Jadid Khabar

ایرانی قیادت کا ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے کا کلچر خطرناک:سلیمانی

Thumb

تہران ،13فروری (ایجنسی ) حال ہی میں ایران میں ’ولایت فقیہ‘ کے انقلاب کی 39 ویں سالگرہ پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی قیادت نے ملک میں حالیہ ہفتوں کے دوران جاری رہنے والے پرتشدد عوامی مظاہروں پر ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے پر سخت نکتہ چینی کی گئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاسداران انقلاب کے بیرون ملک ایجنٹ اور القدس ملیشیا کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے خبردار کیا کہ ایرانی قیادت ایک دوسرے کی بگڑیاں اچھالنے کی پالیسی سے باز آئے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور ایرانی قیادت کا مظاہروں میں ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرانے کے طرز عمل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب کے دستر خوان پر موجود بعض لوگ کھلے عام سپریم لیڈر کو برا بھلا کہنے لگے ہیں اور ملک میں ہونے والے مظاہروں کا الزام ایرانی حکمران قیادت پرعاید کرتے ہیں۔ ان کا اشارہ ایرانی صدر حسن روحانی، سابق صدر محمود احمدی نڑاد اور اصلاح پسند حلقوں کی طرف تھا جو متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کیپیچھے بیرونی ہاتھ سے زیادہ ایرانی حکومت کی اپنی پالیسیاں ہیں۔جنرل قاسم سلیمانی نے کہا کہ ایرانی قیادت کو ایک دوسرے پر دشنام طرازی کے بجائے اس مشترکہ بیرونی دشمن کے خلاف متحد ہونا چاہیے جو ایران کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتا۔ یہ دشمن کبھی عوام کو حکومت کے خلاف اکساتا ہے اور کبھی عالمی سطح پر ایران کے خلاف سازشیں کرتا ہے۔سلیمانی نے اشارہ تا تنقید کرنے والی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ ولی الفقیہ سے معافی مانگیں تاکہ متکبر اور بدمعاش طاقتوں کو یہ پیغام جائے کہ ایرانی قیادت میں داخلہ اور خارجہ پالیسیوں میں کوئی اختلاف نہیں۔خیال رہے کہ ایران میں حالیہ ہفتوں کیدوران اٹھنے والی احتجاجی تحریک نے تہران کے حکومتی نظام کو ہلا کررکھ دیا ہے۔ اس میں نہ صرف عوام کی طرف سے شدید احتجاج کا اہم کردار ہے بلکہ ایرانی قیادت بھی منقسم ہونے کے بعد ایک دوسرے کے خلاف ہوگئی ہے۔ ایران کے ایک اصلاح پسند رہ نما ابو الفضل قدیانی نے سپریم لیڈر ’ظالم‘ قرار دیا اور کہا کہ ملک میں فسادات اور سانحات کی جڑ سپریم لیڈر اور ان کی پالیسیاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چار عشروں سے ایران پر ولایت فقیہ کا مطلق العنان نظام رائج ہے اور عوام سے ان کے حقوق چھین لیے گئے ہیں۔

Ads