Jadid Khabar

لیبیا میں جو ہوا وہ بغاوت نہیں ایک جنگ تھی: قذاف الدم

Thumb

طرابلس،8جنوری ( ایجنسی) لیبیا کے مقتول لیڈر معمر القذافی کے چچا زاد احمد قذاف الدم نے کہا ہے کہ لیبیا میں جو کچھ ہوا وہ عوامی بغاوت نہیں ایک جنگ تھی جس نے سب کچھ تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لیبیا کو قذافی کے حامی متحدہ رکھ سکتے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کیمطابق احمد قذاف الدم نے مصر سے "الحدث" چینل سیبات کرتے ہوئے کہا کہ قذافی کے حامی قبائل اور دیگر قوتیں تیونس میں قومی اتفاق رائے اور قومی یکجہتی کے لیے ہونے والی کانفرنس میں بھرپور شرکت کریں گی۔خیال رہیکہ گذشتہ دسمبرکے وسط میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ لیبیا میں 8 سال سے جاری لڑائی ختم کرنے اور ایک جامع مصالحتی عمل کے لیے ملک کی بیشتر سیاسی قوتوں پر مشتمل ایک کانفرنس تیونس کی میزبانی میں ہو رہی ہے۔ اس کانفرنس میں سابق لیبی مرد آہن کرنل معمر قذافی کے حامی بھی شرکت کریں گے۔ یہ کانفرنس لیبیا میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات سیقبل ہو رہی ہیتاکہ انتخابات کے موقع پرملک کو پرامن رکھا جاسکے۔ایک سوال کے جواب میں احمد قذاف الدم نے کہا کہ لیبیا کے تقریبا تمام طبقات اور نمائندہ قوتیں تیونس میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جماعت نہیں بلکہ 11 تنظیموں اور کئی قبائل پرمشتمل اتحاد ہیں۔احمد قذاف الدم کا کہنا تھا کہ لیبیا کو موجودہ افراتفری سے نکالنیاور بچانے کوا بہتر ذریعہ یہی ہے کہ ہم سب متحد ہو جائیں۔ اس لیے ہم نے تیونس میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپیل کرتے ہیں کہ کرنل قذافی کے دور حکومت ان کے ساتھ رہنے والی لیبی قیادت کو اندرون اور بیرون ملک جہاں? بھی ہے رہا کیا جائے اور ان کے خلاف قائم مقدمات ختم کیے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کا اصل ہدف لیبیا کا استحکام اور اس کی خوش حالی ہے۔احمد قذاف الدم نے لیبیا کے موجودہ حکمران طبقے پر شدید تنقید کی اور ان کی آئینی حیثیت کو بھی مشکوک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا میں جو کچھ ہوا وہ انقلاب نہیں بلکہ بیرون ملک سے مسلط کی گئی ایک جنگ تھی۔ غیرملکی میزائل آئینی حیثیت حاصل نہیں کرسکتے۔ اس لیے غیروں کے اشاروں پر لیبیا میں حکومت کرنے والوں کوہم نے مسترد کردیا ہے۔کرنل قذافی کے بیٹے سیف الاسلام القذافی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں احمد قذاف الدم کا کہنا تھا کہ سیف الاسلام لیبیاکے لیڈر ہیں۔ انہوں نے قید کاٹی اور معافی پر رہائی حاصل کی۔ وہ لیبیا کو مستحکم اور پرامن رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Ads