Jadid Khabar

ڈی ایم کے پارٹی کبھی بی جے پی سے اتحاد نہیں کرے گی: اسٹالن

Thumb

چنئی، 11 جنوری (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے آئندہ لوک سبھا انتخابات میں اتحاد کے مقصد سے بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) کے ساتھ شامل ہونے کی پیش کش کے دوران تمل ناڈو میں اپوزیشن ڈراوڑ متنر کژگم (ڈی ایم کے ) نے جمعہ کو بی جے پی سے کسی بھی طرح کے تال میل کے امکان کو واضح طور پر خارج کردیا۔ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کے اسٹالن نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ ‘‘میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ڈی ایم کے کبھی بھی بی جے پی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی’’۔مسٹر اسٹالن نے وزیراعظم نریندر مودی کی پانچ ضلعوں کے بی جے پی بوتھ کارکنوں کے ساتھ جمعرات کو ویڈیو کانفرنسنگ کے دوران کی گئی اس رائے کو ‘حیرت انگیز’ اور ‘عجیب وغریب’ قرار دیا ہے جس میں انہوںنے کہا تھا کہ پارٹی 20 سال پہلے آنجہانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی جانب سے دکھائی گئی سیاسی ثقافت کو اپنارہی ہے اور اپنے پرانے دوستوں کے لئے اتحاد کے لئے بی جے پی کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسٹر نریندر مودی نے مسٹر واجپئی، جنہیں وزیراعلی اور دراوڑ منتر کزگم کے سربراہ ایم کروناندھی ‘صحیح شخص غلط پارٹی میں’ میں بتاتے تھے ، سے اپنا موازنہ کرکے نہ صرف ‘مضحکہ خیز’ بلکہ ‘عجیب وغریب’ صورت حال پیدا کررہے ہیں جو شاید ان کے انتخابی مہم کی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ڈی ایم کے لیڈر نے مسٹر مودی کے گزشتہ چار برسوں کے دور اقتدار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران وزیراعظم مودی نے ملک کے اتحاد کو مضبوط کرنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے بلکہ نفرت کے بیج بوئے اور سماجی انصاف کو دفن کردیا۔خود کو پسماندہ ذاتوں اور آدی واسیوں کا دوست کہتے ہوئے تمل ناڈو کے مفادات کو نظرانداز کیا، وفاق کے اصول کو ختم کردیا اور سبھی سرکاری اداروں کو اپنے پیروں کے نیچے کچل دیا۔

Ads