Jadid Khabar

شہریت ترمیمی قانون کا’خاموش ‘نفاذ

Thumb



 کورونا پرقابو پانے میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مودی سرکار ان ہی فرقہ وارانہ موضوعات میں پناہ ڈھونڈھ رہی ہے جو ہمیشہ سے اس کے لیے نجات کاکام دیتے رہے ہیں۔ ایسے نازک دور میں جب کہ حکومت کو اپنی تمام توجہ ملک کے عوام کو کورونا سے بچانے اور ویکسین کی شدید قلت کو پورا کرنے پر صرف کرنی چاہئے ، وہ عوام کی توجہ بھٹکانے کے لیے فرقہ وارانہ موضوعات کو ہوا دے رہی ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ اچانک اس شہریت ترمیمی قانون کو نافذ کرنے کی جانب پیش قدمی شروع کردی گئی ہے جس پر گزشتہ سال پورے ملک میں بے نظیر احتجاج ہوچکے ہیں اور جس کی شقیں پوری طرح شہریت کے دستوری ضابطوں سے ٹکراتی ہیں۔
سبھی جانتے ہیں کہ ہمارے دستور میں شہریت حاصل کرنے کی بنیاد مذہب اوررنگ ونسل ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کے معیار دوسرے ہیں لیکن حکومت وقت نے شہریت کو مذہب سے جوڑ کر اپنے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا کام کیا ہے۔شہریت قانون کے اندر2019 میں جوفرقہ وارانہ ترمیم کی گئی ہے ، اس کی رو سے پڑوسی ملکوں پاکستان ، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو، سکھ ، عیسائی اور بودھ فرقوں کو تو ہندستانی شہریت مل جائے گی جبکہ مسلمانوں اس سے محروم رہیں گے۔  مذہبی تفریق اور تعصب پر مبنی اس ترمیم کے خلاف گزشتہ برس ملک میں جو زبردست تحریک چلی تھی اور جس میں لاکھوں شہریوں نے حصہ لیا تھا، اس کے پیش نظر امید تھی کہ حکومت اس متنازعہ اور تفریق پسندقانون سے اپنے ہاتھ کھینچ لے گی اور احتجاج کرنے والوں کی آواز پر کان دھرے گی، لیکن حکومت نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا بلکہ حال ہی میں اس قانون کو بعنوان دیگر نافذ کرنے کے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں۔
گزشتہ ہفتہ وزارت داخلہ نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس میں افغانستان ، بنگلہ دیش اور پاکستان سے آئے ہوئے غیرمسلم پناہ گزینوں کے لیے ہندوستان کی شہریت کے لیے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ اس نوٹیفیکیشن میں گجرات ، راجستھان، چھتیس گڑھ، ہریانہ اور پنجاب کے 13 اضلاع میں مقیم ہندو ،سکھ ،جین ، بودھ ، پارسی اور عیسائی برادری کے لوگوں کو ہندوستان کی شہریت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ مذکورہ اضلاع کے کلکٹروں ان پناہ گزینوں کو شہریت کا سارٹیفیکٹ دینے کے مجاز ہوںگے۔ پنجاب اور ہریانہ کے چیف سیکریٹریوںکو بھی ان لوگوں کی درخواستیں قبول کرنے اور شہریت کی سند جاری کرنے کامشروط اختیار دیا گیا ہے۔ گزشتہ جمعہ کو مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری نوٹیفیکیشن میں شہریت آرڈی نینس 1955 اور2009کے تحت بنائے گئے ضابطوں کی پیروی کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ حالانکہ نئے شہریت ترمیمی آرڈی نینس(سی اے اے)کے تحت ابھی ضابطوں کو تیار نہیں کیا گیا ہے، جسے حکومت نے نومبر 2019 میں پارلیمنٹ سے منظور کرایا تھا اور یہ جنوری 2020سے نافذ ہے۔ اس قانون کے مطابق بنگلہ دیش ، پاکستان اور افغانستان سے آئے ان غیر مسلم پناہ گزینوں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی، جو31 دسمبر 2014تک ہندوستان آئے ہیں۔
قابل غور بات یہ ہے کہ وزارت داخلہ نے جو تازہ نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے اس میں شہریت آرڈی نینس مجریہ 1955 اور2009کے تحت بنائے گئے ضابطوں کی پیروی کرنے کی بات کہہ کر اس میں شہریت ترمیمی آرڈی نینس کے ضابطوں کو شامل کرلیا گیا ہے اور صرف غیرمسلم پناہ گزینوں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت متنازعہ سی اے اے قانون کوپچھلے دروازے سے نافذ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔اگر آپ غور سے دیکھیں تواس حکومت کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہ کبھی جمہور کی رائے کا احترام نہیں کرتی اور ہمیشہ اپنی من مانی کرتی ہے۔معاملہ متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ کا ہو یا پھر متنازعہ زرعی قوانین کا، یہ دونوں حالیہ عرصہ میں منظور کئے گئے دو ایسے قوانین ہیں جن کے خلاف زبردست عوامی احتجاج ہوئے ہیں، لیکن حکومت نے اس معاملے میں متاثرہ افراد کے خدشات اور اندیشوں کو دور کرنے کی بجائے ان کی آوازکوطاقت کے زورپر دبانے کی کوشش کی ہے۔کسان آج بھی زرعی قوانین کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں ، لیکن حکومت ان کی ایک بھی سننے کوتیار نہیں ہے۔ اسی طرح شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر سطح پر جو بے نظیر احتجاج ہوئے ہیںانھیں کچلنے کی ہرممکن کوشش کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ ان میں شامل سرکردہ لوگوں کودہشت گردی مخالف قانون یو اے پی اے کے تحت گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیاہے۔ دہلی میں سی اے اے مخالف بیشتر سرکردہ کارکنوں کو نارتھ ایسٹ دہلی کے فساد کا ملزم بناکر پابندسلاسل کردیا گیاتاکہ ان کے حوصلوں کو توڑکر حکومت اپنی من مانی کرسکے۔ کہا جاتا ہے کہ نارتھ ایسٹ کے فساد کو برپا کرنے کا مقصد ہی یہی تھا، جس میں پچاس سے زیادہ بے گناہ افراد ہلاک ہوئے اور ہزاروں سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ مختلف شہروں میں جن لوگوں نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج میں حصہ لیا تھا ، ان پر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں اور ان کی جائیدادیں قرق کرلی گئی ہیں۔
عام خیال یہ تھا کہ حکومت نے کورونا وبا کی وجہ سے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے نفاذسے ہاتھ کھینچ لیے ہیں ، لیکن یہ خیال غلط ثابت ہوا اور حکومت اپنے ایجنڈے پر واپس آگئی اور وہ مذہبی تفریق اور تعصب پر مبنی اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے کووڈ کے حالات کا استعمال کررہی ہے۔ یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ ملک اس وقت طبی ایمرجنسی کے دور سے گزررہا ہے۔ کورونا کی اس خوفناک وبا کی زد میں آکر اب تک تین لاکھ لوگ موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔کروڑوں لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ آج بھی ناکافی طبی سہولتوں کی وجہ سے مریض در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ یہاں تک کہ کورونا سے موت کا شکار ہونے والوں کی لاشوں کی آخری رسومات بھی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ اس کا سب سے دردناک اور انسانیت سوزنظارہ اترپردیش میں دیکھنے کو ملا ہے جہاں ہزاروں لاشیں گنگا کے ساحل پرتیرتی اور ریت میں دبی ہوئی ملی ہیں۔ ویکسین کی فراہمی بھی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ایسے حالات میں حکومت ملک کے مسلم شہریوں کو الگ تھلگ کرنے میںمصروف ہے تاکہ عوام کی توجہ ان مسائل سے ہٹاکر فرقہ وارانہ موضوعات پر مرکوز کی جاسکے اور ایک بار پھر ان کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاسکے۔
 قابل غور پہلو یہ ہے کہ سی اے اے کے خلاف سپریم کورٹ میں درجنوں درخواستیں زیرالتوا ہیں اور ابھی عدالت نے ان پر سماعت بھی شروع نہیں کی ہے، ایسے میں بعنوان دیگراس کے نفاذ کا نوٹیفیکیشن جاری کرنا کہاں تک درست ہے۔شہریت قانون 1955 کے تحت شہریت کے سرٹیفیکٹ کا اختیار 1983تک ضلع کلکٹروں کے پاس ہی تھا، لیکن آسام سمجھوتے کے بعداسے واپس لے لیا گیا تھا۔ اس بارے میں آخری فیصلہ مرکزی داخلہ سیکریٹری کے پاس محفوظ کردیا گیا تھا، لیکن جائز ویزا ، پاسپورٹ پر آئے اقلیتی باشندوں کے مسائل میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے2016 میں مرکز نے شہریت قانون مجریہ 1955کی دفعہ 16کے خصوصی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے16ضلعوں کے کلکٹروں کو دوبارہ سے وہ اختیارات بحال کردئیے۔ اب اس میں 13ضلعوں کے کلکٹر مزید جڑ گئے ہیں۔ یعنی29 ضلعوں کے کلکٹروں کواس قسم کی درخواستوں پر غور کرکے فیصلہ لینے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے تازہ نوٹیفیکیشن سے ان تمام اندیشوں نے دوبارہ سر اٹھالیا ہے جو شہریت ترمیمی قانون کے پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ سب سے بڑاسوال یہ ہے کہ اس ملک میں دستور کی حکمرانی قایم ہوگی یا پھر ایک متعصب اور تنگ نظر حکومت کا ایجنڈا نافذ ہوگاجو پوری طرح مسلمانوں کو دیوار سے لگانے سے عبارت ہے۔انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے لیے ایک بار پھر صدائے احتجاج بلند کرنے کا وقت آپہنچا ہے۔

 

Ads