Jadid Khabar

آلوک ورما کےخلاف بدعنوانی کا کوئی ثبوت نہیں: سی وی سی

Thumb

نئی دہلی،12جنوری(ایجنسی) سی بی آئی کیس میں آلوک ورما کو سی بی آئی کے ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹائے جانے کو لے کر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اے کے پٹنائک نے میڈیاسے کہا کہ آلوک ورما کے خلاف بدعنوانی کی کوئی ثبوت نہیں ہے۔جسٹس پٹنائک نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت والے پینل کے ذریعہ آلوک ورما کو ہٹانا بہت جلدی میں لیا گیا فیصلہ تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی وی سی کے نتائج میرے نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ آلوک ورما کے خلاف تحقیقات مکمل طور پر سی بی آئی کے اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ کی شکایت پر مبنی تھی۔ آلوک ورما کے خلاف مرکزی ویجلنس کمیشن (سی وی سی) کی طرف سے مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کی نگرانی ذمہ اے کے پٹنائک کو ہی مقرر کیا گیا تھا۔دراصل جمعرات کو وزیر اعظم مودی کی قیادت میں انتخابات کمیٹی نے2-1کے فیصلے سے آلوک ورما کو سی بی آئی کے ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ تاہم ملکا ارجن کھڑگے نے اس فیصلے کی مخالفت کی، وہیں سی جے آئی رنجن گگوئی کے نمائندے کے طور پر کمیٹی میں شامل جسٹس سیکری نے پی ایم مودی کے فیصلے کی حمایت کی تھی۔ سی بی آئی سے ہٹانے کے بعد آلوک ورما کو وزارت داخلہ کے تحت فائر بریگیڈ شہری دفاع اور ہوم گارڈس ڈائریکٹر مقرر کیا گیا، جسے لینے سے انہوں نے انکار کر دیا اور جمعہ کو انہوں نے سروس سے استعفیٰ دے دیا۔آلوک ورما نے استعفیٰ میں لکھا- سلیکشن کمیٹی نے انہیں ہٹانے کا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی بات سلسلہ وار طریقے سے رکھنے کا موقع نہیں دیا، جیسا کہ سی وی سی میں ریکارڈ ہوا تھا۔ مجھے سی بی آئی کے ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور اس عمل میں قدرتی انصاف کا گلا گھونٹا گیا اور پورے عمل کو الٹ پلٹ دیا گیا۔سلیکشن کمیٹی نے اس حقیقت پر غور نہیں کیا کہ سی وی سی کی مکمل رپورٹ ایک ایسے شکایت کرنے والے کے الزامات پر مبنی تھی جو خود سی بی آئی جانچ کے گھیرے میں ہے۔ آلوک ورما نے اپنے خط میں کہا کہ یہ ’’اجتماعی خودنظم وضبط‘ کا لمحہ ہے۔ واضح رہے کہ سی بی آئی ڈائریکٹرکے انچارج فی الحال اضافی ڈائریکٹر ایم ناگیشور راؤ کے پاس ہے۔ وزیر اعظم مودی کی صدارت والی اعلیٰ سطحی کمیٹی میں لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملکا ارجن کھڑگے اور جسٹس اے کے سیکری ہیں۔ جسٹس سیکری کو چیف جسٹس رنجن گگوئی نے اپنے نمائندے کے طور پر مقرر کیا ہے۔

Ads