Jadid Khabar

آقتصادی بدانتظامی : مودی حکومت معیشت پر دیتی ہے صرف نعرے: کانگریس

Thumb

نئی دہلی، 09 جون (یو این آئی) کانگریس نے مودی حکومت پر معیشت کے حوالے سے بدانتظامی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف لبھانے والے نعرے دیتی ہے اور تشہیر کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرتی ہے، جبکہ زمینی حقیقت وعدوں اور نعروں کے بالکل برعکس ہے۔
 
کانگریس ریسرچ ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر راجیو گوڑا اور ریسرچ و مانیٹرنگ ڈپارٹمنٹ کے انچارج امیتابھ دوبے نے منگل کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ مودی حکومت میں اقتصادی سطح پر ملک کے جو حالات کر دیے گئے ہیں، وہ اس حکومت کے رہتے بدلنے والے نہیں ہیں، اس لیے حکومت کو بدلنا ضروری ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اقتصادی بدانتظامی عروج پر ہے اور معاشی ترقی کو پٹری پر لانے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو وشو گرو بنانے کی بات کرنے والوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں پر 2021 سے اب تک 500 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو وشو گرو بتانے والے صرف نعرے لگا رہے ہیں، تشہیر کر رہے ہیں اور حقیقت سے نمٹنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔
 
پروفیسر گوڑا نے کہا کہ اجولا یوجنا کے مستحقین کو دیے جانے والے ایل پی جی سلنڈروں کی تعداد نو سے گھٹا کر چار کر دی گئی ہے۔ دس سال پہلے اعلان کیا گیا تھا کہ خواتین کو اب کھانا پکانے کے خطرناک اور نقصان دہ طریقوں پر منحصر نہیں رہنا پڑے گا اور اجولا یوجنا کے ہر مستحق کو 12 سلنڈر دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال یہ تعداد گھٹا کر نو کر دی گئی اور آج تیسری بار محض چار کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہندوستان کو روزگار کا مرکز بنانے کی بات کی تھی لیکن اصلیت یہ ہے کہ بڑی تعداد میں ملک کے نوجوان روزگار کے لیے محتاج بن گئے ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ چھوٹی اور درمیانہ درجے کی  صنعتیں روزگار کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہیں لیکن گزشتہ سال ملک میں 40 ہزار چھوٹی اور درمیانہ درجے کی  صنعتیں بند ہوئی ہیں۔ ملک کی 99 فیصد چھوٹی اور درمیانہ درجے کی  صنعتیں حکومت کی مدد کے بغیر چل رہی ہیں۔ اسی طرح کسانوں کے لیے حکومت کی کوئی اسکیم نہیں ہے اور کسان خودکشی کر رہے ہیں۔
 
کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ مودی حکومت کی تشہیر ہے کہ ہندوستان تیزی سے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی طرف گامزن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم چوتھی سب سے بڑی معیشت تھے اور اب چھٹی سب سے بڑی معیشت ہیں اور اس کی وجہ روپے کا کمزور ہونا ہے اور یہ سب وزیر اعظم مودی کے ہندوستان کی معیشت کے انتظام کا ثبوت ہے۔ حکومت روپے کے کمزور ہوتے حالات کو روکنے میں غیر فعال بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے حکومت پر صرف وعدے کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ تشہیر ہو رہی ہے کہ مسٹر مودی کی قیادت میں ہندوستان سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت بن گیا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ سرمایہ کار ہندوستان سے دور بھاگ رہے ہیں کیونکہ انہوں نے وزیر اعظم اور ان کی ٹیم پر سے بھروسہ کھو دیا ہے۔ اگر یہی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت ہے، تو سرمایہ کار کیوں بھاگ رہے ہیں۔ وہ اس ترقی کی کہانی میں مزید پیسہ کیوں نہیں لگا رہے۔ ان تمام صورتحال کی وجہ انہوں نے کمزور ہوتے روپے کو بتایا اور کہا کہ دعویٰ تھا کہ ڈالر کے مقابلے روپیہ مضبوط ہوگا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ روپیہ ایشیا کی سب سے خراب کارکردگی دکھانے والی کرنسی ہے۔
 
حکومت پر صرف تشہیر کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ مودی حکومت کی تشہیر ہندوستان کو روزگار کی تخلیق کا عالمی مرکز بنانے کی ہے، لیکن اصلیت یہ ہے کہ 10 میں سے چار گریجویٹ بے روزگار ہیں۔ شہری نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 18.4 فیصد ہے اور بے روزگار گریجویٹس میں سے صرف سات فیصد کو ہی ایک سال کے اندر مستقل تنخواہ والی نوکری مل پاتی ہے۔ سب کے لیے مساوی مواقع کی بات ہوتی ہے لیکن اصلیت یہ ہے کہ ہم عالمی صنفی عدم مساوات انڈیکس میں 108 ویں نمبر پر تھے۔ اب ہم دنیا میں 131 ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔ اس طرح، ہم اپنی آدھی آبادی یعنی خواتین کے لیے ورک فورس میں داخلے کے مواقع پیدا نہ کر کے انہیں مایوس کر رہے ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 سال میں 89 پیپر لیک کے واقعات ہوئے ہیں اور اب میڈیکل داخلہ امتحان میں بھی پیپر لیک ہوا ہے، اس لیے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ کانگریس رہنماؤں نے مودی حکومت پر ووٹ چوری کا الزام لگایا اور کہا کہ مہاراشٹر اور ہریانہ میں اس کا انکشاف کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کیا ہے اور اس کے ثبوت دیے ہیں۔ پکڑے گئے تو ووٹ چوری کا نیا طریقہ نکالا اور ووٹروں کے نام کاٹے جا رہے ہیں۔ یہ ووٹ چوری کا نیا طریقہ نکالا گیا ہے۔
 
شمال مشرق کو لے کر مسٹر مودی کے دعوؤں کو کھوکھلا بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منی پور میں تین سال سے بحران چل رہا ہے لیکن وزیر اعظم نے وہاں صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ ریلوے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت دعوے تو بہت کرتی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ 67 ہزار جگہوں پر ریل تحفظ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔