Jadid Khabar

کشمیر کا فیصلہ 1947 میں ہوچکا ہے ، اس کو بدلا نہیں جاسکتا: فاروق عبداللہ

Thumb

جموں، 12 فروری (یو ا ین آئی) نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کا فیصلہ 1947 میں ہوچکا ہے اور اس کو بدلا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سمجھنا چاہیے کہ اسے جموں وکشمیر میں جنگجویانہ کاروائیاں انجام دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ فاروق عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار پیر کو یہاں پارٹی کی ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا 'ہمیں اس پر افسوس ہے کہ ریاست میں جنگجویانہ کاروائیاں جاری ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا پڑوسی سمجھ لیں کہ اسے جنگجویت سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا بلکہ اس سے اور زیادہ نقصان ہوگا۔ یہاں بھی لوگ مریں گے اور وہاں بھی لوگ مریں گے ۔ انہیں جنگجویت سے باہر نکلنا پڑے گا۔ جموں وکشمیر کو جنگجویت سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا فیصلہ 1947 میں ہوچکا ہے اور اس کو بدلا نہیں جاسکتا ۔ اگر وہ درانداز بھیج کر سمجھتا ہے کہ فیصلے کو بدلا جاسکتا ہے تو وہ غلط ہے '۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگرحملوں کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو حکومت ہندوستان کو اگلا اقدام اٹھانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا 'بہت ضروری ہے کہ وہ (پاکستان) ، وہ راستے اختیار کریں جس کے ذریعے مسائل کو حل کیا جاسکے ۔ جنگجویت جتنی بڑے گی، اتنی مصیبت آئے گی۔ ان کے ملک میں زیادہ ہی مصیبت آئے گی اور وہاں کچھ بھی نہیں بچے گا۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ بہت خون بہہ گیا ہے ۔ اب مزید خون بہانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اگر یہی صورتحال رہی تو پھر ہندوستان کی حکومت کو بھی سوچنا پڑے گا کہ ان کا اگلا قدم کیا ہوگا'۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا 'یہ حملے بند نہیں ہوں گے ۔ وہ بند کرنے والے نہیں ہیں۔ وطن کو بھی سوچنا چاہیے کہ اگلا قدم کیا ہوگا'۔ 

Ads