Jadid Khabar

تریپورہ میں جاری تشدد معاملہ میں وزیر اعظم مداخلت کریں: یچوری

Thumb

اگرتلہ، 10 مارچ (یواین آئی) مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد سے ہی جاری تشدد کے لئے بی جے پی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وزیرا عظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ سی پی ایم کے بے قصور کارکنان کے ساتھ زیادتی اور پارٹی دفتروں کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کے لئے مداخلت کریں۔مسٹر یچوری ریاست کے مختلف علاقوں میں تشدد کا جائزہ لینے کے لئے کل رات یہاں پہنچے ۔ انہوں نے مغربی تریپورہ کے جرنیا اور موہن پور کے کچھ علاقوں کا دورہ کرکے حالات کا جائزہ لیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آئی پی ایف ٹی کے ذریعہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد 200 سے زیادہ پارٹی دفتروں کو نذر آتش کیا گیا اور 3000 سے زیادہ کارکنان پر حملے کئے گئے ۔سی پی ایم کے کئی لیڈر دھمکیوں کی وجہ سے گھر چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔سی پی ایم جنرل سکریٹری نے کہا کہ مسٹر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ وزیراعلی کی حلف برداری تقریب میں شامل ہونے آئے لیکن یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کسی نے بھی انتخابات کے بعد برپا ہوئے تشدد کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی کھلی چھوٹ کی وجہ سے ریاست کا ایک بڑا حصہ بھگوا دہشت گردی کے سایہ میں زندگی گزار رہا ہے ۔عوام نے بہتر حکومت اور ترقی کے لئے بی جے پی اور آئی پی ایف ٹی کو ووٹ دئے ہیں لیکن گزشتہ ہفتہ سے ہی دونوں پارٹیوں نے اپنا مکروہ چہرہ دکھانا شروع کردیا۔قابل ذکر ہے کہ بی جے پی اور اس کی حلیف پارٹی نے تریپورہ میں سی پی ایم کے 25 سالہ پرانے قلعہ کو ڈھا کر نئی حکومت کی تشکیل کی ہے ۔ 60 نشستوں والی اسمبلی میں بی جے پی کو 35 اور سی پی ایم کو 16 سیٹیں ملیں ہیں جبکہ کانگریس کو ایک بھی سیٹ حاصل نہیں ہوسکی ہے ۔اسی دوران سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری بجن دھر نے الزام لگایا کہ مسٹر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے وزیر اعلی بپلب دیو کی تقریب حلف برداری سے واپس جانے کے بعد کل رات وشال گڑھ، جرنیا اور امر پور میں مبینہ طور پر بی جے پی کارکنان نے سی پی ایم کے حامیوں اور کئی کارکنان اور لیڈران پر حملہ کیا اور پارٹی کے دفتروں کو نذر آتش کردیا۔

Ads