Jadid Khabar

مسجد غریب نواز شہید کردی گئی

Thumb

سرکاری افسران کے ہاتھوں100سالہ قدیم تاریخی مسجد کی ظالمانہ شہادت کی دلدوز خبر ایک ایسی ریاست سے آئی ہے،جہاں حالیہ وبائی دور میں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ اس ریاست میں حکومت کی ناکامیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ علاج سے محروم یہاں کے لاچار باشندوں کی لاشیںندیوں میں تیر رہی ہیں اور ان کی آخری رسومات تک کے انتظامات نہیں ہیں۔جی ہاں ، یہ ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش ہے جہاں کی طبی سہولتوں کے بارے میں خود عدالت عالیہ نے کہا ہے کہ یہاں سب کچھ ’ رام بھروسے ‘ہے۔اسی ریاست کے ضلع بارہ بنکی میں انتظامیہ نے ایک100 سالہ قدیم تاریخی مسجد کو غیرقانونی قرار دے کررات کی تاریکی میںاس پر بلڈوزر چلادیا ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ جس مسجد کو غیرقانونی بتاکر شہید کیا گیا ہے ، وہ باقاعدہ طورپراترپردیش سنی سینٹرل وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے اور اس پر کبھی کوئی تنازعہ نہیں رہا ہے۔ مگر یہ اترپردیش ہے جہاں مسجدوں کو مندروں میں بدلنا اور انھیں مسمار کرنا سب سے بڑا کام ہے۔یہ ایک ایسی ریاست ہے جہاں حاکمان وقت کا قول ہی سب سے بڑاقانون ہے اور جہاںاصل قانون گھٹنوں کے بل رینگتا ہوا نظر آتا ہے۔
سبھی جانتے ہیں کہ یہ وبائی دور ہے اور اس کے آگے بڑے بڑے فرعون پناہ مانگ رہے ہیں۔ ہرطرف موت رقص کررہی ہے۔ حکومت اس وبا پر قابو پانے اور متاثرین کو علاج فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔کورونا کی حالیہ تباہ کاریوں نے حکمران وقت کی پول کھول کررکھ دی ہے اور پوری دنیا ان کے کردار پر تھو تھو کررہی ہے۔ایسے میں یہ امید تھی کہ یہ لوگ عقل کے ناخن لیں گے، لیکن فرقہ واریت اور مسلم دشمنی ان کے دل ودماغ میں اس حد تک پیوست ہے کہ اس وبائی دور میں بھی جب کہ انتظامیہ کو آکسیجن کے لیے تڑپنے والے مریضوں اور دواؤں کے لیے در دربھٹکنے والے بے بس لوگوں کی داد رسی کرنی چاہئے تھی، وہ ایک مسجد کو منہدم کرکے خود اپنی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے ۔ ظاہر ہے جب خدا کے گھر سے ایسا گھناؤنا کھلواڑ ہوگا تو قہرخدواندی کو جوش کیوں نہیں آئے گا ۔کہتے ہیں جب کبھی انسانی بستیوں پر وبائیں نازل ہوتی ہیں تو خدا کے بندے اپنے مالک سے رجوع ہوتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی تلافی کرتے ہیں، لیکن یہ کون لوگ ہیں جوجان بوجھ کر قہرخداوندی کو دعوت دے رہے ہیں۔
بارہ بنکی کے رام سنیہی گھاٹ کی جس غریب نواز مسجد کو غیرقانونی قرار دے کر راتوں رات منہدم کیا گیا ہے،اس میں مقامی افسران پوری طرح ملوث بتائے جاتے ہیں۔گزشتہ مارچ میں رام سنہیی گھاٹ کے ایس ڈی ایم نے مسجد کمیٹی کو نوٹس جاری کرکے مسجد کی اراضی سے متعلق کاغذات طلب کیے تھے۔ کمیٹی نے اس نوٹس کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور عدالت نے دوہفتہ کے اندر جواب داخل کرنے کی مہلت دی، جس کے بعد یکم اپریل کو جواب داخل کردیا گیا، لیکن اس کے باوجود کسی اطلاع کے بغیریک طرفہ طورپر ضلع افسران نے مسجد کے انہدام کاانتہائی اشتعال انگیزقدم اٹھایا۔جس مسجد کو ضلع انتظامیہ نے غیرقانونی قرار دے کر منہدم کیا ہے وہ 1968سے یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے اور متولی کے پاس مسجد کی قانونی حیثیت کے تمام کاغذات بھی موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود جس طرح مسجد انتظامیہ کمیٹی کو دھمکیاں دے کر مسجد منہدم کی گئی ہے، وہ انتہائی تشویش ناک بات ہے۔ مسجد چونکہ تحصیل کے احاطہ میں ایس ڈی ایم کے گھر کے سامنے واقع تھی اور وہ اسے پسند نہیں کرتے تھے ، اس لیے انھوں نے خود ہی اس کے انہدام کا حکم دیا اور اپنے سامنے اس کو منہدام کروادیا۔ایک ایس ڈی ایم اتنی بڑی کارروائی ازخود انجام نہیں دے سکتا جب تک کہ اس کے سرپر اعلیٰ حکام کا ہاتھ نہ ہو۔
مسجد کے انہدام کے بعد انتظامیہ نے اس کا ملبہ کلیانی ندی کے کنارے مختلف مقامات پر پھینک دیا ہے اور مسجد کی جگہ کو اس طرح صاف کردیا گیا ہے کہ گویا یہاں پہلے کوئی تعمیر ہی نہیں تھی، مگر مسجد کے سوسال پرانے کاغذات اور وقف بورڈ میں موجود اس کا ریکارڈ پوری طرح محفوظ ہے ۔وقف بورڈ نے ایک تحریری بیان جاری کرکے مسجد کے انہدام کو پوری طرح غیرقانونی اور حد سے متجاوز کارروائی کی پرزور مذمت کی ہے۔ انہدامی کارروائی کو الہ آبادہائی کورٹ کی طرف سے 24 اپریل 2021 کو دئیے گئے حکم کی واضح خلاف ورزی بھی قرار دیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے  حکم میں کہا تھا کہ کورونا وبا کے پیش نظر31 مئی 2021تک کسی بھی اراضی کو خالی کرانے، بے دخل کرنے یا منہدم کرنے کے سلسلے میں ہائی کورٹ، سول کورٹ یا ضلع عدالت کے حکم کی تعمیل نہیں کی جائے گی، لیکن انتظامیہ نے اس حکم کی بھی کوئی پروا نہیں کی اور مسجد کے انہدام میں غیرمعمولی عجلت کا مظاہرہ کیا گیا۔واضح رہے کہ ضلع انتظامیہ نے ناجائز تعمیرات کو منہدم کئے جانے کے سلسلے میں جس عدالتی حکم کا حوالہ دیا ہے ، وہ2011کے بعد کی تعمیرات پر لاگو ہوتا ہے جبکہ غریب نواز مسجد 100 سال پرانی ہے۔
 مسجد کے متولی کا کہنا ہے کہ رام سنیہی گھاٹ کے ایس ڈی ایم نے مسجد کو چاروں طرف سے گھیرابندی کرکے بغیر کسی نوٹس کے شہید کیا ہے۔ اس سلسلہ میں بارہ بنکی ضلع مجسٹریٹ نے مسجد انتظامیہ کو جو نوٹس جاری کیا تھا ، اس کا معقول جواب بھی دے دیا گیا تھا، پھر بھی مسجد کو منہدم کرکے مسلمانوں میں یہ کہہ کر دہشت پیدا کردی گئی کہ اگر کسی نے مسجد کو منہدم کرنے کے خلاف آواز بلند کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایس ڈی ایم کی عدالت میں مسجد کے بجلی کنکشن کا جو ثبوت بطور بل پیش کیا گیا تھا وہ بھی ایس ڈی ایم کی نگاہ میں غیرقانونی قرار پایا اور ایس ڈی ایم نے اپنے حکم میں مسجد میں نصب بجلی کے جائز کنکشن میں بجلی چوری کے مقدمے کا بھی ذکر کیا ہے۔مسجد میں بجلی کا میٹر1959 سے لگا ہوا ہے۔
اگر ایک لمحہ کے لیے یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ تحصیل کے احاطے میں واقع غریب نواز مسجد غیرقانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی تو ان مندروں کے بارے میں انتظامیہ کا کیا موقف ہے جو اترپردیش کے ہر سرکاری دفتر اور ہر تھانے میں موجود ہیں۔ کیا انتظامیہ اس سوال کا جواب دے گی کہ یہ مندر کس کی اجازت سے اور کس سے زمین خرید کر بنائے گئے ہیں ۔ ظاہر ہے یہ سارے مندر غیرقانونی طورپر سرکاری زمین پر قبضہ کرکے ہی بنائے گئے ہیں، لیکن ان پر ضلع انتظامیہ اور غیرقانونی تعمیرات گرانے والے بلڈوزروں کی نگاہ کبھی نہیں پڑتی۔ مسجد غریب نواز 100 پہلے تعمیر ہوئی تھی اور یہاں تحصیل کا قیام 1992 میں عمل میں آیا۔
یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ اترپردیش میںاسمبلی انتخابات کی آمد آمد ہے ۔ یہاں چناؤ کو صرف آٹھ مہینے باقی رہ گئے ہیں۔وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جھولی میں ناکامیوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔حالیہ کورونا بحران کے دوران اترپردیش میں طبی سہولتوں کی پول خود الہ آباد ہائی کورٹ نے کھولی ہے۔عدالت نے اترپردیش کے دیہی علاقوں میں کورونا کی جانچ اور دوردراز علاقوں میں علاج اور طبی سہولتوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کا طبی نظام ’’ رام بھروسے‘‘ چل رہا ہے۔ ہائی کورٹ کا یہ تبصرہ حکومت کی ناکامی کو پوری طرح اجاگر کرتا ہے۔اس وبائی دور میں اترپردیش کے باشندوں کو سرکاری سطح پر جو کڑوے تجربات ہوئے ہیں ، ان کی وجہ سے وہ حکومت سے بری طرح بیزار ہیں۔ ایسے میں حکومت کے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ عوام کو فرقہ وارانہ ایجنڈے کی طرف لے جائے ۔ مندراورمسجد کے تنازعہ میں الجھاکر ایک بار پھر ریاست کی فضا کو فرقہ واریت کی طرف لے جانا ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے تاکہ عوام اپنے اصل مسائل اور حکومت کی ناکامیوں کو نظرانداز کرکے ایک بار پھر بی جے پی جھولی ووٹوں سے بھردیں۔ لیکن اس بار عوام نے جو زخم کھائے ہیں ، اس نے انھیں اس حکومت سے پوری طرح بیزار کردیا ہے اور وہ اس کا بدلہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں ضرور لیں گے۔مسجد غریب نواز کی ظالمانہ شہادت کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے اور مسجد کی تعمیرنو تک جدوجہد جاری رہنی چاہئے۔

 

Ads