیم نے اس سرگرمی کو بابری مسجد کی سو دے بازی سے تعبیر کیا ہے ۔
یو پی وقف بورڈ کے علاوہ ہندوؤں کی طر ف سے نروانی اکھاڑہ نے بھی مصالحت کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی بات کہی ہے۔عدالت نے ان درخواستوںکے پیش نظر مصالحتی پینل کو دوبارہ اپنا کام شروع کرنے کی ہدایت دے دی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ عدالتی کارروائی حسب سابق جاری رہے گی ۔اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے ان لوگوں کو آڑے ہاتھو ں لیا ہے جو رام مندر کے معاملے میں بیان بازی کر رہے ہیں۔ایسے لوگوں کو’ بیان بہادر‘ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ لوگ بھگوان رام کے لئے انصاف کے نظام پر یقین رکھیں اور آنکھ بند کر کے کچھ بھی اناپ شناپ نہ بولیں ۔وزیر اعظم کا یہ بیان ان لوگوں کے لئے ایک وارننگ تصور کیا جا رہا ہے جو سپریم کورٹ کے ججو ں کو اپنا پیرو کار سمجھ رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا چوں کہ سپریم کورٹ ان کااپنا ہے۔اس قسم کا بیان گزشتہ ہفتہ اتر پردیش میں ایک بی جے پی کے ممبر اسمبلی نے دیا تھا۔
اس دوران ایودھیا کیس کی سماعت کر رہی دستوری بینچ کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ایک ماہ کے اندر اس تنازعہ کی سماعت پور ی کرنا چاہتے ہیں تاکہ آئندہ ایک ماہ میں دستوری بنچ اس مقدمے کا فیصلہ لکھنے کی پوزیشن میں آ سکے اور آئندہ نومبر کے وسط تک فیصلہ سنا دیا جائے ۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جسٹس گوگوئی آئندہ 15 نومبر کو سبکدوش ہونے والے ہیں اور وہ اپنی سبکدوشی سے قبل ہی ملک کے سب سے پیچیدہ اور سنگین مقدمے کو فیصل کرکے تاریخ میں اپنا نام درج کروانا چاہتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ عدالت نے یو میہ سماعت کا وقت بڑھانے اور ہفتے میں پانچ دن کی بجائے چھ دن سماعت کرنے کی بات بھی کہی ہے ۔عدالت میں ہندو فریقوں کی طرف سے بحث مکمل ہو چکی ہے اور اب مسلم فریقوں کی طرف سے دلائل پیش کئے جا رہے ہیں ۔چیف جسٹس نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ آئند ہ 18اکتوبر تک اپنے دلائل پورے کر لیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی عدالت نے مصالحتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی درخواست بھی قبول کر لی ہے ۔سپریم کورٹ کا یہ رد عمل در حقیقت رٹائرڈ جسٹس ایف ایم خلیفتہ اللہ کی سربراہی والے اس مصالحتی پینل کی اپیل پر آیا ہے جس نے دستوری بنچ کو خط لکھ کر کہا تھا کہ اس تنازعہ کے ایک ہندو اور ایک مسلم فریق دوبارہ بات چیت کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کرنا چاہتے ہیں ۔ان فریقوں کے نام سنی سینٹرل وقف بورڈ اور نروانی اکھاڑہ ہیں ۔جسٹس خلیفتہ اللہ کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ان دونوں نے انہیں ایک خط لکھا ہے لہٰذااس سلسلے میں دستوری بنچ مصالحتی پینل کو احکامات جاری کرے ۔عدالت نے اس اپیل کو منظور کر لیا ہے ۔
سپریم کورٹ نے مصالحتی پینل کو نئی زندگی دے کر اپنا کام دوبارہ شروع کرنے کی جو ہدایت دی ہے‘ اس سے ہمیں کوئی اختلاف نہیں ہے چوں کہ یہ عدالت کا اپنا اختیار ہے ۔لیکن یہاں اس تازہ سرگرمی کی کوکھ سے کچھ سوال ضرور پیدا ہوتے ہیں جن کا جواب دیا جانا چاہئے ۔آپ کو معلوم ہے کہ سپریم کورٹ نے پچھلے دنوں ایودھیا تنازعہ کو گفتگوکی میز پر حل کرنے کے لئے جو تین رکنی مصالحتی پینل تشکیل دیا تھا ‘وہ کئی مہینوں کی مشقت کے بعد بھی اس معاملے میںکوئی نتیجہ برآمد نہیں کر سکا ۔اس پینل نے فریقین کے علاوہ بعض دیگر لوگوں سے بھی بات چیت کی اور اس پیچیدہ تنازعہ کو گفتگو کی میز پر حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا ۔ لہٰذا اس پینل نے ناکامی کا برملااعتراف کرتے ہوئے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو سونپ دی ۔اس کے بعد گزشتہ 6اگست سے سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی یو میہ سماعت کا کام جاری ہے ۔اس دوران دونوں فریقوں کی طرف سے اپنے دلائل پیش کئے گئے ہیں ۔ہندو فریقوں نے جہاں اپنی آستھا اور عقیدت کی بنیاد پر اپنا دعویٰ مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے تو وہیں مسلم فریقوں کی طرف سے بابری مسجد کے حق میں ناقابل تردید ثبوت پیش کئے گئے ہیں ۔عدالت پہلے ہی یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ اس مقدمے کا فیصلہ کسی کی آستھا یا عقیدت کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق ملکیت کی بنیاد پر کرے گی ۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عدالت اس مقدمے کے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے اور وہ فیصلہ سنانے کی تاریخوں کا بھی اعلان کر چکی ہے تو اس مرحلے میں سنی سینٹرل وقف بورڈ اور نروانی اکھاڑے کی طرف سے داخل کی گئی مصالحت کی درخواستیں کیا معنی رکھتی ہیں ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس معاملے میں سنی وقف بورڈ کے چیئر مین نے مصالحتی پینل کو جو درخواست دی ہے‘ اس کا علم خود وقف بورڈ کے عملے کو نہیں ہے اور نہ ہی وقف بورڈ کے وکیل اس سے واقف ہیں ۔یہ کام وقف بورڈ کے چیئر مین زیڈ فاروقی نے بالا ہی بالا انجام دیا ہے ۔سنی وقف بورڈ کے علاوہ دوسری درخواست نروانی اکھاڑے کی طرف سے دی گئی ہے جس کے بارے میں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس کا اس مقدمے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔یہ ایک گمنام اور مشتبہ اکھاڑہ ہے جس نے وقف بورڈ کے چیئر مین سے مبینہ ساز باز کر کے مصالحتی پینل سے رجوع کیا ہے ۔ اس معاملے میں شکوک و شبہات پیدا ہونے کا سب کا بڑا سبب وقف بورڈ کے چیئر مین کا ناقابل فہم رویہ ہے ۔اس سے قبل بابری مسجد اور بعض دیگر مسلم امور میں شیعہ وقف بورڈ کے چیئر مین کی ریشہ دوانیاں سبھی کے سامنے ہیں ۔یہ دونوں ہی بورڈ اتر پردیش کی یو گی سرکار کے ما تحت ہیں اوروہیں سے تنخواہ پاتے ہیں ۔اسی لئے لوگوں کے دلوں میں ہزار قسم کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں اور اس سرگرمی کو انصاف کے عمل میں رخنہ اندازی سے تعبیر کیا جا رہا ہے ۔ظاہر ہے ایودھیا تنازعہ میں انصاف کے عمل کو سبوتاژ کرنے کا کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کے خفیہ مقاصد ہیں ۔سب سے زیادہ تشویش ناک اطلاع وقف بورڈ کی طرف سے اپنا وکیل تبدیل کرنے کی ہے ۔جیسا کہ ہم نے شروع میں عرض کیا تھا کہ ملک کے نامور وکیل ڈاکٹر راجیو دھون بلا معاوضہ سپریم کورٹ میں یو پی سنی سینٹر ل وقف بورڈ سمیت کئی مسلم فریقوں کی کامیاب پیروی کر رہے ہیںاور انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے سبھی کا دل جیت لیا ہے۔حالانکہ بعض شر پسند عناصر نے انہیں بابری مسجد کی پیروی سے باز رہنے کی دھمکیا ں بھی دی ہیں لیکن انہوں نے سب کچھ در کنار کر کے بابری مسجد کو انصاف دلانے کا اپنامشن جاری رکھا ہوا ہے۔اس کیس کی پیروی کے لئے ان سے بہتر کوئی دوسرا وکیل نہیں ہو سکتا ہے ۔ایسے میں انہیں وقف بورڈ کی پیروی سے بے دخل کرنے کی کوشش بہت سے پریشان کن سوالوں کو جنم دیتی ہے ۔یہ دراصل بابری مسجد کو انصا ف سے محروم کرنے کی دیدہ و دانستہ سازش ہے جسے بہر صورت ناکام بنانا ہوگا ۔