Jadid Khabar

ملک میں بلوفلیم انقلاب رفتار پکڑ رہا ہے : مودی

Thumb

گریٹر نوئیڈا،11فروری (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہاکہ ہندستان تیزی سے سب کے لئے توانائی کی طرف بڑھ رہا ہے اور ملک میں بلو فلیم انقلاب رفتار پکڑ رہا ہے ۔مسٹر مودی نے یہاں پٹرولیم ٹکنالوجی پر منعقدہ 13ویں کانفرنس ‘پیٹروٹیک۔2019’ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ توانائی اقتصادی ترقی کی اہم بنیاد ہے ۔ اس کے ذریعہ غریب بھی ترقی میں حصہ دار ہوسکتے ہیں۔ اہم ایسے دور میں داخل ہورہے ہیں جہاں سب کے لئے توانائی دستیاب ہوگی۔ ہندستان اس سمت میں قیادت کررہا ہے اور دنیا کے کئی ملک ہمارے تجربے سے سیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ توانائی کے انصاف میں یقین رکھتے ہیں ۔ توانائی تک سب کی پہنچ یقینی کرنے کی سمت میں حکومت کی کوششوں کے نتائج بھی نظر آنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے ہر گاوں تک بجلی پہنچ چکی ہے اور اس برس کے آخر تک ہر گھر تک پہنچ جائے گی۔ بڑے پیمانہ پر ایل ای ڈی بلبوں کے استعمال سے لوگوں کے بجلی کے بل میں مجموعی طورپر سالانہ 17ہزار کروڑ روپے کی بچت ہورہی ہے ۔ اجولا یوجنا کے تحت چھ کروڑ چالیس لاکھ کنبوں کو رسوئی گیس کنکشن دے ئے گئے ہیں۔ بلو فلیم انقلاب رفتار پکڑ رہا ہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ 2014میں 55فیصد کنبوں کے پاس رسوئی گیس کنکشن تھے جو اب بڑھ کر 90فیصد ہوگئے ہیں۔ جلد ہی اس کے صد فیصد پر پہنچنے کی امید ہے ۔کانفرنس میں موجود پٹرولیم مصنوعات ممالک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ‘تیل اور گیس صرف کاروبار کی چیز نہیں ہیں۔ یہ لوگوں کی روزمرہ کی ضرورت ہیں۔ خواہ رسوئی میں کھانا پکانا ہو یا طیارہ اڑانا، سب کے لئے ایندھن کی ضرورت ہے ۔ ہمیں ان کی مناسب قیمتوں کی طرف بڑھنا ہوگا۔ تیل او رگیس دنوں کے لئے ہی شفاف اور لچکدار مارکٹ تیار کرنی ہوگی۔مسٹر مودی نے کہاکہ ہندستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا توانائی کا گاہک ملک ہے ۔ ملک میں توانائی کی مانگ سالانہ پانچ فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے اور 2040تک اس کے دوگنا ہونے کااندازہ ہے ۔ سب کے لئے توانائی یقینی کرنے کیلئے حکومت نے پالیسی سطح پر بھی کافی کوششیں کی ہیں۔ تیل او رگیس بلاکوں کے الاٹمنٹ میں آمدنی شراکت کی شروعات کی گئی ہے ۔ گیس کی قیمت طے کرنے کے نظام میں سدھار کیا گیا ہے ۔ تیل مارکٹنگ شعبہ میں نرمی لائی گئی ہے ۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو کنٹرول سے آزاد کیا گیا ہے ۔ گزشتہ برس قومی بایو ایندھن پالیسی بنائی ہے ۔ ایندھن میں ایتھینول ملانے اور بایو ڈیزل پروگراموں سے آلودگی کم ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندستان تیزی سے گیس پرمبنی معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ 16ہزار کلومیٹر گیس پائپ لائن بچھائی جاچکی ہے اور گیارہ ہزار کلومیٹر گیس پائپ لائن بچھانے کا کام چل رہا ہے ۔ مشرقی ہندستان میں 3,200کلومیٹر گیس پائپ لائن بچھانے کا کام شروع ہوچکا ہے ۔ ایک مہینہ کے اندر 400اضلاع میں پائپ لائن کے ذریعہ گیس سپلائی کا نظام تیار کرلیا جائے گا۔ شہری گیس تقسیم کے دائرے میں 70فیصد آبادی شامل ہوجائے گی۔وزیراعظم نے کہاکہ تیل اور گیس سیکٹر میں اس وقت تبدیلی کا دور ہے ۔ سپلائی ، ذریعہ اور کھپت کے طور طریقے بدل رہے ہیں۔ پہلے جہاں مغربی ملک سب سے بڑ ے صارفین ہوتے تھے اب مشرق اس کی جگہ لے رہا ہے ۔ شیل آئل کے بعد امریکہ سب سے بڑا تیل کی پیداوار کرنے والا ملک بن گیا ہے ۔ شمسی اور قابل تجدید توانائی کی قیمت مسابقتی ہوئی ہے ۔توانائی کی کھپت میں گیس کی حصہ دار بڑھ رہی ہے ۔وزیراعظم مودی نے کہاکہ ہندستان اپنی توانائی سیکورٹی یقینی کرنے کے لئے روایتی گاہک۔فروخت کنندہ معاہدوں کے بجائے اسٹریٹجک شراکت داری کی طرف بڑھا ہے ۔ ہر دو برس میں ہونے والی اس کانفرنس میں تیل او رگیس کے شعبہ کی ایک بین الاقوامی ہستی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا جاتا ہے ۔ اس برس متحدہ عرب امارات کے وزیر اور ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کے چیف ایکزیکیوٹیو افسر ڈاکٹر سلطان احمد الجبر کو یہ اعزاز دیا گیا۔ وزیراعظم نے انہیں توصیفی سند دی۔َخیال رہے کہ مودی حکومت میں متحدہ عرب امارات سے ہندستان کو خام تیل کی سپلائی بڑھی ہے اور ایران پرامریکی پابندی کے اندیشہ سے کے پیش نظر یہ اہم ہے ۔اس موقع پر پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر دھرمیندر پردھان نے کہاکہ افریقہ اور جنوبی ایشیا کے ممالک میں توانائی تک لوگوں کی پہنچ نہیں ہونے کی وجہ سے ترقی میں رخنہ پڑا ہے ۔یہ کانفرنس اس سے وابستہ چیلنجوں او ر حل پر بات چیت کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے ۔یہاں 800سے زیاد ہ نمائندوں نے اپنے اسٹال لگائے ہیں۔

Ads