Jadid Khabar

شیلٹر ہوم سے لڑکیوں کا غائب ہونا پولیس کیلئے بنی پہیلی

Thumb

نئی دہلی،6دسمبر(ایجنسی)سنسکار آشرم نام کے شیلٹر ہوم سے غائب ہوئی لڑکیوں کو 72گھنٹے سے بھی زیادہ وقت بیت چکے ہیں۔لیکن نہ سرکار کو پتہ ہے اور نہ ہی پولیس کو کہ آخر لڑکیاں کہاں گئیں۔یہ لڑکیاں محفوظ ہیں یا نہیں۔ملک میں ہیں یا نیپال یا پھر کسی حادثے کی شکار ہوگئیں یا کہیں چھپی ہوئی ہیں۔ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔جانچ کے نام پر سرکار اور پولیس ایجنسی جانچ کا دعویٰ کررہے ہیں۔لیکن اسی بیچ یہ بھی پتہ ہے کہ اس آشرم میں مظفر پور شیلٹر ہوم کی طرز پر ہنومن ٹریفکنگ ہوتی ہیں۔سوال یہ بھی اٹھا ہے کہ کیا اس آشرم میں جسم فروشی کا دھندہ ہوتا ہے۔پولیس کی جانچ میں آیا ہے کہ جولڑکیاں آشرم سے فرار ہوئی ہیں ان میں سے چھ لڑکیاں جی بی روڈ سے آزاد کرائی گئی تھیں۔یہی نہیں اتنی اونچی دیوار اور سی سی ٹی وی کی زد کے باوجودان کا آرام سے نکل جانا آشرم پر کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔پولیس کو اندیشہ ہے کہ کیونکہ یہ لڑکیاں وہاں پر نیپال سے بہلا پھسلا کر لائی گئی تھی اور پھر انہیں جی بی روڈ کے کوٹھے پر بیچ دیاگیاتھا۔بتایا جاتا ہے کہ انہیں میں سے ایک نابالغ لڑکی نے خواتین کمیشن سے شکایت کی تھی جس کے بعد کوٹھے میں ریڈمار کر انہیں چھڑایا گیا تھااور اس کے بعد انھیں دہلی کے سنسکار آشرم نام کے شیلٹر ہوم میں بھیجا گیاتھا۔ قیاس ہے کہ آشرم میں پہنچنے کے بعد بھی یہاں ان سے وہیں سب کرایاجانے لگا جو جی بی روڈ پر ہوتا تھا۔ اس لئے یہ موقع دیکھ کر فرار ہوگئی۔اس معاملے میں پولیس کے سینئر افسران نے کہاکہ یہ قیاس ہے۔دلشاد گارڈن واقع دہلی سرکار کے سنسکار آشرم سے غائب ہوئی لڑکیوں کے معاملے میں سخت کارروائی کی مانگ کو لیکر دھرنا ومظاہرہ کیاتھا۔دھرنے کا منصوبہ بی جے پی نوین شاہدرہ ضلع کی طرف سے سنسکار مرکز کے سامنے کیاگیا۔دھرنے کی صدارت کیلاش جین نے کی۔ان کے ساتھ ڈاکٹرشوبھا وجیندر،خاتون مورچہ کی صدارت مدھو سسودیا،ضلع پریشد سمن لتا ناگر،بیر سنگھ بوار، پنیت شرما وغیرہ نے خطاب کیا۔جین نے کہا کہ خواتین حفاظت کاوعدہ کر بنی کجریوال سرکارخواتین متاثرہ کی اختیارات  بن چکے ہیں۔ دہلی سرکار کے کئی وزراء اور ایم ایل اے خواتین متاثرہ کے مقدموں میں پھنس چکے ہیں اور جیل جاچکے ہیں۔خود سی ایم  اپنی ہی پارٹی کے کارکن سونی مشرا کی خودکشی کے لئے سرخیوں میںبنے رہے۔بچیوں کا غائب ہونایہ ثابت کرتا ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں پوری دال کالی ہے۔

Ads