Jadid Khabar

’’اگر حکومت 5 سال چل سکتی ہے تو کسان تحریک کیوں نہیں‘‘

Thumb

کسان تحریک کے 50ویں دن غازی پور بارڈر پر بھارتیہ کسان یونین کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت نے ایک بار پھر زرعی قوانین واپس نہ لیے جانے کی صورت میں مظاہرہ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب حکومت پانچ سال چل سکتی ہے تو کسان تحریک کیوں نہیں۔‘‘ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’یوم جمہوریہ کے موقع پر ہونے والے پروگرام کے لیے ترنگے آنے بھی شروع ہو گئے ہے۔‘‘دراصل سنیوکت کسان مورچہ کی قیادت میں کسان تنظیموں نے یوم جمہوریہ (26 جنوری) کے موقع پر ملک بھر میں کسان پریڈ نکالنے اور کسان تحریک کو تیز کرنے کے لیے قبل میں اعلان کیے گئے سبھی پروگراموں کو جاری رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔ ان تیاریوں کے تعلق سے راکیش ٹکیت نے کہا کہ ’’26 جنوری کو لے کر ہماری تیاریاں پوری ہیں۔ ہم ایک میٹنگ کر کے دیکھیں گے کہ دہلی میں کہاں پریڈ کر سکتے ہیں۔ 26 جنوری کو لے کر ہمارے پاس ترنگے بھی آنے شروع ہو گئے ہیں۔‘‘جب راکیش ٹکیت کے سامنے یہ سوال رکھا گیا کہ آخر وہ یہ مظاہرہ کب تک کریں گے؟ اس کے جواب میں ٹکیت نے کہا کہ ’’جب حکومت 5 سال چل سکتی ہے تو تحریک کیوں نہیں چل سکتی۔ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن کمیٹی سے خوش نہیں ہیں۔ جب تک حکومت نئے زرعی قوانین کو واپس نہیں لے گی تب تک ہمارا مظاہرہ جاری رہے گا۔‘‘واضح رہے کہ دہلی کی سرحدوں پر واقع مظاہرے کی جگہ یعنی سنگھو بارڈر، ٹیکری بارڈر اور غازی پور بارڈر وغیرہ پر سنیوکت کسان مورچہ کے بینر تلے ملک کی تقریباً 40 کسان تنظیموں کے لیڈران کی قیادت میں کسانوں کا مظاہرہ 50ویں دن جاری ہے۔ حکومت کے ساتھ کسان لیڈروں کی اس معاملے پر کئی دور کی میٹنگیں ہو چکی ہیں جو کہ بے نتیجہ ہی ثابت ہوئی ہیں۔ سپریم کورٹ نے نئے زرعی قوانین اور کسانوں کی تحریک کو لے کر داخل مختلف عرضیوں پر سماعت کے بعد ان قوانین کے عمل پر روک لگا دی ہے اور عدالت عظمیٰ نے مسئلہ کا حل نکالنے کے لیے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں چار اراکین شامل ہیں۔ لیکن مظاہرین کسان تنظیموں نے سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل کمیٹی کے سامنے جانے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں شامل سبھی اراکین نئے قوانین کے پیروکار رہے ہیں۔

Ads