Jadid Khabar

ی آر پی ایف جوان مجاہدخاں کی شہادت پرنتیش کمار کا اظہاررنج غم

Thumb

پٹنہ، 13 فروری (یواین آئی) بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے جموں کشمیر کے سرینگر میں دہشت گردوں کے ساتھ تصادم میں مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے جوان مجاہد خان کی شہادت پر آج گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔مسٹر کمار نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ سری نگر کے کرن نگر میں دہشت گردوں کے ساتھ مڈبھیڑ میں بھوجپور ضلع کے پیرو کے رہنے والے اور سی آر پی ایف کی 49 ویں بٹالین کے جوان مجاہد خان کی شہادت پر انہیں گہرا دکھ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شہادت کو ملک ہمیشہ یاد رکھے گا۔وزیر اعلی نے بہادر بیٹے کی شہادت پر ان کے اہل خانہ کو دکھ کی اس گھڑی میں صبر و استقامت کی طاقت دینے کی ایشور سے دعا کی ۔ انہوں نے کہا ہے کہ پورا بہار شہید کے خاندان کے ساتھ ہے ۔ مسٹر کمار نے کہا ہے کہ شہید جوان کے وارث کو ریاستی حکومت کی جانب سے پولیس اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائے گا،اور ان کے خاندان کی مالی امداد بھی دی جائے گی۔  قابل ذکر ہے کہ پیر کی صبح سری نگر کے کرن نگر میں دہشت گردوں نے حملہ کیاتھا۔ سنتری نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو فائرنگ شروع کر دی۔ مجاہد خاں نے بھی مورچہ سنبھال لیا۔ دہشت گرد ایک گھر کا سہارا لے کر فائرنگ کرنے لگے جس میں آمنے سامنے کی فائرنگ میں مجاہد خان شہید ہ

سری نگر تصادم لشکر طیبہ کے 2 جنگجوؤں کی ہلاکت پر ختم

سری نگر، 13 فروری (یو ا ین آئی) جموں وکشمیر کی گرمائی دارالحکومت سری نگر کے کرن نگر علاقہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) بٹالین ہیڈکوارٹر کے نذدیک ایک کمرشل بلڈنگ میں محصورجنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین قریب 30 گھنٹوں تک جاری رہنے والا مسلح تصادم لشکر طیبہ کے دو جنگجوؤں کی ہلاکت پر ختم ہوگیا ہے ۔ اس مسلح تصادم میں پیر کے روز ایک سی آر پی ایف کانسٹیبل مجاہد خان ہلاک جبکہ ریاستی پولیس کا ایک کانسٹیبل زخمی ہوا۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا 'عمارت میں محصور دونوں جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیاہے ۔ عمارت کے اندر اور اس کے گردونواح میں کامبنگ آپریشن شروع کیا گیا ہے '۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے جنگجوؤں کو مار گرانے کے لئے یو بی جی ایلز اور مارٹروں کا استعمال کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا 'عمارت میں محصور جنگجو اپنی پوزیشنیں بار بار تبدیل کررہے تھے جس کی وجہ سے ان کو مار گرانے میں کچھ زیادہ وقت لگا'۔ انہوں نے بتایا کہ اس مسلح تصادم کے دوران شہریوں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایک رپورٹ کے مطابق جس زیر تعمیر کثیر منزلہ عمارت میں جنگجو محصور تھے ، کو یو بی جے ایلز اور مارٹروں سے شدید نقصان پہنچا ہے ۔ جنگجوؤں کی طرف سے یہ حملہ جموں میں سنجوان ملٹری اسٹیشن پر فدائین حملے کے دو دن بعدکیا گیا ۔ جنگجو تنظیم لشکر طیبہ نے پہلے ہی دعویٰ کیا تھا کہ عمارت میں محصور جنگجوؤں کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے ۔ انتظامیہ نے کسی بھی طرح کی افواہ بازی کو روکنے کے لئے پورے ضلع سری نگر میں تیز رفتار والی تھری جی اور فور جی موبائیل انٹرنیٹ خدمات پیر کے روز سے منقطع کر رکھی ہیں۔ مسلح تصادم کے مقام پر جنگجوؤں کی حمایت میں سامنے آنے والے احتجاجیوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی جانب سے پیر کو آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ایک سینئر سی آر پی ایف افسر نے بتایا کہ پیر کی علی الصبح چار بجکر 45 منٹ پر 23 بٹالین سی آر پی ایف کیمپ میں سنتری ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں نے جنگجوؤں کے ایک گروپ کو اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کیمپ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے کہا 'جب جنگجوؤں کو للکارا گیا تو وہ نذدیکی عمارت میں داخل ہوئے '۔ مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ سی آر پی ایف اور ریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ نے فوری طور پر علاقہ کو گھیرے میں لیکر جنگجوؤں کو اسی ایک عمارت تک محدود کرکے رکھ دیا۔ انہوں نے کہا 'سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ صبح کے ساڑھے نو بجے شروع ہوا، جو منگل کو دوپہر کے وقت تک جاری رہا'۔ سی آر پی ایف کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی فائرنگ میں 49 بٹالین سی آر پی ایف کانسٹیبل مجاہد خان شدید طور پر زخمی ہوا۔ انہوں نے بتایا 'وہ بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا'۔ریاستی پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ مسلح تصادم میں ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا ہے جس کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔ انہوں نے بتایا 'مسلح تصادم میں ریاستی پولیس کا اہلکار بھی زخمی ہوا۔ اس کا علاج ومعالجہ شروع کیا گیاہے '۔ مسلح تصادم کے پیش نظر کرن نگر اور میڈیکل کالج روڑ کو بدستور بند رکھا گیا ہے ۔ ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے سی آر پی ایف کو فدائین حملہ ناکام بنانے کے لئے مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا 'میں فدائین حملہ ناکام بنانے کے لئے سی آر پی ایف کے سنتریوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں'۔ یہ مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال سے پاکستانی جنگجو نوید جٹ کے فرار ہونے کے واقعہ کے بعد سری نگر میں پہلا مسلح تصادم تھا۔یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ مسلح تصادم کا مقام ایس ایم ایچ ایس اسپتال سے محض دو سو میٹر کی دوری پر واقع ہے ۔ 

Ads