Jadid Khabar

مایا وتی کا بی جے پی پر آئین کو ناکام بنانے کا الزام

Thumb

نئی دہلی، 6 دسمبر (یواین آئی) بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی نے جمعرات کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت پر آئین کو ناکام بنانے کے سازش رچنے کا الزام لگایا اور کہا کہ جمہوریت اور محروم طبقات کو طاقت دینے والے ہر آئینی اور خود مختار اداروں کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے ۔محترمہ مایاوتی نے یہاں پارٹی دفتر میں آئین ساز بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے مھاپری نروا دن پر منعقد ایک پروگرا م میں کہا کہ بی جے پی کی موجودہ مرکزی حکومت اپنے پورے دور حکومت میں محروم طبقوں کی مکمل طور سے نظراندازکرنے کے ساتھ ساتھ بابا صاحب ڈاکٹر امبیڈکر کے آئین کو ہی ہر طرح سے ناکام کرنے کی سازش میں ہی لگی رہی اور اس سلسلہ میں ان طبقوں کی جدوجہد کو طاقت اور جمہوریت کو قوت فراہم کرنے والے ہر آئینی اور خود مختار اداروں کا انتہائی غلط استعمال کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی مرکز اور ریاستی حکومتوں نے اپنی سطحی نسل پرست اور فرقہ وارانہ پالیسیوں اور خاص طور پر اپنی غریب، مزدور اور کسان مخالف پالیسیوں اور رویوں پر اڑیل رویہ اپنا کر اپنے گھمنڈی ہونے کا ہی ثبوت دیا ہے ۔ بحران جھیل رہے کسان، کھیتوں اور کاشتکاروں کے معاملات میں تو اس حکومت کی پالیسی اور حکمت عملی بھی ایسی غلط اور خراب رہی ہے ۔ ملک کی تقریبا تمام ریاستوں میں کسان طبقہ کے لوگ بہت زیادہ مشتعل اور احتجاج و مظاہرہ پر آمادہ ہیں۔محترمہ مایاوتی نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت نے کسانوں کو پرکشش وعدوں میں بہکانے کی کوشش کی ہے ۔ کسان دکھ اور پریشانیوں کو جھیل کر تن، من کی پوری طاقت کے ساتھ حکومت کی غلط پالیسی اور رویہ کے خلاف مزاحمت کرنے کے لئے راجدھانی دہلی کی سڑکوں تک پر مارچ کرکے اپنا زبردست احتجاج اور غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں۔انھوے نے کہا کہ فصل انشورنس وغیرہ کے نام پر حکومت بڑے بڑے دعوے کرتی ہے لیکن سرکاری خزانے کو اربوں روپے پریمیم ادا کرنے کے نام پر پرائیویٹ سیکٹر کی انشورنس کمپنیوں کی جھولی میں ڈالا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اپنے وعدہ خلافی اور ناکامیوں پر سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے رام مندر مہم میں لگ گئی ہے ۔مرکزی حکومت مفاد عامہ اور ملک کی تعمیر وغیرہ کی تمام آئینی فرائض اور ذمہ داریوں سے آزاد ہو کر مندر کی تعمیر کے کام میں لگی رہنے پر پابند عہد لگ رہی ہے ۔ بی ایس پی لیڈر نے کہا کہ ووٹوں اور انتخابی مفاد کی سیاست میں بی جے پی کے سینئر لیڈر ہندو دیوی دیوتاؤں اور عقائد کو بھی نہیں بخش رہے ہیں۔ ایسے لوگوں سے عام لوگوں کو بہت چوکنا اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے مرکز اور مختلف ریاستوں میں اپنے طویل دور حکومت کے دوران سروسماج کے غریبوں، مزدوروں، کسانوں اور دیگر محنت کش عوام کے ساتھ ساتھ کروڑوں دلتوں، پچھڑوں اور مسلم اور دیگر مذہبی اقلیتوں کو کبھی بھی ایمانداری اور خود داری سے زندگی جینے کا آئینی حق نہیں دیا۔صرف کاغذی کارروائی وغیرہ کرکے ان طبقوں کی حقیقی سیاسی، تعلیمی اوراقتصادی مفادات پر مسلسل نظر انداز کرتی رہی اور ان کی تعلیم اور کام میں ریزرویشن کوبھی تقریبا غیر مؤثر بنادیا۔

Ads