Jadid Khabar

80فیصد ایرانی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں:ایرانی عہدیدار

Thumb

تہران ،14مارچ ( اے یوایس ) ایران کی مجلس شوریٰ کے ایک رکن نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی غیر دانش مندانہ اقتصادی پالیسیوں کے باعث 80 فی صد عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسرکرنے پر مجبور ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق منگل کے روز ایرانی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے دوران ایرانی وزیر برائے لیبر، ٹرانسپورٹ وشاہرات علی ربیعی سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے کیا کررہیہیں۔ اس موقع پر کئی ارکان پارلیمان نے حکومت پر کمپنیوں کے مالکان کی مدد کرنے اور مزدوروں کونظرانداز کرنے کا الزام عاید کیا۔ اپوزیشن کے ایک سرکردہ رکن پارلیمان نے کہا کہ ملک میں غربت کی شرح میں 30 فی صد اضافہ ہوچکا ہے جب کہ ایک دوسرے رکن نے بلند آواز میں کہا کہ حکومتی عدم توجہی کے نتیجے میں اس وقت 80 فی صد شہری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔اس موقع پر ایرانی صدر حسن روحانی حسب معمول موجود نہیں تھے۔ایرانی رکن پارلیمان محمد قسیم عثمانی نے وزیر لیبر پرالزام عاید کیا کہ وہ سوشل سیکیورٹی فنڈز کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ لیبر کے وزیر نہیں بلکہ کمپنیوں کے مالکان کے وزیر بن چکے ہیں۔عثمانی نے مزید کہا کہ ملک میں گریجویٹ اور ایم اے پاس نوجوان انتہائی معمولی اجرت پر کام کرنیپر مجبور ہیں۔ انہیں معقول روزگارمیسر نہیں۔ اگر کوئی اپنی اس حالت پر احتجاج کرتا ہے تو اسے نوکری ہی سے نکال دیا جاتا ہے۔’اورامانات‘ شہر سے رکن پارلیمنٹ شھاب نادری نے کہا کہ حکومت غربت کے سونامی کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حکومتی وزرائ￿  صرف اپنے معاشی حالت کی بہتری کے لیے کام کررہے ہیں۔ انہیں عوام کے معاشی مسائل اور مشکلات کا کوئی اندازہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں 80 فی صد شہری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنیپر مجبور ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں شہری بے روزگار ہیں اور کروڑوں کی ماہانہ آمدن 155 ڈالر سے زیادہ نہیں۔رکن پارلیمان ابو الفضل حسن بیجی نے کہا کہ وزارت لیبر کے پاس ایک ارب پچاس کروڑ ڈالر کا بجٹ موجود ہے مگر حکومت ریٹائرڈ ملازمین کو ان کی اجرت دینے میں بھی ناکام رہی ہے۔

Ads