لکھنؤ:یکم اگست (یو این آئی) اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعہ کو ایم ایس ایم ای محکمہ کی میٹنگ میں کہا کہ حکومت فٹ وئیر، لیدر اور نان لیدر مینوفیکچرنگ کے شعبے میں عالمی مقابلہ کے لیے تیار کرنے کی سمت میں ٹھوس قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں اس میدان میں عالمی شناخت حاصل کرنے کی بے پناہ صلاحیت ہے۔ روایتی ہنر، تربیت یافتہ لیبر فورس، خام مال کی کثرت اور ریاست میں آگرہ، کانپور اور اناؤ جیسے مضبوط صنعتی مراکز کی موجودگی کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایک جامع، عملی اور نتیجہ خیز پالیسی تشکیل دینا ضروری ہو گیا ہے۔
میٹنگ میں محکمہ کے افسران کے ساتھ 'اتر پردیش فٹ ویئر، لیدر اور نان لیدر سیکٹر ڈیولپمنٹ پالیسی 2025' کے مسودے پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کلسٹر پر مبنی ترقیاتی ماڈل کو ترجیح دینے کی ہدایت دی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پالیسی میں یہ واضح طور پر بیان کیا جانا چاہیے کہ ریاست کے کون سے علاقے اس صنعت کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہیں۔
وزیراعلیٰ نے یہ تجویز بھی دی کہ اگر پیداوار، ڈیزائن، تحقیق اور تربیت کو مربوط کیا جائے تو یہ شعبہ نہ صرف بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو راغب کرسکتا ہے بلکہ لاکھوں نوجوانوں کو روزگار بھی فراہم کرسکتا ہے۔ انہوں نے بنیادی ڈھانچے کی سہولیات جیسے فلیٹڈ فیکٹری کمپلیکس قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ صنعتی یونٹوں کو کام کرنے کا بہتر ماحول مل سکے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ مجوزہ پالیسی سے اگلے چند سالوں میں تقریباً 22 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا ہونے کی امید ہے۔ اس پالیسی کو اتر پردیش کو عالمی جوتے اور چمڑے کی تیاری کا مرکز بنانے کی سمت میں ایک فیصلہ کن پہل سمجھا جا رہا ہے۔ اس وقت ہندوستان اس شعبے میں دنیا کا دوسرا سب سے بڑا پروڈیوسر اور صارف ہے، جس میں اتر پردیش کا حصہ نمایاں ہے۔ اکیلے کانپور اور اناؤ میں 200 سے زیادہ فعال ٹینریاں ہیں، جب کہ آگرہ کو ملک کا "فٹ وئیر راجدھانی" کہا جاتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پالیسی کے تحت نہ صرف چمڑے اور غیر چمڑے کے جوتے تیار کرنے والے یونٹس کو فروغ دیا جائے بلکہ ذیلی یونٹس جیسے بکسے، زپ، تلووں، انسولز، فیتے، کیمیکل، رنگ، ہیلس، دھاگے، ٹیگ اور لیبلز کی بھی خصوصی حوصلہ افزائی کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مشینری مینوفیکچرنگ خصوصاً چمڑے کی سلائی، کٹنگ، مولڈنگ اورنان لیدر سیفٹی شوزبنانے والی تکنیکوں سے متعلق یونٹس کو بھی سپورٹ کیا جانا چاہیے۔