Jadid Khabar

پاکستان: بنيادی ڈھانچے کی تعمير نو کے ليے جرمن امداد ميں اضافہ

Thumb

جرمن وفاقی وزیر برائے ترقياتی امور سوینيا شلسے نے ستمبر کے آغاز میں سيلاب سے متاثرہ پاکستان ميں بحالی کے کاموں کے ليے تيرہ ملین یورو کا اعلان کيا تھا۔ بعد ازاں اس مالی امداد میں چھبيس ملین یورو کے اضافے کا اعلان کر ديا گیا۔
شلسے نے اس بارے ميں ايک تفصيلی بيان جاری کيا، جس میں ان کا کہنا تھا، ''ماحولياتی بحران انتہائی غیر منصفانہ ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کم کام کیا، تاہم اب وہ ان کے اثرات سے نمٹنے میں سب سے آگے ہے۔ اس سلسلے ميں عالمی برادری کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
پاکستان کو يکے بعد ديگرے موسمياتی بحرانوں کا سامنا ہے۔ حاليہ سیلاب نے گزشتہ چند برسوں ميں ہونے والی ترقی کی بہت کم وقت میں نفی کر دی اور اس وقت ملک کو سنگین طویل المدتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستان اس قدرتی آفت سے قبل ہی اقتصادی اور مالیاتی بحران کا شکار تھا۔ ہم اس مشکل وقت ميں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں تاکہ پائیدار تعمیر نو ممکن ہو سکے اور وہاں کے لوگ مستقبل میں موسمیاتی تباہيوں اور شدید موسمی حالات و واقعات سے بہتر طور پر نمٹ سکيں۔‘‘
BMZ کے نئے فنڈز بنیادی طور پر ان کمیونٹیز میں انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کے لیے استعمال کیے جائیں گے جو خاص طور پر سیلاب سے متاثر ہوئے تھے۔ تعمیر نو کے منصوبوں سے سیلاب سے بے گھر ہونے والے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ سیلاب سے متاثر ہونے والے تقریباً 140,000 لوگوں کے لیے موسمیاتی خطرے کی انشورنس بڑھانے کے لیے موجودہ BMZ پائلٹ پروجیکٹس سے براہ راست امداد بھی ملے گی۔
اس کا اطلاق، مثال کے طور پر، چھوٹے کسانوں پر ہوتا ہے جن کی فصلیں یا مویشی سیلاب میں بہہ گئے اور اب انہیں دوبارہ اپنی زندگی شروع کرنے کے لیے فوری طور پر رقم کی ضرورت ہے۔ BMZ ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ موسمیاتی نقصان کے خلاف مالیاتی تحفظ کے ان نظاموں کو وسیع اور زیادہ منظم کیا جا سکے۔ موسمیاتی خطرات کے خلاف ایک ممکنہ حفاظتی ڈھال اگلی عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں شروع ہو گی۔
جون کے وسط سے پاکستان شدید بارشوں کی زد ميں رہا اور ملک کے بيشتر حصوں ميں ريکارڈ بارشيں ہوئیں۔ ايک وقت يہ بھی کہا جا رہا تھا کہ پاکستان کا ايک تہائی حصہ زير آب ہے۔ نتيجتاً ملک ميں بدترین سیلاب آئے اور وسيع تر تباہی ہوئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مانسون کی شديد بارشوں اور سیلاب سے تينتيس ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں تقريباً چونتيس لاکھ بچے بھی شامل ہيں۔
کئی علاقوں ميں پوری پوری آباديوں نے اپنا ذريعہ معاش کھو ديا۔ علاوہ ازيں پانی کی وجہ سے زرعی زمین بھی تباہ ہوئی اور مویشی بھی ہلاک ہو گئے۔ ملک کو ہونے والے مجموعی معاشی نقصان کا تخمینہ 30 بلین امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹيرش نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس تاریخی بحران سے نمٹنے ميں پاکستان کو تنہا نہ چھوڑيں۔

 

Ads