Jadid Khabar

حیدرآباد پہنچنے والے 13 بیرونی مسافرین کورونا پازیٹیو

  • 04 Dec 2021
Thumb

حیدرآباد,04 دسمبر  دنیا بھر میں خوف و دہشت پھیلانے والے اومی کرون وائرس کے خطرہ سے نمٹنے کیلئے تلنگانہ حکومت کی چوکسی کے دوران آج اُس وقت عہدیداروں میں ہلچل پیدا ہوگئی جب حیدرآباد انٹرنیشنل ایرپورٹ پر بیرونی ممالک سے آنے والے 13 افراد میں کورونا پازیٹیو پایا گیا۔ حکومت نے ساؤتھ افریقہ، کینیڈا، سنگا پور، بوتسوانا اور دیگر ممالک سے آنے والے مسافرین کیلئے ایرپورٹ پر آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کو لازمی قرار دیا ہے۔ کورونا کی خوراک لینے کا سرٹیفکٹ رکھنے کے باوجود بیرونی مسافرین کا ٹسٹ لازمی کردیا گیا تاکہ اومی کرون وائرس کا پتہ چلایا جاسکے۔ ایک ہی دن میں حیدرآباد آنے والے 13 مسافرین میں کورونا پازیٹیو پایا جانا حکام کے مطابق تشویش کا باعث ہے۔ بتایا جاتاہے کہ کل رات اور آج برطانیہ، کینیڈا، امریکہ اور سنگا پور سے آنے والے مسافرین کی جانچ میں 13 کورونا پازیٹیو پائے گئے۔ ان تمام کو گچی باؤلی کے تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس منتقل کیا گیا ہے۔ ان مسافرین کے خون کے نمونے حاصل کرتے ہوئے سی سی ایم بی روانہ کیا گیا۔ حکام اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ان مسافرین میں اومی کرون ویرینٹ کی کوئی علامات تو نہیں۔ بیشتر مسافرین کو کورونا نیگیٹیو رپورٹ کے باوجود احتیاطی طور پر ہوم آئسولیشن کا مشورہ دیا گیا ہے۔ بیرونی مسافرین کے جانچ کیلئے ایرپورٹ پر خصوصی مرکز قائم کیا گیا۔ اسی دوران کل برطانیہ سے آنے والی 36 سالہ خاتون کا علاج جاری ہے۔ بتایا جاتاہے کہ ابتداء میں اس خاتون کی رپورٹ منفی بتائی گئی تھی، تاہم بعد میں وہ پازیٹیو ثابت ہوئی۔ قطب اللہ پور سرکل گنیش نگر کے قریب واقع رٹز ٹاور سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کی چہارشنبہ کو لندن سے واپسی ہوئی تھی۔ ایرپورٹ پر ان کا کورونا ٹسٹ کیا گیا، پہلا نتیجہ نیگیٹیو رہا لہذا حکام نے انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی۔ کچھ دیر بعد رپورٹ کا جائزہ لیا گیا جس میں پتہ چلا کہ خاتون کی رپورٹ پازیٹیو ہے۔ کسی اور مسافر کی رپورٹ کی بنیاد پر غلطی سے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ حکام نے فوری چوکسی اختیار کرکے خاتون کو مکان سے ٹمس منتقل کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹمس پہنچنے کے بعد دوبارہ ٹسٹ کیا گیا جس میں نتیجہ پازیٹیو رہا۔ خاتون کے والدین کو ہوم کورونٹائن کا مشورہ دیا گیا۔ واضح رہے کہ بنگلور میں اومی کرون کے دو مریضوں کا پتہ چلا جس کے بعد سے تلنگانہ حکومت نے چوکسی کا فیصلہ کیا۔ کرناٹک سے تلنگانہ سے متصل تلنگانہ کی سرحد پر چوکسی اختیار کرلی گئی تاکہ تلنگانہ آنے والی گاڑیوں پر نظر رکھی جاسکے۔ اگر ملک میں اومی کرون کیسس میں اضافہ ہوتا ہے تو حکومت پڑوسی ریاستوں کی سرحدوں کی ناکہ بندی کرسکتی ہے۔

Ads