پہلو خان کے قاتلوں کو باعزت بری کرنے کے بعد اب تبریز انصاری کے قاتلوں کو بھی راحت دے دی گئی ہے۔انتہائی بربریت اور سفاکی کے ساتھ پیٹ پیٹ کر ہلاک کئے گئے تبریز انصاری کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کہتی ہے کہ اس کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تھی ۔لہٰذا جن گیارہ حملہ آوروں پر قتل کا مقدمہ قائم ہوا تھا ‘وہ اب آرام کی نیند سوئیں گے ۔پولیس نے قتل کی دفعات ہٹاکر ان پر غیر ارادی قتل کا مقدمہ قائم کر دیا ہے۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ ہجومی تشدد کا شکار ہونے والے کسی مسلمان کے قاتلوں کو راحت دی گئی ہے بلکہ جب سے ملک میں ہجومی تشدد کا شرمناک اور انسانیت سوز دور شروع ہوا ہے ‘تب سے مسلسل یہی ہو رہا ہے ۔پولیس بے گناہ مسلمانوں کے قاتلوں کے خلاف ایسی نرم دفعات کے تحت مقدمے قائم کرتی ہے کہ وہ یا تو باعزت بری ہو جاتے ہیں یا پھر انہیں ضمانت پر رہا کر دیا جاتا ہے۔عدالتیں بھی اس معاملے میں ’لاـچار‘ ہیں کہ ان کے سامنے جیسا مقدمہ پیش ہوگا وہ فیصلہ بھی ویسا ہی سنائیں گی۔ملک میں اب تک ہجومی تشدد کی جتنی بھی وارداتیں ہوئی ہیں‘ ان میں پولیس ظالموں کی ہمدرد اور طرفدار نظر آتی ہے ۔
گزشتہ جون میں بی جے پی کے اقتدار والی ریاست جھارکھنڈ میں ایک بائیس سالہ نوجوان تبریز انصاری کی وحشیانہ ہلاکت کے واقعے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ۔ تبریز انصاری کی جان لینے کے لئے اس پر چوری کا الزام عائد کیا گیا تھا اور اسے بجلی کے کھمبے سے باندھ کر جو ظلم اور تشدد کیا گیا تھا ‘اسے دیکھ کر لوگوں کی چیخیں نکل گئی تھیں ۔ تبریز انصاری کو’ جے شری رام اور جے ہنومان‘ کے نعر ے لگانے پربھی مجبور کیا گیا تھا ۔وہ چیختا چلاتا ‘روتا اور بلکتا رہا اور جنونی بھیڑ سے رحم کی بھیک مانگتا رہا لیکن کسی کو اس پر ترس نہیں آیا۔ تبریز انصاری نے اسپتال جا کر دم ضرور توڑ دیا لیکن اس پر ڈھائے گئے مظالم کی ویڈیو پورے ملک میں گردش کرتی رہی اور اس کی مظلومیت کی دل خراش کہانی بیان کرتی رہی ۔ تبریز انصاری کو جنونی بھیڑ نے محض اس لئے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا کہ وہ مسلمان تھا اور اسے’ جے شری رام اور جے ہنومان‘ کہنے سے پرہیز تھا ۔
تبریز انصاری کی وحشیانہ ہلاکت کے تین ماہ بعد ایم جی ایم اسپتال کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے پولیس سپرٹینڈنٹ کوجو میڈیکل رپورٹ سونپی ہے‘ اس میں کہا گیا ہے کہ تبریز انصاری کی موت ذہنی کشیدگی اور دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تھی ۔اس عجیب و غریب پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر پولیس نے مقدمے کا رخ دوسری طرف موڑ دیا ہے اور جن حملہ آوروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا انہیں راحت دے دی گئی ہے۔پولیس نے اب دفعہ 302کی بجائے غیر ارادی قتل کی دفعہ304لگا دی ہے ۔لہٰذا پولیس اب تبدیل شدہ دفعہ کے تحت گرفتار گیارہ ملزمان کے خلاف نئی فرد جرم داخل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ قتل کی دفعہ میں تبدیلی کے خلاف تبریز انصاری کی بیوہ شائستہ پروین کی طرف سے عدالت میں عرضی داخل کی گئی ہے ۔متاثرہ خاندان کے وکیل الطاف حسین نے پولیس کی کارروائی کو سراسر غلط قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ملزمان کے خلاف پولیس نے عدالت میں جو فرد جرم داخل کی ہے‘ وہ دفعہ304 کی ہونی چاہئے تھی کیوں کہ واردات کے دوران ملزمان نے تبریز انصاری کو جان سے مارنے کی نیت سے ہی مار پیٹ کی تھی ۔وکیل نے مزید کہا کہ’’ معاملہ چوںکہ کافی سنگین ہے‘ اس لئے فرد جرم میں دفعا ت کی تبدیلی نہیں ہونی چاہئے تھی ۔پولیس کے اس قدم سے سماج میںغلط پیغام جائے گا اور سماج دشمن عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی ۔‘‘
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر پولیس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر اپنی پہلی فرد جرم میں تبدیلی کیوں کی اور ملزمان کو قتل کی سزا سے بچانے کی کوشش کیوں کی گئی ؟اس سوال کا ایک ہی جواب ہے اور وہ یہ کہ جھارکھنڈ میں ہجومی تشدد کی وارداتیں انجام دینے والوں کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔ ہجومی تشدد کی وارداتوں کے معاملے میں بی جے پی کے اقتدار والی یہ ریاست سب سے آگے ہے۔پارلیمنٹ کے گزشتہ اجلاس کے دوران راجیہ سبھا میں تبریز انصاری کے قتل کے حوالے سے جب جھارکھنڈ کی گونج سنائی دی تھی تو وزیر اعظم نریندر مودی کو اس بات پر سخت اعتراض تھا کہ پوری ریاست کو کیوں بدنام کیا جا رہا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہجومی تشدد کے گھناونے کا روبار میں جھارکھنڈ پورے ملک میں سر فہرست ہے ۔یہاں نہ صرف ہجومی تشدد کے مجرموں کو بچایا جاتا ہے بلکہ سیاسی سطح پر ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے دنوں مرکزی وزیر جینت سنہانے رانچی میں ضمانت پر رہا ہونے والے ہجومی تشدد کے ملزمان کو پھول مالائیں پہنا کر ان کا استقبال کیا تھا ۔ظاہر ہے جب قاتلوں اور ظالموں کی اس طرح حوصلہ افزائی ہوگی تو پھر وہ ایک سے بڑھ کر ایک انسانیت سوز حرکتیںانجام دیں گے ۔
تبریز انصاری کیس میں فرد جرم ‘ عینی گواہوں کے بیانات اور کیس ڈائری کا مطالعہ کرنے کے بعد جو نتائج اخذ کئے گئے ہیں ‘وہ آنکھیں کھول دینے والے ہیں ۔ تبریز انصاری کے چچا منصور عالم نے جو کہ جائے واردات پر پہنچنے والے سب سے پہلے شخص تھے ‘اپنے حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے خود ہجوم میں شامل لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ ’’اتنا مارو کہ مر جائے۔ ‘‘منصور عالم ان چوبیس گواہوں میں شامل ہیں جن کے بیانات 23جولائی کو چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں دائر کی گئی فرد جرم میں شامل تھے ۔اسی فرد جرم میںڈاکٹروں کے ایک بورڈ کی ابتدائی رپورٹ کا بھی حوالہ موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تبریز انصاری کی موت سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے ہوئی ۔
تبریز انصاری کو گزشتہ 18 جون کو جھارکھنڈ کے سرائے کیلا کھرواں ضلع میں چوری کاالزام لگا کر بجلی کے کھمبے سے باندھ دیا گیا تھا اور پھر ہجوم نے بے دردی سے اس کی پٹائی کی تھی ۔اس واردات کی ویڈیو کلپ سے صاف نظر آتا ہے کہ حملہ آوروں نے تبریز کو’جے شری رام اور جے ہنومان‘ کے نعرے لگانے پر بھی مجبور کیا تھا ۔ تبریز انصاری پر حملے کی ویڈیو بنانے والے ٹنکو منڈل نے بھی پولیس کے سامنے اس واردات کی تصدیق کی تھی ۔ اس نے پولیس کو یہ بھی بتایا تھا کہ ڈر کی وجہ سے اس نے ویڈیو ڈیلیٹ کر دی تھی ۔
قابل غور بات یہ ہے کہ پولیس کی طرف سے تیار کی گئی فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ تبریز انصاری چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا ۔پولیس کا بیان ہے کہ غضب ناک گاو ں والوں نے اسے باندھ کر رات بھر اور صبح بھی ڈنڈوں سے پیٹا تھا ۔اس کے مذہبی جذبات کے خلاف ’جے شری رام اور جے ہنومان ‘کا نعرہ لگوایا تھا ۔پولیس کی فرد جرم میں سر پر لگی چوٹوں کا ذکر موجود ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک طرف تو پولیس فرد جرم میں تبریز انصاری کو پوری رات پیٹے جانے کی بات کہتی ہے اور اس کے سر پر لگی چوٹوں کا بھی ذکر کرتی ہے لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کی موت کا سبب ’دل کادورہ‘ پڑنے کو بتایا جاتا ہے ۔پوسٹ مارٹم رپورٹ سے تو یہی تاـثر ملتا ہے کہ تبریز انصاری کے ساتھ ہجومی تشدد کی کو ئی واردات نہیں ہوئی اور اسے گھر پر بیٹھے ہوئے دل کا دورہ پڑا اور اچانک اس کی موت واقع ہو گئی ۔نہ تو تبریز انصاری کو کسی نے تشدد کا نشانہ بنایا اور نہ ہی کو ئی اس کا قاتل ہے ۔اس صورتحال پر یہ شعر صادق آتا ہے
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے