Jadid Khabar

پاکستان میں پہلی ہندو خاتون ممبرپارلیمنٹ نامزد

Thumb

نئی دہلی، 13 فروری (ایجنسی)پاکستان کی چھوٹی اقلیتی ہندوکمیونٹی سے پہلی خاتون ممبرپارلیمنٹ بننے کے لئے نامزد کی گئی ہے۔ آئندہ سینٹ انتخابات کے لئے ملک کی اپوزیشن پارٹی نے ہندو خاتون کو امیدوار بنایا ہے۔ سندھ صوبے کے صوبائی حکومت میں ترجمان ناصر شاہ کے مطابق اپوزیشن پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے قانون سازوں کو پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے لئے تین مارچ کو ہونے والے انتخابات میں کرشناکماری کو ووٹ کرنے کیلئے کہا ہے۔ 1947 کے بعد پاکستان میں کماری پہلی ہندوخاتون ممبرپارلیمنٹ ہوں گی جب پاکستان نے برطانیہ سے آزادی سے حاصل کی تھی۔ پاکستانی جماعتیں سینیٹ کے لئے عام طور پر دولت مند یااثرورسوخ والے لوگوں کو ہی نامزد کرتے ہیںوہیںکماری اس خبر سے بہت ہی خوش ہیں۔ان کاکنبہ بہت ہی غریب ہے ۔ انہوں نے کہاکہ انہوں نے ممبرپارلیمنٹ بننے کی کبھی خوابوں میں بھی جرأت نہیں کی تھی۔ انہوں نے مزید کہاکہ میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی پارٹی کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ میں مظلوم لوگوں کے حقوق کیلئے لڑائی لڑوں گی۔کماری نے مزید کہا کہ سندھی صوبے میں ناگارپرکارگاؤں میں اپنے بچپن کے دوران غلاموں جیسی صورتحال کا سامنا کرناپڑا جہاں ایک جاگیردار مالک کے کھیت میں کام کرتی تھیں ۔ سینٹ میں سیٹ جیتنے کے بعد وہ پاکستان میں طاقتور زمین مالکان کے بگل میں بیٹھیں گی۔ کنبے کی غربت کے باوجود ان کے والدین نے ان کی تعلیم کیلئے حوصلہ افزائی کی اور انہوں نے یونیورسٹی میں ڈگری حاصل کی۔ کماری ایک سماجی کارکن کے طور پر کام کرتی ہیںاور لوگوں کے درمیان بیداری پھیلنے کے لئے چیرٹی کی مانگ کرتی ہیں۔

Ads