Jadid Khabar

مرکزی حکومت نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر عائد کی پابندی، ’ٹیرر لنک‘ کا الزام

Thumb

نئی دہلی: دو مراحل کی ملک گیر چھاپہ ماری اور 240 سے زیادہ افراد کی گرفتاری کے بعد مرکز نے گزشتہ شام پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) پر 5 سال کے لیے پابندی عائد کر دی۔ایک سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پی ایف آئی اور اس سے وابستہ تنظیموں یا محاذوں کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت فوری طور پر ’کالعدم تنظیمیں‘ قرار دیا گیا ہے۔
حکومت نے پی ایف آئی پر اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی)، جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی) اور اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا (آئی ایس آئی ایس) کے ساتھ روابط کا حوالہ دیتے ہوئے پابندی عائد کی ہے۔ آل انڈیا امام کونسل سمیت 8 دیگر تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پی ایف آئی اور اس سے وابستہ ادارے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو کہ ’ملک کی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں‘ اور ان مین نظم و نسق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی صلاحیت ہے۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ایف آئی اور اس سے وابستہ ادارے سماجی، اقتصادی، تعلیمی اور سیاسی تنظیم کے طور پر کام کرتے ہیں لیکن وہ معاشرے کے ایک خاص طبقے کو بنیاد پرست بنانے کے خفیہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔
خیال رہے کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کی تشکیل 17 فروری 2007 کو جنوبی ہندوستان میں تین مسلم تنظیموں کے انضمام سے ہوئی تھی۔ پی ایف آئی کا دعویٰ ہے کہ وہ 23 ریاستوں میں سرگرم ہے۔ سیمی پر پابندی کے بعد، پی ایف آئی کا جنوبی ہندوستان کی ریاستوں کرناٹک اور کیرالہ میں تیزی سے پھیلاؤ ہوا۔
کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کے نام: پاپولر فرنڈ آف انڈیا (پی ایف آئی)، آل انڈیا امامز کونسل (اے آئی آئی سی)، نیشنل کنفیڈریشن آف ہیومن رائٹز آرگینائیزیشن (این سی ایچ آر او)، نیشنل ویمنز فرنٹ، جونئر فرنت، ایمپاؤر انڈیا فاؤنڈیشن اینڈ ریہاب فاؤنڈیشن کیرالہ:

 

Ads