Jadid Khabar

ترنمول کانگریس سے زیادہ بی جے پی سب سے بڑی سیاسی دشمن ہے :دیپانکر بھٹا چاریہ

Thumb


کلکتہ 21نومبر(یو این آئی)اس تمہید کے ساتھ کہ ‘بی جے پی کی شناخت سیاسی دشمن نمبر ایک کے طور’ پر ہونی چاہیے ، سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ نے آج کہا ہے کہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی کو ایک ہی نظر سے دیکھنے کے بجائے بائیں بازو کو اور کانگریس کو بھی سب سے پہلے مغربی بنگال میں ‘‘بڑے خطرہ’’ سے نمٹنا چاہئے ۔سی پی آئی ایم ایل کے سربراہ دیپانکر بھٹا چاریہ نے کہا کہ سی پی آئی (ایم) کے پاس مغربی بنگال میںتقسیم پسند طاقت کا مقابلہ کرنے کی اس وقت بھر پور صلاحیت نہیں تاہم ان دونوں کے درمیان اتحاد میں کانگریس کو ڈرائیور کی نشست پر نہ رہنے دیا جائے کیوں کہ ڈرائیوروالی سیٹ پر کانگریس کے ہونے کی وجہ سے بائیں بازو کی جماعت کو زیادہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔دیپابنکر بھٹاچاریہ نے کہا کہ اس وقت بی جے پی ملک کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے ۔ تمام جمہوری اور سیکولر قوتیں اگلے سال اپریل سے مئی میں ہونے والے مغربی بنگال انتخابات کے دوران بی جے پی سے بنیادی سیاسی دشمن کے طور پر پیش آئیں۔ بہار کے برعکس ، جہاں ریاست اور مرکز دونوں میں اب ایک ہی حکومت ہے ، مغربی بنگال کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کا ٹریک ریکارڈ بہت اچھا نہیں ہے ، اور ہمیں بھی اس کی مخالفت کرنا ہوگی۔بھٹا چاریہ نے کہا کہ بہر حال میں واضح طور پر یہ کہوں گا کہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی کو ایک ہی بریکٹ میں نہیں رکھا جاسکتا۔ بی جے پی کی شناخت مغربی بنگال میں اصل سیاسی دشمن کی حیثیت سے کی جانی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت بائیں بازو اور پوری جمہوری اتحاد کے لئے ایک بڑا خطرہ ہوگی اورہندوستان میں ایسی کوئی جماعت نہیں ہے ، جو بی جے پی سے زیادہ خطرناک ہے ۔ ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ میں کبھی بھی اس قدر تاریک ترین دن نہیں آیا ہے ۔ماضی کے سی پی آئی (ایم) کانگریس اتحاد کو غلط حکمت عملی بتاتے ہوئے انوں نے کہا کہ نتائج نے اسے ثابت بھی کر دیا تھا جس میں کانگریس کو زیادہ فائدہ ہوا۔ سی پی آئی (ایم) خود اپنی پکڑ مضبوط کرنی چاہیے ۔بی جے پی مغربی بنگال میں بائیں بازو کے قیمت پر بڑھ رہی ہے ۔

 

Ads