Jadid Khabar

مقامی خبر رساں اداروں کو ہراساں کرنا حکومت کی آزاد پریس کو دبانے کی کوشش:محبوبہ مفتی

Thumb


سری نگر، 17 اکتوبر (یو این آئی) پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک مقامی خبر رساں ادارے کے دفتر کو سیل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی خبر رساں اداروں کو ہراساں کرنا حکومت کی طرف سے کشمیر میں آزاد پریس کو دبانے کی ایک کوشش ہے ۔انہوں نے مقامی خبر رساں ادارے کشمیر نیوز سروس کے ایک ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا: کے این ایس کشمیر جیسے مقامی خبر رساں اداروں کو حکومت کے سامنے سچ بولنے کے پاداش میں ہراساں کرنا جموں و کشمیر حکومت کی کشمیر میں آزاد پریس کو دبانے کی ایک کوشش ہے ۔ یہ قابل مذمت ہے '۔کے این ایس نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا: 'حکام نے مگرمل باغ سری نگر میں واقع کے این ایس کے دفتر کو مقفل کر دیا ہے '۔قابل ذکر ہے کہ محکمہ اسٹیٹ نے مگرمل باغ سری نگر میں واقع سرکاری کوارٹروں میں مقامی خبر رساں ادارے 'کشمیر نیوز سروس' کے دفتر کو 15 اکتوبر کو مقفل کر دیا۔ادارے کے ایک ملازم کا کہنا تھا کہ متعلقہ محکمہ کے عہدیدار دفتر میں گھس آئے اور عملے کو بسترہ گول کر کے فوری طور دفتر خالی کرنے کی ہدایات دیں۔جموں و کشمیر کی تقریباً تمام علاقائی سیاسی جماعتوں نے محکمہ اسٹیٹ کی اس کارروائی کی مذمت کی ہے ۔نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان کہا کہ پہلے روزنامہ کشمیر ٹائمز کی مدیر اعلیٰ انوراھا بسین اور اب خبر رساں ایجنسی کے این ایس کو الاٹ سرکاری کوارٹروں سے جبری طور نکالنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکمران کشمیر میں ایک منظم طریقہ کار کے ذریعے آزاد صحافت کا گھلا گھونٹ رہی ہے ۔این سی ترجمان نے کہا کہ ایسے اقدامات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے پہلے ہی یہاں کے صحافیوں کا قافیہ حیات تنگ کر رکھا تھا اور اس کے بعد میڈیا کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کے لئے نئی میڈیا پالیسی مرتب کی گئی اور اب غنڈہ گردی کے ذریعے ذرائع ابلاغ کو خاموش کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے ۔

 

Ads