Jadid Khabar

’’میری جدوجہد حق کے لئے ۔خیرات کے لئے نہیں ‘‘:چندرابابو

Thumb

نئی دہلی۔ 11فروری (یو این آئی) نریندر مودی زیر قیادت بی جے پی حکومت کے خلاف جدوجہد کی کوشش کے طور پر آندھراپردیش کے وزیراعلی و تلگودیشم پارٹی کے سربراہ این چندرابابونائیڈو نے قومی دارالحکومت میں احتجاج اور ایک روزہ بھوک ہڑتال کی۔ مسٹرنائیڈو جو آندھراپردیش کو خصوصی درجہ دینے کے مطالبہ کو مرکز کی جانب سے مسترد کئے جانے کے بعد مودی کے ساتھ لڑائی کے موڈ میں ہیں’ این ڈی اے حکومت کے خلاف پیر کو صبح 8بجے سے دہلی کے آندھرابھون میں احتجاج کا آغازکیا۔ اس ایک روزہ احتجاج کو انصاف کے لئے احتجاج کا نام دیا گیا ہے ۔مسٹرچندرابابو نائیڈو صبح راج گھاٹ پہنچے اور وہاں خراج کی پیشکشی کے بعد آندھراپردیش بھون گئے جہاں انہوں نے ڈاکٹر امبیڈکرکے مجسمہ پر پھول نچھاور کئے اور اس احتجاج کا آغاز کردیا۔چندرابابونائیڈو اے پی سے ناانصافی کے خلاف بطور احتجاج سیاہ شرٹ پہنے ہوئے تھے ۔اس احتجاجی مقام پر گاندھی جی ، امبیڈکر اور تلگودیشم پارٹی کے بانی این ٹی راماراو کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔ آندھراپردیش کے وزرائ’ ارکان پارلیمنٹ’ ارکان اسمبلی’ ارکان کونسل’ ملازمین کی تنظیموں’ طلبہ تنظیموں سے وابستہ افرادبھی اس ایک روزہ احتجاج میں نائیڈو کے ساتھ ہیں۔نائیڈو 12فروری کو صدرجمہوریہ رام ناتھ کوئند سے بھی ملاقات کریں گے ۔چندرابابو نائیڈو جو این ڈی اے چھوڑنے کے بعد مودی کے کٹر مخالف ہوگئے ہیں’ مرکز کے خلاف تب ہی سے احتجاج کررہے ہیں۔ وہ قومی سطح پر بی جے پی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے میں آگے ہیں۔مسٹر چندرابابونائیڈو کے دہلی میں احتجاج کے سلسلہ میں حکومت آندھراپردیش نے دو ٹرینوں کو کرایہ پر حاصل کیا تھا جس کے لئے ایک کروڑ روپئے سے زائد کی رقم دی گئی ہے ۔ یہ ٹرینیں اننت پور اور سریکاکلم سے روانہ ہوئیں ۔ ساوتھ سنٹرل ریلوے سکندرآباد سے دو خصوصی ٹرینیں کرایہ پر حاصل کی گئی تھین۔ ہر ٹرین میں 20کمپارٹمنٹس تھے ۔ پہلی ٹرین اننت پور اور دوسری ٹرین سریکاکلم سے 10فروری کو دہلی کے روانہ ہوئی۔ ان ٹرینوں میں چندرابابو کے احتجاج میں شامل ہونے کے تلگودیشم کے دلچسپی رکھنے والے لیڈران کے ساتھ ساتھ مختلف تنظیموں’ این جی اوز کے رہنما قومی دارالحکومت روانہ ہوئے جنہوں نے دہلی میں چندرابابو کے احتجاج میں شامل ہوکر ان سے یگانگت کا اظہا رکیا ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چندرابابونا ئیڈو نے کہا ‘‘اگر آپ ہمارے مطالبات پورے نہیں کریں گے ،تو ہم یہ جانتے ہیں کہ کس طرح ان کو پوراکروایا جائے ۔یہ اے پی کے عوام کی عزت نفس کا معاملہ ہے ۔جب کبھی بھی ہماری عزت نفس پر حملہ ہوتا ہے توہم اس کو برداشت نہیں کرتے ۔میں اس حکومت بالخصوص وزیراعظم کو انتباہ دیتا ہوں کہ وہ انفرادی حملوں کو روک دیں۔ہم مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کے لئے یہاں آئے ہیں ۔وزیراعظم نے اس دھرنے سے ا یک دن پہلے اے پی کے ضلع گنٹورکا دورہ کیا ،میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس کی کیا ضرورت تھی’’۔ انہوں نے کہاکہ اے پی سے ناانصافی کی گئی اور اس کو خصوصی درجہ نہیں دیا گیا جس کے نتیجہ میں یہ بھوک ہڑتال کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا‘‘میری جدوجہد حق کے لئے ۔خیرات کے لئے نہیں ’’۔انہوں نے کہاکہ گودھرا واقعہ کے بعد اس وقت کے وزیراعظم واجپئی نے واضح کیا تھا کہ حکمرانوں کو دھرما کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے ۔انہوں نے کہا تھا کہ گجرات میں اس دھرما کی خلا ف ورزی کی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ متحدہ آندھراپردیش کی تقسیم کے بعد موجودہ آندھراپردیش کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ معاشی طورپر مستحکم حیدرآباد شہر تلنگانہ کے حصہ میں چلاگیا ہے ۔اے پی تنظیم نو قانون کے 18وعدے ہیں جن کو پورا کرنے کی ضرورت ہے ۔اس وقت تمام سیاسی جماعتوں نے اس مسئلہ کو اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ موجودہ اے پی کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے ۔اس ریاست کے معاشی استحکام کے لئے اے پی کو خصوصی درجہ دینے کی ضرورت ہے جس کے ذریعہ ہی اے پی کی بقا ہوسکے گی۔اس پر اُس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے اے پی کوپانچ برسوں تک خصوصی درجہ کا اعلان کیا تھا۔اس وقت اسی وزیرفائنانس جو اس وقت راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر تھے ، کے ساتھ ساتھ وینکیا نائیڈو جو موجودہ طور پر نائب صدر جمہوریہ ہیں، نے راجیہ سبھا کے پریسائیڈنگ افسر تھے ۔ان دونوں نے دس برسوں کے لئے اے پی کو خصوصی درجہ کا مطالبہ کیا تھا۔چندرابابو نے کہا کہ وہ ان سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب دس سال کے لئے اے پی کو خصوصی درجہ کامطالبہ کیا گیا تو موجودہ حکومت اس وعدہ کو کیوں پورا نہیں کر رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے بندیل کھنڈ پیکیج کی طرز پر پسماندہ خطہ رائل سیما اورشمالی آندھراپرکے سات اضلاع کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا تھا۔اس کا مطالبہ گزشتہ چار برسوں سے کیاجارہا ہے تاہم یہ رقم ہنوز اے پی کو نہیں دی گئی ۔ہر ضلع کے لئے 50کروڑ روپئے ہر سال دینے رضامندی ظاہر کی گئی ،یہ رقم تین سال دی گئی تاہم چوتھے سال یہ رقم جاری کی گئی اور اے پی کے اکاونٹ میں بھی یہ رقم آگئی تاہم مرکزی حکومت نے اس رقم کو واپس لے لیا۔یہ مرکزی حکومت کی غیر منصفانہ من مانی ہے ۔وشاکھاپٹنم کے لئے ریلوے زون کا بھی وعدہ کیا گیا تھا ،اس وعدہ کو بھی پورا نہیں کیا گیا۔کڑپہ ،ریاست کا پسماندہ ترین ضلع ہے ،جہاں پر اسٹیل پلانٹ کے قیام کا وعدہ مرکز نے کیا تھا اس وعدہ کو بھی پورا نہیں کیا گیا۔پٹرو کمیکل کاریڈارکا بھی اے پی کے لئے وعدہ کیا گیا تھا اس وعدہ کی بھی تکمیل نہیں کی گئی۔پولاورم پروجیکٹ کے لئے بھی رقم دینے کا وعدہ اس وقت کی منموہن سنگھ حکومت نے کیا تھالیکن یہ رقم نہیں دی گئی۔اس پروجیکٹ کا 65فیصد کام مکمل ہوگیا ہے ۔حیدرآباد کی طرز پر نئے دارالحکومت کی تعمیر کے لئے پانچ لاکھ کروڑ روپئے کی ضرورت ہے ۔اس کی تکمیل کے لئے 20سال لگیں گے ۔اس حکومت نے 2ہزار 500کروڑ روپئے اس مقصد کے لئے دینے کا وعدہ کیاتھا۔
انہوں نے اے پی کے عوام کے احساسات کو ٹھیس پہنچانے پر مودی کو انتباہ دیا ۔انہوں نے کہاکہ ‘‘ہم جانتے ہیں کہ ہماری عزت نفس کو ٹھیس پہنچانے والوں کو کس طرح سبق سکھایا جائے ۔اگر آپ اپنی اصلاح نہیں کریں گے تو آپ کی پارٹی کا اے پی سے مکمل طورپر صفایا ہوجائے گا۔پارلیمنٹ میں تصرف بل کی پیشکشی میں ابھی تین دن باقی ہیں ۔ان تین دنوں میں آپ اپنی غلطی کی اصلاح ،اے پی کے عوام سے معذرت خواہی کرسکتے ہیں ۔’’چندرابابو نائیڈو نے مودی سے خواہش کی کہ وہ اے پی سے وصول ٹیکس کی تفصیلات کو عوام کے سامنے رکھیں ۔انہوں نے کہا ‘‘ہم انصاف مانگ رہے ہیں ۔ہم بھی اس ملک کا حصہ ہیں۔میں قومی میڈیا سے خواہش کرتا ہوں کہ وہ ہم سے یگانگت کا اظہار کرے ۔یہ ہمار ا فرض ہے کہ ہم ان کو یا د دلائیں کہ وہ راج دھرما کا تحفظ نہیں کر رہے ہیں۔مرکزی حکومت سے ہم کو کافی مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔ہم یہاں ملک کو جوڑنے کے لئے آئے ہیں۔بی جے پی یہاں ملک کو توڑنے کاکام کر رہی ہے ۔‘‘

Ads