Jadid Khabar

مصر: گرجا گھروں پر بم حملوں کے جرم میں 17 افراد کو سزائے موت کا حکم

Thumb

قاہرہ،12اکتوبر ( ایجنسی ) مصر کی ایک فوجی عدالت نے 17 افراد کو قبطی مسیحی برادری کے گرجا گھروں پر خودکش بم حملوں کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے ان خودکش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔مصر کے دارالحکومت قاہرہ ، اسکندریہ اور نیل ڈیلٹا میں واقع شہر طنطا میں 2016 اور 2017 میں قبطی عیسائیوں کے گرجا گھروں پر خودکش بم حملے کیے گئے تھے جن کے نتیجے میں چوہتر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان بم دھماکوں کے بعد مصری حکومت نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی تھی۔مصر کے سکیورٹی حکام کے مطابق فوجی عدالت نے ان بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزام میں انیس افراد کو عمر قید اور دس کو دس سے پندرہ سال کے درمیان جیل کی سزا کا حکم دیا ہے۔یادرہے کہ 11 دسمبر 2016 کو قاہرہ کے قلب میں واقع سینٹ پیٹر اور سینٹ پال چرچ پر خودکش بم حملے میں انتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اپریل 2017میں پام سنڈے کی تقریبات کے موقع پر اسکندریہ اور طنطا میں عیسائیوں کے اجتماعات پر بم حملے کیے گئے تھے جن کے نتیجے میں پینتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔داعش کے جنگجو مصر میں قبطی عیسائیوں کے علاوہ مسلمانوں پر بھی خودکش حملے کرتے رہے ہیں۔انھوں نے گذشتہ سال نومبر میں جزیرہ نما سینائ￿  میں واقع ایک مسجد میں عبادت میں مصروف افراد پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی اور ا ن پر بم حملہ بھی کیا تھا۔۔اس تباہ کن حملے میں تین سو سے زیاد ہ نمازی جان کی بازی ہار گئے تھے۔

Ads