Jadid Khabar

غیر مقامی افراد کو ووٹ ڈالنے کا حق دینا جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل: محبوبہ مفتی

Thumb

سری نگر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر چیف الیکٹورل افسر کی طرف سے 25 لاکھ غیر مقامی ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کا حق دینا یہاں کی انتخابی جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اس سلسلے میں جموں و کشمیر کے سب سے سنیئر سیاسی لیڈر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے بات کرکے کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ مستقبل کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی جو کچھ کر رہی ہے وہ ملک کے مفادات کے بجائے اپنے سیاسی مفادات کیے حصول کے لئے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2024 کے انتخابات کے بعد ملک کے آئین کو بھی ہٹائے گی اور ترنگے کے بجائے بھگوا جھنڈا لہرائے گی۔
موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں اپنی گپکار رہائش گاہ پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرنے کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا: ’چیف الیکٹورل افسر نے جو فرمان جاری کیا اور پچیس لاکھ غیر مقامی ووٹروں کے اندراج کا اعلان کیا وہ یہاں کی انتخابی جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ہے‘۔ ان کا کہنا تھا: ’میں ملک کے لوگوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ جمہوری نظام کو مسخ کیا جا رہا ہے جموں وکشمیر جو ایک مسلم اکثریتی ریاست تھی نے ایک جمہوری اور سیکولر ملک کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا‘۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ملک میں انتخابات سے پہلے اور انتخابات کے بعد دھاندلیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ملک کو ہندو راشٹرا نہیں بلکہ بی جے پی راشٹرا بنانا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’جموں وکشمیر میں سال1987 کے انتخابات میں دھاندلیوں کے بعد امن پسند لوگوں نے بندوق اٹھائے جس خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں‘۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی نے جموں و کشمیر کو ایک تجربہ گاہ بنایا ہے جو تجربہ یہاں کیا جاتا ہے اس کو بعد میں ملک میں آزمایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا: ’بی جے پی غیر مقامی ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کا حق دے کر یہاں کے انتخابات میں دھاندلی کرنا چاہتی ہے کیونکہ وہ سمجھ چکے ہیں کہ تین برسوں تک یہاں راست حکومت کرکے وہ لوگوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام ہوئے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا: ’یہ صورتحال مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ باقی کمیونیٹیوں جیسے ڈوگرہ، پہاڑی وغیرہ کے لئے بھی ٹھیک نہیں ہے‘۔پی ڈی پی صدر نے کہا کہ بی جے پی ایک طرف کشمیری پنڈتوں کی باز آباد کاری کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے جبکہ دوسری طرف انہیں ووٹ ڈالنے کے لئے سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے وہ اب ووٹ نہیں ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے لوگوں کو بی جے پی کے ارادوں کو سمجھنا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا: ’بی جے پی سال2024 کے انتخابات کے بعد ملک کے آئین کو بھی ہٹائے گی اور ترنگے کی جگہ بھگوا جھنڈے کو لہرائے گی اور ملک ہندو را شٹرا نہیں بلکہ بی جے پی راشٹرا بن جائے گا‘۔ انہوں نے کہا:’ ڈی راڈیکلائزیشن پر بے تحاشا پیسہ خرچ کرنے کے باوجود ایسے فیصلے لئے جاتے ہیں جن سے نوجوانوں میں بنیاد پرستی کا عنصر مضبوط ہوجاتا ہے‘۔
موصوفہ نے کہا کہ حکومت جموں وکشمیر میں زمینی صورتحال کو بدلنے میں ناکام ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو جموں و کشمیر پر تازہ حملہ ہوا ہے ہم سب پارٹیوں کو اس کے خلاف متحد ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا: ’میں نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ صاحب سے بات کی اور ان سے اس سلسلے میں کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کی گذارش کی تاکہ مستقبل کا لائحہ عمل بنایا جاسکے‘۔
انہوں نے کہا کہ یہ ان پارٹیوں کے لئے ایک سبق ہے جو الیکشن کرانے کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا: ’یہ سوال قانونی حیثیت کا نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے کار فرما بی جے پی کے ارادوں کا ہے حکومت کسی قانون کو نہیں مانتی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا: ‘جو ہمارے بھائی پندٹ، پولیس اہلکار، سیکورٹی فورسز مارے جاتے ہیں بی جے پی ان کے خون کے ایک ایک بوند کی قیمت ملک کے لوگوں سے وصول کرتی ہے‘۔

 

Ads