Jadid Khabar

پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں واجپئی کی آئل پینٹنگ لگی

Thumb

نئی دہلی، 12فروری (یو این آئی) صدر رامناتھ کووند نے پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں منگل کو سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی تیل کی پینٹنگ کی نقاب کشائی کی او ر انہیں ہندستانی سیاست کے عظیم لوگوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہاکہ انہوں نے اقتدار حاصل کرنے اور بچانے کے لئے جمہوریت کے اصولوں اور نظریات سے سمجھوتہ نہیں کیا۔پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں منعقدہ ایک مختصر تقریب سے نائب صدر اور راجیہ سبھا کے چیرمین ایم ونکیا نائیڈو، وزیراعظم نریندر مودی، لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد اور پارلیمانی امور کے وزیر رنریندر سنگھ تومر نے بھی خطاب کیا۔صدر نے مسٹر واجپئی کی تیل کی پینٹنگ بنانے والے پینٹر کشن کنہائی کو انگوچھا پہناکر اعزاز سے نوازا۔ یہ آئل پینٹنگ ‘لوک ابھیان’ ادارہ نے تیار کرائی ہے ۔ اس موقع پر مرکزی وزرا اور کئی معزز ہستیاں موجود تھیں۔اس موقع پر مسٹر واجپئی کے کنبہ کے اراکین محترمہ نمیتا بھٹاچاریہ، مسٹر رنجن بھٹاچاریہ، محترمہ نہاریکا بھٹاچاریہ اور رکن پارلیمان انو پ مشرا بھی اگلی صف میں بیٹھے تھے ۔صدر نے اپنے مختصر خطاب میں کہاکہ ہندستانی سیاست کے عظیم لوگوں میں اٹل جی کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ سیاست میں جیت اور شکست کو قبول کرنے میں جس سادگی اور وقار کا تعارف انہوں نے دیا ہے وہ مثالی ہے ۔ وہ مخالف حالات میں صبر کی مثال تھے ۔ وہ جتنے سنجیدہ تھے اتنے ہی مزاحیہ بھی۔ وہ نرم اور معاف کرنے والے بھی تھے ۔ انہوں نے کہاکہ مسٹر واجپئی معاصر سیاست کا اسکول تھے ۔ وہ مانتے تھے کہ اگر سیاستداں کی آستھا کویتا میں ہے تو اس کی سیاست میں انسانیت کا احساس ہوگا۔انہوں نے کہاکہ مسٹر واجپئی نے چیلنجنگ حالات میں فیصلہ کن قیادت فراہم کی۔ پوکھران میں 1998کا جوہری ٹیسٹ اور 1999کی کارگل جنگ، قومی مفاد میں ان کے مضبوطی کے ساتھ کئے گئے فیصلوں کی مثال ہیں۔ پوری دنیا میں ہندستان کو امن پسند طاقتور ملک کے طورپر مشہور کرنا مسٹر واجپئی کے کئی بیش قیمتی خدمات میں شامل ہے ۔مسٹر کووند نے مسٹر واجپئی کی مدت کار کی کئی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آنجہانی لیڈر نے جمہوریت کے اصولوں اور نظریات کو اقتدار حاصل کرنے یا بچانے کے لئے کبھی نہیں چھوڑا۔نائب صدر نے کہاکہ بھارت رتن سے نوازے گئے مسٹر واجپئی مخالف جماعت کو مقابلہ دینے والا مانتے تھے دشمن نہیں۔ ان کے جیسے دوراندیش لیڈر بہت کم ہوئے ہیں۔ وہ کنیکٹویٹی کو ترقی کی بنیاد مانتے تھے ۔ اپنی مدت کار میں انہوں نے اسی پر زور دیا تھا۔مسٹر نائیڈو نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سیاسی خیالات میں گراوٹ آرہی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کو سمجھنا چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مسٹر واجپئی عام زندگی میں کام کرنے والوں کے لئے جدید وقت کے عظیم رول ماڈل تھے ۔ انہوں نے سکھایا کہ دیگر لوگوں اور عوامی تائید کے تئیں کس طرح روادار رہنا چاہئے ۔اس موقع پر وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہاکہ مسٹر واجپئی پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں اس نئی شکل میں ہم سب کو آشیرواد اور ترغیب دیتے رہیں گے ۔ انہوں نے ذاتی مفاد کے لئے کبھی راستہ نہیں بدلا۔ وہ اصولوں اور خیالات سے سمجھوتہ کئے بغیر ہدف کی طرف بڑھتے رہے ۔انہوں نے کہاکہ مسٹر واجپئی میں حالات کو سمجھ کر انہیں اپنے اندر جذب کرنے کی طاقت تھی۔ وہ پوری زندگی جمہوریت کے لئے وقف رہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جمہوریت میں مخالف دشمن نہیں ہوتا ہے ۔ اس کی تنقید کرتے ہوئے بھی عزت اور احترام قائم رکھنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے سکھایا ہے کہ ہم مخالف کے سخت حملہ کرنے کے باوجود اسے احترام کی نظر سے دیکھیں۔لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے کہاکہ ایک سب کا پسندیدہ لیڈر کیسا ہوتا ہے اور کیسی سیاست کرنی چاہئے مسٹر واجپئی اس کی مثال ہیں۔ وہ سختی کے ساتھ فیصلے کرتے ہوئے بھی نہایت حساس رہے ۔ اپنی بات کو صاف طریقہ اور مضبوطی کے ساتھ رکھنے کے بعد وہ اکثریت کے ساتھ رہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیشہ خوش اخلاق، دل میں رحم رکھنے والے ، دلکش اور اچھا بولنے والے لیڈر کی طرح ملک اور سماج کے لئے جینے والے رہنما رہے مسٹر واجپئی سب کے لئے قابل عمل ہیں۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر نے مسٹر واجپئی کو عظیم مجاہد قرار دیتے ہوئے کہاکہ انہو ں نے ہونٹوں پر اپوزیشن کے لئے مخالفت ضرور رکھی لیکن دل میں اس کے لئے غصہ نہیں رکھا۔ مسٹر واجپئی نے آزادی کی پچاسویں سالگرہ پر کہا تھا کہ پچاس سال میں ہم نے ترقی کی ہے اس انکار نہیں کرسکتے ۔ انتخابات میں حکومت کی تنقید کی جاتی ہے لیکن یہ کہنا ہے کہ ترقی نہیں ہوئی ہے ، ہمارے کسانوں اور مزدوروں کے ساتھ ناانصافی ہوگی اور عام آدمی کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔مسٹر آزاد نے اس کے ساتھ ہی سیاست میں مذہب اور ذات کے نام پر صف بندی اور سیکولر ازم کے بغیر ہندستان ، ہندستان نہیں رہے گا سے متعلق مسٹر واجپئی کے بیانات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ان کے بتائے ہوئے راستہ پر آگے چل سکیں تو یہ ان کے تئیں بڑا خراج عقیدت ہوگا۔ انہوں نے مسٹر واجپئی کی کچھ لائنیں بھی پڑھیں‘میرے پربھو ، مجھے اتنی اونچائی کبھی مت دینا ، غیروں کو گلے نہ لگا سکوں’۔اس سے قبل مسٹر تومر نے تقریب میں صدر، نائب صدر، لوک سبھا اسپیکر ، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈ ر کا استقبال کیا۔

Ads