Jadid Khabar

بنگال میں بی جے پی کا غرورخاک میں مل گیا

Thumb

ممتا بنرجی نے تیسری بار مغربی بنگال کا تاج پہن لیا ہے۔ان کی پارٹی ترنمول کانگریس نے بی جے پی کو دھول چٹادی ہے۔ریاست میں پہلی بھگوا سرکار قایم کرنے کا بلند بانگ دعویٰ کرنے والے بی جے پی لیڈران اپنے زخموں کو چاٹ رہے ہیں۔ان کا غرور خاک میں مل چکا ہے۔حالانکہ2016 کے اسمبلی انتخابات میں صرف تین سیٹوں تک سمٹ کر رہ جانے والی بی جے پی کو اس بات کا اطمینان ہے کہ اس نے اس بار 76سیٹیں حاصل کرکے ریاست میں پرنسپل اپوزیشن کی حیثیت حاصل کرلی ہے ۔ لیکن یہ کامیابی 2019کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو حاصل شدہ ووٹوںکے مقابلہ میں کم ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے اسمبلی کی 121 نشستوں پر سبقت حاصل کی تھی ، لیکن اس بار وہ 76 سیٹوں پر ہی کا میاب ہوپائی۔قابل غور بات یہ ہے کہ اس بار مغربی بنگال اسمبلی میں کانگریس کا کھاتہ ہی نہیں کھلا۔جبکہ پچھلی اسمبلی میں کانگریس یہاں پرنسپل اپوزیشن پارٹی تھی۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ بنگال میں نتائج آنے کے بعد جو تشدد شروع ہوا تھا ، اس میں اب تک ڈیڑھ درجن لوگ اپنی جانیں گنواچکے ہیں۔وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی کے لوگ مینڈیٹ قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں اور وہ گھوم گھوم کر تشدد بھڑکارہے ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی کو بنگال میں اپنی شکست ہضم نہیں ہوپارہی ہے، اسی لیے بعض سرپھرے وہاں صدارتی راج قایم کرنے کی باتیں کررہے ہیں۔
اس الیکشن کی ایک اہم بات یہ ہے کہ اس بار یہاں بایاں محاذ اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول پایا ہے۔بایاں محاذ کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ اس نے مغربی بنگال میں35 برسوں تک حکومت کی ہے اور وہ وہاں کی سب سے مضبوط سیاسی طاقت بن گئی تھی ، لیکن اس مرتبہ اسمبلی میں اس کے ایک ممبر کا بھی نہ پہنچ پانا ایک بڑے المیہ سے کم نہیں ہے۔ پچھلی اسمبلی میںبایاں بازو اور کانگریس کے 76ارکان تھے۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو بی جے پی نے ان دونوں ہی پارٹیوں کی سیٹوں پر قبضہ کیا ہے، کیونکہ ترنمول کانگریس نے نہ صرف یہ کہ اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھی ہے بلکہ اس میں تین سیٹوں کا اضافہ کرکے وہ 214 نشستوں تک پہنچ گئی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ بی جے پی کے پرنسپل اپوزیشن بننے کے بعداس سے لوہا لینے میں ممتا کو کیا نقصان اٹھانا پڑے گا۔اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ ممتا بنرجی کی جو انرجی اب تک ترقیاتی کاموں میں صرف ہوتی رہی تھی ، اس میں سے بیشتر انرجی اب بی جے پی کی طرف سے پیدا کردہ فروعی مسائل کو حل کرنے میں صرف ہوگی ،کیونکہ بی جے پی اس کے لیے ہرروز ایک نیا مسئلہ کھڑا کرے گی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  بی جے پی نے یہاں کانگریس اور بایاں محاذ کا صفایا کرکے پرنسپل اپوزیشن کی حیثیت کیوں کر حاصل کرلی۔وہ پارٹی جسے ماضی میںمغربی بنگال میں دوچار سیٹوں کے لیے بھی ترسنا پڑتا تھا، وہ آج وہاں کی سیاست کے محور میں کیسے آگئی؟
 اس سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ2011میں بایاں محاذ سے اقتدار چھیننے کے بعد ممتا بنرجی نے اپنی پوری طاقت بایاں محاذ کو ختم کرنے میں لگائی اور اس حقیقت کو فراموش کردیا کہ بہتر حکمرانی کے لیے صحت مند اپوزیشن کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔بایاں محاذ کے سیاسی خاتمہ کے بعدجو زمین خالی ہوئی اور صوبے میںاپوزیشن کا جو خلاء پیدا ہوا، بی جے نے نہایت چالاکی سے اسے بھرنے کا کام شروع کردیا۔شروعات ہندو کارڈ سے ہوئی ۔ ایک منصوبہ بند حکمت عملی کے تحت فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دی گئی۔جگہ جگہ ’ جے شری رام ‘ کے نعرے اچھالے گئے اور بنگالیوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہاں ہندو خطرے میں ہیں، کیونکہ ممتا بنرجی کی پوری سیاست مسلمانوں کی منہ بھرائی تک محدود ہے۔اس کے ساتھ ممتا کو کمزور کرنے کے لیے ان کے کئی ناراض ساتھیوں کو بھی لالچ دیاگیا ۔ اس کے نتیجے میں ممتا کے کئی پرانے ساتھی بی جے پی میں شامل ہوگئے۔بی جے پی نے گزشتہ ایک سال میں ترنمول کانگریس کے علاوہ لیفٹ فرنٹ کے بھی کئی لیڈروں کو توڑنے میں کامیابی حاصل کی ۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حالیہ اسمبلی چناؤ میں142دل بدلوؤں کو بی جے پی نے میدان میں اتارا تھا، لیکن  بی جے پی کی بدقسمتی یہ رہی کہ یہ اپنی پارٹی کا ووٹ ساتھ نہیں لا سکے۔ترنمول کانگریس کا ووٹ بینک اس کے ساتھ برقرار رہا۔
یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ بی جے پی نے ممتا بنرجی کو گھیرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔  وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ کی قیادت میں بی جے پی کی پوری فوج بنگال میں ڈیرا ڈالے ہوئے تھی۔’اب کی بار200 پار‘ کا نعرہ بھی فضا میں گونج رہا تھا۔ بی جے پی کے خصوصی انتظامات کے تحت گودی میڈیا پر وزیراعظم اور وزیرداخلہ کی جو ریلیاں دکھائی جارہی تھیں ، ان میں ’ جے شری رام‘ اور ’ بھارت ماتا کی جے‘ کے سنگھی نعرے بھی خوب لگ رہے تھے۔ریلیوں کی یہ پیڈ کوریج ، جسے پوری طرح بی جے پی کی پروپیگنڈہ مشنری تیار کرکے ٹی وی چینلوں پر دکھا رہی تھی ، دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ پورا بنگال زعفرانی ہوگیا ہے اور وہاں ہندتو کی زبردست لہر چل رہی ہے۔2مئی کو بھی جب ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی تب بھی گودی میڈیا وہاں کانٹے کی ٹکر دکھارہا تھا۔اس سے پہلے سارے ایکزٹ پول ایک ہی راگ الاپ رہے تھے، لیکن قدرت کو کسی کا غرور خاک میں ملانا تھامقصود تھا اور وہ مل کر ہی رہا۔
اس الیکشن میں وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی ساکھ داؤ پر لگادی تھی ۔وہ ہر دوسرے دن وہاں نظرآرہے تھے۔انھوں نے وہاں ’ دیدی او دیدی‘ کی جو گردان کی اس نے ان کی بحیثیت وزیراعظم شبیہ کو بہت متاثر کیا۔ ایسا لگتا تھا کہ ملک کا وزیراعظم نہیں بلکہ کوئی سطحی قسم کانیتا الیکشن کے میدان میں اپنی قسمت آزمارہا ہو۔ وزیراعظم اور ان کی پارٹی نے ممتا بنرجی کو نیچا دکھانے کے جتنے بھی جتن کئے ، وہ اتنا ہی اونچائی پر پہنچتی چلی گئیں۔ بنگال کے انتخابی نتائج سے وزیراعظم کو اتنا تو سبق لینا ہی چاہئے کہ ان کے مشیروں نے ان کے اندر ملک کا ناقابل تسخیر لیڈر ہونے کی جو غلط فہمی پیدا کردی ہے ، اسے وہ جتنی جلد دور کرلیں، اتنا ہی ان کے حق میں بہتر ہے ۔ کیونکہ ان کا جادو پارلیمانی انتخابات میں توچل سکتا ہے ،لیکن اسمبلی انتخابات میں بالکل نہیں ۔ پارلیمانی انتخابات کے موضوعات الگ ہوتے ہیں اور اسمبلی انتخابا ت کے الگ۔یہی وجہ ہے کہ مغربی بنگال ہو یاآسام ، تمل ناڈو ہو یا کیرل، یہاںکے ووٹروں نے مقامی مسائل اور اپنے کلچر کے تحفظ کے نام پرووٹ دئیے ہیں۔ ان میں صرف آسام میں ہی بی جے پی نے کامیابی حاصل کی ہے اور وہ بھی علاقائی ثقافت اور کلچر کے تحفظ کے نام پر۔کیرل میں حسب سابق بی جے پی کھاتا ہی نہیں کھلاجبکہ تمل ناڈو میں اس نے آنجہانی جے للتا کی پارٹی کے ساتھ مل کر چناؤ لڑا تھا ، جوشکست فاش سے دوچار ہوگئی ہے۔
وزیراعظم اور ان کے مشیروں کو یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ وہ اپنی جس شبیہ کو الیکشن کے میدان میں بھنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، وہ حالیہ عرصے میں کافی داغدار ہوئی ہے۔ کورونا کی سنگین وبا نے ہندوستان کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے اور اس کی ذمہ داری سیدھے وزیراعظم کے کاندھوں پر ہے۔ملک میں طبی سہولتوں کا زبردست فقدان ہے۔ میڈیکل آکسیجن کی کمی سے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔اسی طرح اسپتالوں میں بستروں کی شدید کمی اور جان بچانے والی دواؤں کی قلت نے ملک میں عجیب وغریب حالات پیدا کردئیے ہیں۔ایک ایسے نازک دور میں جب وزیراعظم کو اپنی پوری توجہ کورونا کے سنگین تر ہوتے بحران پر قابو پانے پر صرف کرنی چاہئے تھی، وہ مغربی بنگال میں لاکھوں لوگوں کو بغیر ماسک کے بھاشن پلارہے تھے، کیونکہ ان کی پارٹی پہلے ہی کورونا پر ’ سب سے پہلے‘ قابو پانے کے سلسلے میں وزیراعظم کی پیٹھ تھپتھپا چکی تھی۔ایسے میں پوری دنیا نے اس آخری درجے کی لاپروائی کا نوٹس لیا۔ آج دنیا بھر کے اخبارات وزیراعظم نریندر مودی پر ان کی بے نظیر لاپروائی کے لیے سخت الفاظ میں تنقیدیں کررہے ہیں۔وزیراعظم نے بڑی محنت اور اسٹیج پرفارمنس کے ذریعہ جو عالمی امیج بنائی تھی وہ کورونا کی وجہ سے خاک میں مل چکی ہے اور وزیراعظم اس وقت عالمی میڈیا کے نشانے پر ہیں۔اب جبکہ مغربی بنگال میں ان کی پارٹی شکست فاش سے دوچار ہوچکی ہے تو انھیں اپنی پوری توجہ کورونا سے لڑنے پر صرف کردینی چاہئے۔ یہی وقت کا تقاضہ ہے۔بنگال میں لاقانونیت پھیلانا کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ ممتا بنرجی سے ان کا اصل مقابلہ اب 2024 کے عام انتخابات میں ہوگا۔ غالب گمان ہے کہ وہ اس الیکشن میں اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار کے طور پروزارت عظمیٰ کی دعویدار ہوں گی۔

 

Ads