Jadid Khabar

نسل پرستی کے خلاف زیادہ سے زیادہ کھلاڑی آواز اٹھائیں: مائیکل ہولڈنگ

Thumb

لندن: ویسٹ انڈیز کے عظیم تیز گیندباز مائیکل ہولڈنگ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کھلاڑی آگے بڑھیں اور نسل پرستی کے خلاف بولیں کیونکہ ان کے پاس ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ یہ بات انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہی۔
ہولڈنگ نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ معزز شخصیات نسل پرستی کے خلاف پیغام کے لیے اپنے سیلبرٹی اسٹیٹس کا استعمال کریں۔ ہولڈنگ نے پوچھا ’’اگروہ لوگ جن لوگوں کے پاس ایک پلیٹ فارم ہے اور جو لوگوں تک پہنچنے کے قابل ہیں، اگر وہ کچھ نہیں کہتے تو کون کرے گا؟ ایسے کھلاڑی ہیں جو پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ اگر وہ اٹھ کر کچھ کہتے ہیں، تو دنیا بھر کے لوگ سننا چاہیں گے کہ انہیں کیا کہنا ہے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیں گے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ایک پلیٹ فارم والے لوگ، ایک نام کے حامل لوگ، دنیا بھر میں پہچانے جانے والے لوگوں کو ان چیزوں کے بارے میں بولنے کی ضرورت ہے جو انہیں متاثرکرتی ہیں اوردنیا کو متاثرکرتی ہیں۔‘‘
امریکہ میں مئی 2020 میں جارج فلائیڈ کی موت کے بعد سے سماج میں تبدیلی لانے کے لئے ہولڈنگ نے اس موضوع پر مسلسل بات کی ہے۔ فلائیڈ کی موت کی وجہ سے ’بلیک لائیوز میٹر‘ موومنٹ عالمی ہوگیا تھا۔ ہولڈنگ نے ایک کتاب ’’وہائی وی نی، ہاؤ وی رائز‘‘ شائع کی ہے جس میں کھیل میں نسل پرستی کے بارے میں بتایا گیا ہےاور اس میں کئی ہائی پروفائل سیاہ فام ایتھلیٹس کا تعاون ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو کھیل کے معاملات میں اپنی رائے کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا "جب وہ میدان یا باسکٹ بال کورٹ چھوڑتے ہیں، تو انہیں معمول کی زندگی گزارنے کے لیے واپس معاشرے میں جانا پڑتا ہے۔ اگر وہ معاشرے سے متاثر ہوتے ہیں، توانہیں بولناپڑتا ہے اوراپنے پلیٹ فارم کا استعمال کرناپڑتاہے۔

Ads