Jadid Khabar

حکومت کو ہندوستانی معیشت میں استحکام اور شفافیت کو بحال کرنا چاہئے :منموہن

Thumb

نئی دہلی،8نومبر(یواین آئی)اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیراعظم ماہر قتصادیات من موہن سنگھ نے کرنسی نوٹوں کی منسوخی کو 'بدقسمتی اور بیمارسوچ کا نتیجہ'قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا اثر ہر شخص،ہر عمر ،ہر صنف ،ہر مذہب اور کسی بھی کاروبار سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر بری طرح پڑا ہے ۔انہوں نے حکومت سے جمعرات کوکہا کہ وہ ہندوستانی معیشت میں یقین اور شفافیت کو بحال کرے ۔وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ کئے گئے نوٹوں کی منسوخی کے اعلان کو دو سال پورے ہونے پر مسٹر سنگھ نے ایک بیان میں حکومت ہندوستانی معیشت اور کاروباری بازاروں میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے ذمہ دار عناصر کوٹم کرنے کے لئے اقدامات نہیں کررہی ہے ۔مسٹر سنگھ نے کہا '''نریندر مودی حکومت کے ذریعہ 2016 میں ناٖفذ کی گئی نوٹوں کی منسوخی کی آج دوسری سالگرہ ہے ،''جسے بدقسمتی اور بیمار سوچ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ''ہندوستانی معیشت اور سماج پریہ پوری طرح سے واضح ہوچکاہے کہ نوٹوں کی منسوخی سماج کے ہر شخص ،ہر عمر ،ہر صنف ،ہر مذہب اور کسی بھی کاروبار سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر بلا تفریق اثر انداز ہوئی ہے ۔''انہوں نے مزید کہا،''ایسے غیر روایتی اور قلیل مدتی اقدامات نہ کرنا جو معیشت اور مالیاتی بازاروں میں مزید عدم استحکام کو روکنے میں معاون ثابت ہوں گے ،غلط ہے ۔میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہندوستانی معیشت کی پالیسیوں میں استحکام اور شفافیت کو بحال کرے ۔آج یہ یاد رکھنے کا دن ہے کہ معیشت کے سلسلے میں کئے گئے ایک خراب تجربے نے کس طرح طویل مدت کے لئے ملک کو بربادی کی طرف دھکیل دیا ہے اور یہ سمجھنے کی بھی بے حد ضرورت ہے کہ معیشت کی سمت پالیسی سازی اچھی طرح غوروفکراور احتیاط کے ساتھ کرنی چاہئے ۔''ڈاکٹر سنگھ نے کہا ''ایسا کہا جاتا ہے کہ وقت بڑا مرہم رکھنے والا ہے لیکن بدقسمتی سے نوٹوں کی منسوخی کے معاملے میں ایسا نہیں ہے بکہ اس سے ملے زخم وقت کے ساتھ اور زیاہ نظر آنے لگیں گے ۔اس کے علاوہ نوٹوں کی منسوخی سے جی ڈی پی کی ترقی کی شرح میں بھاری گراوٹ واقع ہوئی ہے اور اس کے اثرات وقت کے ساتھ اور زیادہ نامیاں ہوتے جارہے ہیں۔ہندوستانی معیشت کی بنیاد چھوٹی اور درمیانی صنعتیں نوٹوں کی منسوخی سے لگے جھٹکے سے ابھی تک ابھر نہیں پارہی ہیں۔اس قدم نے روزگار میں براہ راست اثر ڈالا ہے کہ کیونکہ معیشت نوجوانوں کے لئے روزگارکے مواقع پیداکرنے کی مسلسل کوشش کررہی ہے ۔مسٹر سنگھ نے مزید کہا ''ہم ابھی تک یہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ روپیہ قیمت کے گھنٹے کے ساتھ ساتھ عالمی بازار میں خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے ساتھ مجموعی طورپر نوٹوں کی منسوخی کا کیا اثر رہا ہے ۔

Ads