Jadid Khabar

آشیانہ ہاؤسنگ معاملہ، شہباز شریف کو جیل

Thumb

اسلام آباد، 6 دسمبر (یو این آئی) پاکستان میں لاہور کی ایک قومی احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم معاملے میں پاکستان مسلم لیگ۔نواز کے صدر شہباز شریف کو جمعرات کو عدالتی حراست میں جیل بھیج دیا گیا۔ مسٹر شہباز شریف کو قومی احتساب بیورو (این اے بی) نے 15 اکتوبر کو گرفتار کیا تھا اور تب سے کئی مرتبہ ان کی حراست میں توسیع کی جاچکی ہے ۔پچھلی مرتبہ 28 نومبرکو ان کی حراستی مدت میں توسیع کی گئی تھی۔ ان کی 8 دنوں کی حراستی مدت آج ختم ہونے کے بعد عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جہاں این اے بی نے ان کی حراست کو مزید بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ عدالت نے این اے بی کی حراست کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے انہیں عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ اب ان کی اگلی پیشی 13 دسمبر کو ہوگی۔مسٹر شریف کے وکیل امجد پرویز نے بتایا کہ ان کے موکل کے 2011 سے 2017 تک کے مالی لین دین ٹیکس رٹرن کے ریکارڈ میں واضح کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘ٹیکس قانون کے تحت شہریوں کو ملے تحفوں کی تفصیلات پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔’’انہوں نے کہا کہ مسٹر شہباز شریف نے اپنے نجی کھاتے سے پیسے نکالے ہیں جو کہ پاکستانی قانون کے تحت جرم نہیں ہے ۔ انہوں نے دلیل دی کہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مسٹر شہباز شریف اپنی آمدنی سے زیادہ کچھ خرچ کیا ہے ۔مسٹر پرویز نے کہا کہ اگر مسٹر شہباز شریف اپنے ٹیکس رٹرن سے زیادہ خرچ کرتے ہیں تو یہ جرم ہوتا۔ انہوں نے عدالت سے این اے بی کی حراست میں توسیع کے مطالبے کو مسترد کرنے کی اپیل کی۔انہوںنے کہا کہ مسٹر شہباز شریف کو بدعنوانی کے معاملے میں اس لئے ملزم بنایا گیا ہے کیونکہ وہ سیاست داں اور پنجاب کے سابق وزیراعلی ہیں۔این اے بی کے پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے عدالت کو جانچ کی پیش رفت کے تعلق سے بتایا اور 15 دنوں کے ریمانڈ کا مطالبہ کیا۔ بیورو کے مطابق مسٹر شریف نے پنجاب کے و زیراعلی کے عہدے پر رہتے ہوئے اپنے عہدے اور اختیارات کا غلط استعمال کیا تھا۔

Ads