Jadid Khabar

مرکزی سرکار نے الیکشن کمیٹی سے صلاح کیو ں نہیں لی:سپریم کورٹ

Thumb

نئی دہلی،6دسمبر(ایجنسی)سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما سے حقوق واپس لینے اور انہیں چھٹی پر بھیجنے کے سرکار کے فیصلے کے خلاف ان کی درخواست پر آج بھی سپریم کورٹ میں سنوائی ہوئی۔اس دورا ن کورٹ نے کہا کہ سرکار کی کارروائی کی جذباتی جگہوں کے ہت میں ہونی چاہئے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ سی بی آئی کے دو افسران کا جھگڑا  راتوں رات سامنے آیا۔ساتھ ہی کورٹ نے کہا کہ ڈائریکٹر آلوک ورما سے حقوق لینے سے پہلے مرکزی سرکار نے الیکشن کمیٹی سے صلاح کیو ں نہیں لی۔ سرکار کو صلاح ومشورہ لینے میں کیا دقت تھی۔اس معاملے میں غیر سرکاری تنظیم کامن کاج لوک سبھا میں اپوزیشن کی سب سے بڑی کانگریس کے لیڈر ملکا ارن کھڑگے اور دوسرے لوگوں نے بھی درخواست دائر کررکھے ہیں۔واضح رہے کہ بدھ کو مرکزی سرکار نے سپریم کورٹ میں کہا کہ سی بی آئی کے دوسب سے اعلیٰ افسران کے درمیان چھڑی جنگ میں مداخلت کرنا ضروری ہوگیاتھا۔افسران کی لڑائی سے ایجنسی کی شبیہ دھندھلی ہورہی تھی اس لئے یہ کارروائی کرنی پڑی۔ مرکز کی طرف سے اٹارنی جنرل  کے کے وینو گوپال نے چیف جسٹس رنجن گگوئی کی صدارت والی تین بینچ کے سامنے اپنی رکھتے ہوئے کہا کہ دونوں افسران بلیوں کی طر ح آپس میں لڑرہے تھے اور ان کے جھگڑے کی وجہ سے ملک کی اعلیٰ جانچ  ایجنسی کی حالت بیحد مضحکہ خیز ہوگئی تھی۔

Ads