Jadid Khabar

الیکشن کمیشن کو ہائی کورٹ کی پھٹکار

Thumb

جس وقت یہ سطریں قلم بند کی جارہی ہیں، پورے ملک میں افراتفری مچی ہوئی ہے۔ہر طرف دل دہلا دینے والے مناظر ہیں۔ہمارے گردوپیش ہرلمحہ ایسے انسانی المیے جنم لے رہے ہیں کہ انھیں پوری طرح الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔شمشان گھاٹوں اور قبرستانوں میں لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔کہیں مردوں کو جلانے کے لیے لکڑیوں کی قلت ہے تو کہیں قبرستانوں میں جگہ اور گورکنوں کا ٹوٹا ہے۔اسپتالوں میں بیڈ نہیں ہیں۔آکسیجن کی اتنی شدید قلت ہے کہ لاتعداد لوگ بروقت آکسیجن نہ ملنے کے سبب دم توڑرہے ہیں۔ نامی گرامی اسپتالوں میں طبی سہولتوں کا فقدان ہے اور ہر طرف ہا ہا کار مچی ہوئی ہے۔کورونا پر سب سے پہلے قابو پانے کا اعلان کرنے والی بی جے پی اور اس کی سرکار کا کہیں کوئی وجود نظر نہیں آرہا ہے۔کورونا پروٹوکول کی دھجیاں اڑاکرلاکھوں لوگوں کی انتخابی ریلیاں کرنے والے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی انتہائی لائق وفائق سرکار روپوش ہوچکے ہیں اور لوگوں کو حالات کے رحم وکرم پر لاچار چھوڑ دیا گیا ہے۔ تاریخ کے اس بدترین انسانی المیہ کا اختتام کہاں جاکر ہوگا، کسی کو پتہ نہیں۔ہاں اتنا ضرور پتہ ہے کہ جس وقت کورونا کی دوسری اور انتہائی خطرناک لہردستک دے رہی تھی تو ملک میں پانچ اسمبلی انتخابات کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ انتخابی سرگرمیوں کے دوران کورونا پروٹول کی دھجیاں ہی نہیں اڑائی جارہی تھیں، بلکہ کھلے عام اس موذی وبا کو دعوت دی جارہی تھی۔ ایسے  میں الیکشن کمیشن نے ان تمام حالات سے آنکھیں موند رکھی تھیں۔ الیکشن کمیشن اس وقت تک بیدار نہیں ہوا جب تک کہ خود وزیراعظم نے حالات کے بدترین رخ اختیار کرنے کے بعد اپنی ریلیاں منسوخ کرنے کا اعلان نہیں کردیا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آزاد اور خودمختار آئینی ادارے کی بجائے ایک سیا سی پارٹی کے ایجنٹ کے طورپر کام کررہا تھا۔ یہ بات ہم نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ مدراس ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی بے عملی پر جو تبصرہ کیا ہے، وہ اس ملک میں کسی دستوری ادارے پر عدالت کا سب سے سخت تبصرہ ہے۔
مدراس ہائی کورٹ نے کورونا کی دوسری لہر کے لیے الیکشن کمیشن کو ’واحد‘ذمہ دارادارہ قرار دیا ہے۔چیف جسٹس سنجیو بنرجی اورجسٹس ایس کے رام مورتی نے یہاں تک کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے افسروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہونا چاہئے۔عدالت نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن ہی ہے جس نے سیاسی پارٹیوں کو جلسے اور چناوی ریلیاں کرنے کی اجازت دی‘ جس سے وبا پھیلی۔ اس سے قبل کلکتہ ہائی کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو سخت سست کہا تھا۔ گزشتہ ۲۲ اپریل کوکلکتہ ہائی کورٹ نے کورونا کی گائیڈ لائنس پر عمل درآمد نہ کیے جانے کے معاملے میں زبردست پھٹکار لگائی تھی۔ اتنا ہی نہیں اپنے فیصلے میں عدالت عالیہ نے سابق الیکشن کمشنر ٹی این سیشن کا نام لیتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن ان کی طرح کام کرے ورنہ ہائی کورٹ مداخلت کرے گا۔
سبھی جانتے ہیں کہ الیکشن کمیشن ایک دستوری ادارہ ہے اور تمام تر خرابیوں کے باوجود اس نے اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے کی کوشش بھی کی ہے۔ماضی قریب میں ایک ایسا بھی دور گزرا ہے جب سیاسی پارٹیاں اور ان کے لیڈران الیکشن کمیشن سے خوف کھاتے تھے اور اس کی حیثیت جمہوریت کے نگہبان کی بن گئی تھی۔ ٹی این سیشن کے دور کو لوگ اس لیے یاد کرتے ہیں کہ وہ الیکشن کمیشن کا سب سے سنہری دور تھا اور اس ادارے نے پورے ملک میں ایک منفرد ادارے کی حیثیت حاصل کرلی تھی۔
لیکن یہ سب اب قصے کہانیاں معلوم ہوتے ہیں، کیونکہ اب الیکشن کمیشن نے اپنی ساکھ بری طرح کھودی ہے اور اس پر مسلسل جانبداری اور حکمراں طبقہ کے مفادات کا تحفظ کرنے کے الزامات لگنے لگے ہیں۔
 اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتاکہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد جمہوری اور دستوری اداروں کاتیزی کے ساتھ زوال ہوا ہے اور اس کا سب سے خراب اثر الیکشن کمیشن اور اس کی کارکردگی پر پڑا ہے۔ یکے بعد دیگرے ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں الیکشن کمیشن نے اپنی غیر جانب داری کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے اور واضح انداز میں وہ حکمراں طبقے کے مفادات کی تکمیل کرتا ہوا نظر آیا ہے۔حالیہ دنوں میں جب کورونا کی تباہ کاریاں اپنے عروج پر تھیں اور ہر طرف ہا ہاکار مچی ہوئی تھی تو کمیشن نے لاکھوں لوگوں کی ریلیوں پر پابندی لگانے پر غور نہیں کیا اور نہ ہی وبائی دور میں سیاست دانوں کو کورونا پروٹوکول کا پابند بنایا۔ یہاں تک کہ جب مغربی بنگال کے طویل چناوی عمل کو مختصر اور محدود کرنے کی بات کہی گئی تو کمیشن نے اس پر بھی کوئی توجہ نہیں دی۔جب کانگریس صدر راہل گاندھی نے اپنی انتخابی مہم ختم کرنے کا اعلان کیا تو کچھ لوگوں کا ضمیر ضروربیدار ہوا اور انھوں نے انتخابی جلسوں میں پانچ سو افراد کی تعدا د محدود کرنے کی بات تسلیم کی۔لیکن اس وقت تک کافی دیر ہوچکی تھی اور انتخابات کے مراحل سے گزررہے صوبوں میں کورونا کے کیس بے قابو ہونے لگے تھے۔ کلکتہ شہر کا عالم یہ تھا کہ کورونا کی جانچ کرانے والا ہردوسرا شخص اس کا مریض پایا گیا۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ مغربی بنگال کا چناؤ بی جے پی کے لیے ’کرو یا مرو‘ کی طرح تھا اور اس نے وہاں اپنی ساری طاقت جھونک رکھی تھی۔وزیراعظم نریندر مودی نے اسے انتخابی میدان کی بجائے جنگ کے میدان میں تبدیل کردیا تھا اور وہ ہر دوسرے دن وہاں کسی بڑی ریلی کو خطاب کررہے تھے۔انھوں نے اس دوران ڈیڑھ درجن ریلیوں کو خطاب کیا۔وزیراعظم کی اس غیر معمولی دلچسپی اور ’’دیدی، دیدی“ کی گردان نے ایک عجیب وغریب ماحول پیدا کردیا تھا۔بی جے پی کے فائر برانڈ لیڈران ہرروز ایک نیا شگوفہ چھوڑ رہے تھے۔ ایک انتخابی جلسہ میں یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ ہم نے ایسے حالات پیدا کردئیے ہیں کہ ”سیا سی پارٹیاں اب مسلمانوں کا نام لینے سے ڈرنے لگی ہیں۔“یہ پوری طرح ایک فرقہ وارانہ بیان تھا اور ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے دستوری حقوق پر حملہ تھا، لیکن الیکشن کمیشن نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔لیکن جب ایک چناوی ریلی میں ممتا بنرجی نے یہ کہا کہ”اقلیتوں کا ووٹ تقسیم نہیں ہونا چاہئے“ تو الیکشن کمیشن  فوراًحرکت میں آگیا۔ اس بیان کو فرقہ وارانہ قرار دے کر ممتا بنرجی پر بندشیں لگادی گئیں۔ حالانکہ بی جے پی نے مغربی بنگال اور آسام میں کھل کر ہندو کارڈ کھیلا اور اس کے لیڈران ماحول میں مسلسل فرقہ واریت کا زہر گھولتے رہے مگر الیکشن کمیشن خواب خرگوش کے مزے لیتا رہا۔ایسا کرنا بی جے پی کو چناوی فائدہ پہنچانے کے لیے ضر وری تھا۔
وزیراعظم نریندر مودی نے حالیہ اسمبلی انتخابات کے دوران جس غیر ذمے داری اور سطحی پن کا ثبوت دیا ہے، اس کے لیے عالمی میڈیا نے انھیں نشانے پر لیا ہے۔ دنیا کے تمام بڑے اخبارات نے ان پر سخت تنقید کی ہے۔ امریکی اخبارات ’نیویارک ٹائمز‘ اور ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے علاوہ ’دی گارجین‘ اور ’ٹائم میگزین‘نے ملک کے سب سے بدتر حالات کے لیے مودی اور ان کے احساس برتری کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی دستوری اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھانے سے زیادہ وزیراعظم نریندر مودی کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا اور اسی پچھ لگو پن کی وجہ سے ملک کوصدی کے بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
 سب سے بڑاسوال یہ ہے کہ ایک ایسے نازک دور میں جب پورے ملک کے اندر روزانہ کورونا کے لاکھوں مریض نکل رہے تھے تو الیکشن کمیشن نے سیاسی پارٹیوں کوکورونا پروٹوکول کی دھجیاں اڑانے کی اجازت کیوں دی اور کروڑوں لوگوں کے جیون سے کھلواڑ کیوں کیا؟ یہی سب سے بڑا سوال ہے جس پر ملک کی توجہ دلانے کے لیے مدراس ہائی کورٹ نے سب سے سخت تبصرہ کیا اور الیکشن کمیشن کے افسران پر قتل کا مقدمہ چلانے تک کی بات کہی۔

 

Ads